 |  لالے تہران میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں۔ |
ایران کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کار ریسنگ میں حصہ لینے والی خواتین کو ایوارڈ دئیے جارہے ہیں۔ ایرانی خواتین میں کار ریسنگ روز بروز مقبول ہوتی جارہی ہے اور اس سال کے بڑے مقابلے میں تیس خواتین ڈرائیور نے شرکت کی۔ تاہم ایران میں کار ریسنگ میں خواتین کو مردوں سے علیحدہ درجے میں ایوارڈ دئیے جاتے ہیں۔ ایران کی سب سے بہترین خاتون کار ریسنگ ڈرائیور لالے سیدیگ کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ مردوں کو بھی پیچھے چھوڑ سکتی ہیں۔ اٹھائیس برس کی لالے کو، جو تہران میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں، ان کے چاہنے والوں نے مشہور جرمن کار ریسنگ چیمپئین کے نام پر’لٹل شوماکر‘ کا خطاب دیا ہے۔ پچھلے دو برس میں لالے ایران کی سب سے مشہور کار ریسنگ ڈرائیور کے طور پر سامنے آئی ہیں اور کئی مقابلوں میں انہوں نے مرد ڈرائیوروں کو بھی شکست دی ہے۔ لالے کا کہنا ہے کہ ’زیادہ تر مرد ان سے حسد کرتے ہیں لیکن انہیں اس کی پرواہ نہیں‘ اور وہ بس اپنا کام کرتی جائیں گی۔لالے کا کہنا ہے کہ ایران میں مردوں سے مقابلہ کرنا آسان کام نہیں لیکن وہ آیندہ برسوں میں محنت کرتی رہیں گی۔ اگرچے لالے سیدیگ کو ابھی اگلے ریسنگ مقابلوں میں مردوں کے ساتھ حصہ لینے کی اجازت کا انتظار ہے لیکن ان کے حوصلے اب بھی بلند ہیں۔ |