BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 21 February, 2005, 14:43 GMT 19:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلا (گ) کی سیاست

News image
انٹرنیٹ پر سیاست: قانونی یا غیر قانونی
انٹرنیٹ پر بلاگ لکھنے والے افراد کا ایک گروپ ان دو ایرانی بلاگرز کی رہائی کے لئے ایک تحریک کا آغاز کرہا ہے جو ایران کی جیل میں قید ہیں۔

انٹرنیٹ پر بلاگ یا ایک قسم کی ڈائری کے ذریعے دنیا بھر سے لاکھوں افراد ہر روز مختلف موضوعات پراپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ خیالات کئی ریاستوں یا گروہوں پر تنقید کے باعث تنازعات بھی پیدا کردیتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے ممالک میں جہاں آزادیِ اظہار پر پابندیاں عائد ہیں یا وہ محدود ہیں۔

انٹرنیٹ خود اپنے دفاع کی کوشش
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انٹرنیٹ سے براہ راست متعلق کسی معاملے پر خود انٹرنیٹ پر ہی ایک تحریک کا آغاز ہورہا ہے۔

یوں تو بلاگ کا کلچر دیکھتے ہی دیکھتے انٹرنیٹ پر دیوانگی کی حد تک مقبول ہوگیا ہے اور ایک امریکی تحقیقی ادارے کے مطابق ہر چھ سیکنڈ بعد انٹرنیٹ پر ایک بلاگ لکھا جاتا ہے لیکن پچھلے چند ماہ سے خاص طور پر ایران سے بہت بڑی تعداد میں بلاگ لکھے جارہے ہیں۔ یہ بلاگ ایران میں جاری سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

شائد اسی لئے پچھلے چند ہفتوں سے ایران میں کئی ایسی بڑی ویب سائٹس کے خلاف کارروائی کی جارہی ہیں جس میں لوگ آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایران میں حال میں دو بلاگر مجتبٰی سمینزاد اور عرش سگارشی کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اب انٹرنیٹ پر دنیا بھر سے بلاگ لکھنے والے افراد کے ایک گروپ نے منگل بائیس فروری کو ’مجتبٰی اور عرش کی رہائی‘ کا دن بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ایک ماہ پہلے وجود میں آنے والے اس گروپ کا نام ’کمیٹی برائے تحفظِ بلاگرز‘ ہے اور یہ تمام بلاگرز سے اپیل کررہی ہے کہ بائیس فروری کے دن وہ اپنی ویب سائٹس کو مجتبٰی اور عرش کی رہائی کے لئے وقف کردیں۔

ویسے تو انٹرنیٹ کو سیاسی تحریکوں میں کارکنوں کو متحرک کرنے، فنڈز اکھٹے کرنے یا پھر سیاسی خیالات کا پرچار کرنے کے لئے بہت کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے لیکن ایک طرح سے دیکھا جائے تو یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انٹرنیٹ سے براہ راست متعلق کسی معاملے پر خود انٹرنیٹ پر ہی ایک تحریک کا آغاز ہورہا ہے۔

یعنی انٹرنیٹ کا وسیلہ پہلے آزادیِ اظہار کا ایک ایسا نیا ذریعہ بن کر سامنے آیا جس پر کسی ریاست کے قوانین یا کسی فوج کی عملداری نہیں اور جب ریاست نے اس وسیلے کو بھی زیر کرنے کی کوشش کی تو خود انٹرنیٹ سے اس کے خلاف آواز بلند ہورہی ہے۔

انٹرنیٹ اور سیاست کے اس عجیب اور دلچسپ ملاپ پر آپ کیا سوچتے ہیں؟ انٹرنیٹ کا ایک کثیر جہتی وسیلے کے طور پر ابھر کر سامنے آنا اور آزادیِ اظہار کے لئے ایک نیا ذریعہ بننا؟ آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کی نظر میں مجتبٰی اور عرش ایک نئی سیاسی جنگ کے اولین سپاہی ہیں؟ کیا ریاست کو انٹرنیٹ پر قوانین لاگو کرنے کا حق ہے؟

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی نئی پیشکش ’بلاگ‘بلاگ۔۔۔۔
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی نئی پیشکش
بلاگ کی کامیابی
امریکی عوام میں بلاگ کی مقبولیت
مقبول ترین لفظ
’بلاگ‘ 2004 کا مقبول ترین لفظ
خلیجِ فارسگوُگل بمباری
خلیج فارس کو خلیج عرب نہ کہیں: ایران
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد