خلیجِ فارس کو خلیج عرب نہ کہیں: ایران | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی حکومت نے اپنی ان کوششوں میں تیزی کردی ہے جن کا مقصد یہ ہے کہ خلیجِ فارس کو اسی نام سے پکارا جائے اور خلیج عرب نہ کہا جائے۔ ایران نے معروف رسالے نیشنل جوگرفِک کو ایک تقریب میں شرکت کے لیے بھیجا جانے والا اپنا دعوت نامہ اس لیے واپس لے لیا کہ اس رسالے نے اس آبی علاقے کے لیے خلیج فارس اور خلیج عرب دونوں ناموں کا استعمال کیا تھا۔ ایرانی بلاگرز نے گوگل سرچ انجن پر ایک ویب مہم بھی شروع کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ گوگل پر عربین گلف یعنی خلیج عرب ٹائپ کریں تو آپ کو اس نوعیت کے پیغام ملتے ہیں: کہیں آپ خلیج فارس کی تلاش تو نہیں کررہے؟ سرچ انجن گوگل پر اس طرح کی مہم کو گوگل بمبِنگ یعنی انٹرنیٹ بمباری کہتے ہیں۔ گوگل پر اس طرح کی مہم امریکی صدر جارج بش کے خلاف بھی چلائی گئی تھی۔ یہ دوسری بار ہے جب ایرانی بلاگرز سیاسی مقاصد کے لیے متحد ہوئے ہیں۔ اسی سال انہوں نے اپنی ویب مہم کے ذریعے انٹرنیٹ کے استعمال کرنے والوں کی توجہ ان ویب سائٹوں کی جانب دلانے کی کوشش کی تھی جن کا مقصد ایران میں اصلاح کاری کو فروغ دینا ہے یا جن پر حکومت نے پابندی عائد کردی ہے۔
تہران میں ایک فوٹو فیسٹیول کے منتظمین نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے نیشنل جوگرفِک کے فوٹو ایڈیٹر سوزن ویلچمین کو جج کی حیثیت سے دعوت دی تھی لیکن حکومت نے انہیں ایران آنے کی اجازت نہیں دی۔ ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ رسالے کے تازہ شمارے میں ایک نقشہ شائع کیا گیا ہے جس میں مذکورہ آبی علاقے کو ”دی پرشین گلف (عربین گلف)” کہا گیا ہے۔ پرشین گلف کا معنی خلیج فارس اور عربین گلف کا خلیج عرب ہے۔ ایران میں نیشنل جوگرفِک کی فروخت پر اس وقت تک کے لیے پابندی عائد کردی گئی ہے جب تک یہ رسالہ متنازعہ نقشے کو صحیح نہیں کرلیتا۔ ایسی وجوہات سے گزشتہ پیر کو ایران نے عربی ٹی وی چینل الجزیرہ کے خلاف کارروائی کی دھمکی بھی دی جس نے ایک کارٹون فلم دکھائی تھی۔ اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ایک ایرانی مولوی علاقائی مسائل کو حل نہیں کرتا ہے اور اپنی توجہ اس بات پر دیتا ہے کہ مذکورہ آبی علاقے کا نام کیا ہونا چاہیے۔ یہ کارٹون فلم نیشنل جوگرفِک پر پابندی کے بعد دکھائی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||