BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 December, 2004, 17:06 GMT 22:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران کا پاپ انقلاب
News image
آرین کی کنسرٹس میں ہزاروں لوگ شرکت کرتے ہیں
ایران کے موسیقاروں کواپنے ہی ملک میں اپنا لوہا منوانے کے لیے کئی چیلنجز درپیش رہے ہیں۔

ملک میں انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد تو پاپ موسیقی کا پرچار کرنا یا ایسے کسی بینڈ کو چلانا جرم بنا دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی خواتین گلوکاراؤں پر بھی یہ پابندی تھی کہ وہ عوامی سطح پر گا نہیں سکتی تھیں۔

لیکن ایران میں ایک گروپ ایسا بھی ہے جو اس صورتِ حال کو تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اور اس گروپ میں صرف لڑکے ہی نہیں بلکہ لڑکیاں بھی شامل ہیں۔

آرئین وہ واحد پاپ گروپ ہے جسے سرکاری طور پر ایران سے باہر نکلنے کی اجازت ملی ہے۔

نو افراد پر مشتمل اس بینڈ کو پاپ میوزک سنانے، باہر کے دورے کرنے اور ایران میں اپنی موسیقی کی اشاعت کی اجازت مل گئی ہے۔ یہ گروپ آج کل یورپ کے دورے پر ہے جہاں سے وہ اپنا پیغام دے سکتا ہے۔اس سلسلے نے ایران میں اور گروپوں کے سامنے آنے کا بھی دروازہ کھول دیا ہے۔

News image

اس گروپ میں گٹار بجانے اور گیت گانے والے علی کہتے ہیں کہ گروپ کو ایران کے سخت اسلامی ضابطوں اور مذہبی نزاکتوں کی وجہ سے مشکلات پیش آئیں اور اپنے حلقۂ اثر کو بڑھا نہ سکے۔

تاہم وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے ان مشکلات کا مقابلہ کیسے کیا۔ ’ہم نے پہلے پہل ان جگہوں پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا جہاں وزارتِ ثقافت کے مرکزی دفتر سے اجازت کی ضرورت نہیں تھی اور یوں ہم آہستہ آہستہ آگے بڑھتے چلے گئے۔‘

لیکن وہ کہتے ہیں ’اب سب کچھ بدل گیا ہے۔ عراق ایران جنگ کے بعد لوگوں کے نظریات بھی تبدیل ہوئے ہیں۔ پھر یہ کہ جوانوں کو خوشی حاصل کرنے کے لیے دیگر چیزوں کی بھی ضرورت تھی۔‘

’لوگوں کے سامنے ہماری براہِ راست کارکردگی نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا۔ اور اب تو ہم جو کچھ کرتے ہیں اسے کافی زیادہ سراہا جاتا ہے اور ہمیں کامیابیاں مل رہی ہیں۔ اب ہمارے فنکشنز میں بہت لوگ آتے ہیں۔ پچاس ہزار سے لیکر ایک لاکھ لوگ۔‘

ایک دفعہ بینڈ نے چھ گھنٹے کے اندر اندر اپنی ایک کنسرٹ کے لیے چوون ہزار ٹکٹ بیچے۔

علی کہتے ہیں کہ ایران میں اس سے پہلے اس جیسی کوئی چیز تھی ہی نہیں اور لوگ مضطرب تھے۔ علی کہتے ہیں کہ ’ہم چاہتے تھے کہ لوگوں کو پتہ چلے کہ اصل ایران کیا ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد