’ایران افزودگی کے عمل سے باز رہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین یورپی ملکوں نے جو ایران سے اس کے جوہری پروگرام کے بارے میں بات چیت کرتے رہے ہیں ایران کو متنبہ کیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کے عمل کو دوبارہ شروع نہ کرے۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایرانی حکام کو صاف صاف بتا دیا ہے کہ اگر اس نے یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کی تو اس کے ساتھ مذاکرات ختم کر دیئے جائیں گے۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے اگر ایران گزشتہ سال نومبر میں ہونے والے معاہدے کی تعمیل سے انکار کرتا ہے جس پر اس نے دستخط کیے تھے تو اس کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے حوالے کر دیا جانا چاہیئے۔ اس سے قبل ایران کے جوہری مذاکرات کارِ اعلیٰ حسن روحانی نے کہا تھا کہ ان کا ملک یورینیم کی افزودگی شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ایران کا نیوکلیائی پروگرام کافی عرصےسے تنازعے کا سبب بنا ہوا ہے اور امریکہ کا مسلسل یہ موقف رہا ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن ایران کا دعوی ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُر امن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اس سے صرف بجلی پیدا کرانا چاہتا ہے۔ گزشتہ نومبر میں فرانس ، برطانیہ اور جرمنی سے صلاح مشورے کے بعد ایران نے یورینیم کی افزودگی کا کام بند کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن اب ان تینوں ہی ملکوں کی جانب سے ایران کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے فیصلے پر قائم رہا، تو اس سے بات چیت کا سلسلہ بند کردیا جائے گا۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئر کا کہنا ہے کہ اگر ایران جوہری تحقیق کا عمل دوبارہ شروع کرتا ہے ، تو برطانیہ یہ معاملے سکیورٹی کونسل میں لیجانے کی حمایت کرے گا۔ ایران نے بات چیت کی سست رفتار پر حال ہی میں مایوسی ظاہر کی تھی۔ لیکن ان تینوں ملکوں نےاب پھر یہ معاملے حل کرنے کے لیے آئندہ دو ہفتوں میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کی پیش کش کی ہے اور ایران کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھے گا یا حساس جوہری تحقیق دوبارہ شروع کرنے کے اپنے فیصلے سے جوہری توانائی کے نگراں ادارے آئی اے ای اے کو مطلع کرے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس فیکٹری میں یورینیم کو گیس میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اور یورینیم کو بم یابجلی بنانے کے لیے استعمال کرنےکی راہ میں یہ پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔ افزودگی کا مرحلہ اس کے بعد آتا ہے۔ ایران کے پاس یہ کام انجام دینے کے لیے نتانز میں ایک پلانٹ ہے لیکن وہاں کبھی کام شروع نہیں ہوسکا۔ اگر اس پلانٹ میں کام شروع ہوتا ہے تو یورپی ممالک سے معاہدے کی بڑی خلاف ورزی ہوگی اور اگر معائنہ کاروں کواس پلانٹ میں جانے کی اجازت دی گئی تو فوراً ہی اور کافی آسانی سے یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ افزودگی کا مقصد کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||