ایران: اسقاطِ حمل کا بل منظور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی پارلیمان نے ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت حمل کے پہلے چار ماہ کے دوران رحم میں موجود بچے کے ذہنی یا جسمانی معذور ہونے کی صورت میں اسقاطِ حمل کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس سے قبل ایران میں ماں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو نے کی صورت میں ہی اسقاطِ حمل کی اجازت تھی۔ اس بل کے مطابق اسقاطِ حمل کے لیے ضروری ہے کہ ماں اور باپ اس کے خواہش مند ہوں اور تین ڈاکٹر یہ شہادت دیں کہ رحم میں موجود بچہ معذور ہے۔ یہ بل اب منظوری کے لیے نگران کونسل کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ یہ نگران کونسل ایک سپروائزری کمیٹی ہے جو کہ اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ مروجہ قوانین اسلامی قوانین سے متصادم تو نہیں۔ ایران کے مقامی میڈیا میں پیش کی جانے والی رپورٹوں کے مطابق ہر سال اسّی ہزار خواتین انتہائی مہنگے اور خطرناک غیر قانونی طریقوں سے اسقاطِ حمل کرواتی ہیں۔ تہران سے بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ ایران میں اب اس معاشرتی مسئلہ پر قابو پانے کے لیے متعلقہ جنسی تعلیم کی ترویج پر زور دیا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||