BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 April, 2005, 08:58 GMT 13:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران: اسقاطِ حمل کا بل منظور
 اسقاطِ حمل
ہر سال اسّی ہزار ایرانی خواتین غیر قانونی طریقوں سے اسقاطِ حمل کرواتی ہیں
ایرانی پارلیمان نے ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت حمل کے پہلے چار ماہ کے دوران رحم میں موجود بچے کے ذہنی یا جسمانی معذور ہونے کی صورت میں اسقاطِ حمل کی اجازت دے دی گئی ہے۔

اس سے قبل ایران میں ماں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو نے کی صورت میں ہی اسقاطِ حمل کی اجازت تھی۔

اس بل کے مطابق اسقاطِ حمل کے لیے ضروری ہے کہ ماں اور باپ اس کے خواہش مند ہوں اور تین ڈاکٹر یہ شہادت دیں کہ رحم میں موجود بچہ معذور ہے۔

یہ بل اب منظوری کے لیے نگران کونسل کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ یہ نگران کونسل ایک سپروائزری کمیٹی ہے جو کہ اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ مروجہ قوانین اسلامی قوانین سے متصادم تو نہیں۔

ایران کے مقامی میڈیا میں پیش کی جانے والی رپورٹوں کے مطابق ہر سال اسّی ہزار خواتین انتہائی مہنگے اور خطرناک غیر قانونی طریقوں سے اسقاطِ حمل کرواتی ہیں۔

تہران سے بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ ایران میں اب اس معاشرتی مسئلہ پر قابو پانے کے لیے متعلقہ جنسی تعلیم کی ترویج پر زور دیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد