ایرانی ہدایتکار: بھارت میں شوٹنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محسن مخملباف جو ایران کے بہت مشہور فلمی ہدایتکار ہیں اپنی اگلی فلم بھارت میں بنائیں گے۔ محسن جن کی عمر سینتالیس برس ہے فلم کی شوٹنگ کا آغاز اگلے سال جنوری کے مہینے میں کریں گے۔ اس سال محسن بھارت گئے تھے جہاں انہوں نے (بنارس) ورانسی اور اس کے گرد و نواح میں شوٹنگ کے لیے مخلتف مقامات دیکھے۔ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ اس فلم کا نام کیا ہوگا۔ وہ کہتے ہیں: ’اس فلم میں نہ صرف ایرانی اداکار ہوں گے بلکہ بھارتی ادکاروں کو بھی کاسٹ کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ پیشہ ور فنکار شاید فلم میں نہ ہوں۔ محسن اپنی اکثر فلموں میں معروف فنکاروں کو کاسٹ نہیں کرتے اور اس کی وجہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ غیر معروف اداکاروں کی فطرتی اداکاری کو زیادہ بہتر طور پر اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے عام سے لوگوں کو فلموں میں لینا اچھا لگتا ہے۔‘ محسن آجکل اپنے ملک سے باہر اس لیے فلمیں بنا رہے ہیں تاکہ انہوں ایران میں سخت (مذہبی) قوانین کی وجہ سے سینسر کے مسائل سے بچ سکیں۔ ان دنوں وہ تاجکستان میں فلم کی شوٹنگ کر رہے ہیں۔ یہاں انہوں نے انیس سو اٹھانوے میں اپنی فلم ’دی سائلینس‘ کی مناظر بھی فلمائے تھے۔ یہ فلم ایک دس سالہ بچے کے گرد گھومتی ہے جو نابینا ہے لیکن آلاتِ موسیقی بجا کر اپنی ماں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ خیال ہے کہ محسن اس سال دسمبر میں ایک بار پھر بھارت جائیں گے جہاں وہ اپنی فلم سے متعلق امور کی تفصیلات کو حتمی شکل دیں گے۔ وہ کہتے ہیں’ مجھے کئی بار بھارت جانا پڑے گا کیونکہ س فلم کی شوٹنگ بھارت کے کئی دیہات اور چھوٹے قصبوں میں ہوگی۔‘ بھارت میں فلم بنانے کی محسن کی یہ تیسری کوشش ہے۔پندرہ برس پہلے بھی انہوں نے بھارت میں فلم بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ لیکن اس وقت انہیں کوئی فلمساز نہیں مل سکا تھا۔ چند برس بعد انہوں نے ایک اور فلم کی کہانی لکھی جس کا نام ’مہاراجہ‘ تھا اور عملے کے ساتھ بھارت پہنچ گئے لیکن وہاں کی سست رفتار افسر شاہی نے محسن کی یہ کوششیں برباد کر دیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||