ایران کا پاپ انقلاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے موسیقاروں کواپنے ہی ملک میں اپنا لوہا منوانے کے لیے کئی چیلنجز درپیش رہے ہیں۔ ملک میں انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد تو پاپ موسیقی کا پرچار کرنا یا ایسے کسی بینڈ کو چلانا جرم بنا دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی خواتین گلوکاراؤں پر بھی یہ پابندی تھی کہ وہ عوامی سطح پر گا نہیں سکتی تھیں۔ لیکن ایران میں ایک گروپ ایسا بھی ہے جو اس صورتِ حال کو تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اور اس گروپ میں صرف لڑکے ہی نہیں بلکہ لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ آرئین وہ واحد پاپ گروپ ہے جسے سرکاری طور پر ایران سے باہر نکلنے کی اجازت ملی ہے۔ نو افراد پر مشتمل اس بینڈ کو پاپ میوزک سنانے، باہر کے دورے کرنے اور ایران میں اپنی موسیقی کی اشاعت کی اجازت مل گئی ہے۔ یہ گروپ آج کل یورپ کے دورے پر ہے جہاں سے وہ اپنا پیغام دے سکتا ہے۔اس سلسلے نے ایران میں اور گروپوں کے سامنے آنے کا بھی دروازہ کھول دیا ہے۔
اس گروپ میں گٹار بجانے اور گیت گانے والے علی کہتے ہیں کہ گروپ کو ایران کے سخت اسلامی ضابطوں اور مذہبی نزاکتوں کی وجہ سے مشکلات پیش آئیں اور اپنے حلقۂ اثر کو بڑھا نہ سکے۔ تاہم وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے ان مشکلات کا مقابلہ کیسے کیا۔ ’ہم نے پہلے پہل ان جگہوں پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا جہاں وزارتِ ثقافت کے مرکزی دفتر سے اجازت کی ضرورت نہیں تھی اور یوں ہم آہستہ آہستہ آگے بڑھتے چلے گئے۔‘ لیکن وہ کہتے ہیں ’اب سب کچھ بدل گیا ہے۔ عراق ایران جنگ کے بعد لوگوں کے نظریات بھی تبدیل ہوئے ہیں۔ پھر یہ کہ جوانوں کو خوشی حاصل کرنے کے لیے دیگر چیزوں کی بھی ضرورت تھی۔‘ ’لوگوں کے سامنے ہماری براہِ راست کارکردگی نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا۔ اور اب تو ہم جو کچھ کرتے ہیں اسے کافی زیادہ سراہا جاتا ہے اور ہمیں کامیابیاں مل رہی ہیں۔ اب ہمارے فنکشنز میں بہت لوگ آتے ہیں۔ پچاس ہزار سے لیکر ایک لاکھ لوگ۔‘ ایک دفعہ بینڈ نے چھ گھنٹے کے اندر اندر اپنی ایک کنسرٹ کے لیے چوون ہزار ٹکٹ بیچے۔ علی کہتے ہیں کہ ایران میں اس سے پہلے اس جیسی کوئی چیز تھی ہی نہیں اور لوگ مضطرب تھے۔ علی کہتے ہیں کہ ’ہم چاہتے تھے کہ لوگوں کو پتہ چلے کہ اصل ایران کیا ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||