ایران: ہنگامے، الجزیرہ پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے الجزیرہ کی نشریات بند کر دی ہیں۔ ایران نے الجزیرہ کے خلاف الزام لگایا ہے کہ اس نے ملک کے جنوب میں اس کی عرب آبادی کو پر تشدد ہنگاموں پر اکسایا۔ گزشتہ چند روز کے دوران خوزستان میں ہونے والے نسلی فسادات میں تین افراد ہلاک ہوئے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ ہنگامے مبینہ طور پر حکومت کی طرف سے ایک منصوبے کے تحت علاقے کا نسلی تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کے انکشاف کے بعد شروع ہوئے۔ حکومت نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ الجزیرہ نے ایرانی حکومت کے فیصلے کو حیران کن اور بلا جواز قرار دیا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ ایران میں حالات حاضرہ کے بارے میں اچھے صحافتی معیار کے مطابق خبروں کی پالیسی پر کاربند رہیں گے۔ الجزیرہ ایران کے عرب نژاد باشندوں میں مقبول ہے۔ ایرانی حکومت ملک کے جنوب میں ہونے والے ہنگاموں کے بارے میں الجزیرہ سے جاری ہونے والی خبروں کے بارے میں تفتیش شروع کر رہی ہے۔ ایران کے وزیر ثقافت نے کہا ہے کہ الزام ثابت ہونے کی صورت میں الجزیرہ کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ ایرانی پارلیمان کے ارکان کا کہنا ہے الجزیرہ نے علاقے میں ہونے والے ہنگاموں کو علیحدگی پسند مظاہروں کے طور پر پیش کیا۔ لندن میں قائم ایران کے عرب شہریوں کی ایک تنظیم نے الجزیرہ کو بتایا کہ انہوں نے خوزستان پر ’ایرانی قبضے کے اسّی سال‘ کے حوالے سے مظاہروں کے لیے کہا تھا لیکن حکومت نے وہاں فوج تعینات کر دی۔ خوزستان کے دارالحکومت میں عرب باشندوں کی اکثریت ہے۔ لیکن یہ ایران کی کل آبادی کا تین فیصد ہیں۔ ایران کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن بحال ہو چکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||