BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 May, 2005, 12:51 GMT 17:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ،مشرف کے خلاف سخت تقاریر

فائل فوٹو
مذھبی رہنما اکثر سخت گیر موقف اختیار کر لیتے ہیں ۔ فائل فوٹو
پاکستان کے چند علماء کے اجلاس میں ان مذہبی پیشواؤں کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر انجینئر سلیم اللہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قرآن کی مبینہ توہین پر مبنی مواد چھاپنے کی سزا کے طور پر امریکی جریدہ ’نیوزویک‘ کے ایڈیٹر اور رپورٹر کو پاکستان لایا جائے اورانہیں قتل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں قران کی توہین کی سزا صرف قتل ہے اور امریکہ ہمارے مجرموں کو اس طرح ہمارے حوالے کرے جیسے پاکستان نے اس کے ملزم اس کے حوالے کیے تھے۔

جمعیت علمائے پاکستان نفاذ شریعت گروپ کے صدر انجینیر سلیم اللہ بدھ کو لاہور میں تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والی مذہبی جماعتوں اور مدرسوں کے علما کے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر بڑی اور چھوٹی تنظیموں کے علماء نے ان کے مطالبہ کی مخالفت نہیں کی اور بعض نے خلیج گوانتانامو میں امریکی فوجیوں کی جگہ امریکی صدر بش کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

علماء کا یہ اجلاس جماعت الدعوۃ (سابقہ لشکر طیبہ) کی دعوت پر اس کے مرکزی دفتر اور مسجد مرکز قادسیہ میں بلایا گیا تھا۔

یہ اجلاس خلیج گوانتانامو میں قرآن کی امریکی فوجیوں کے ہاتھوں مبینہ توہین، پاکستان کے بارے میں ’واشنگٹن ٹائمز‘ کے کارٹون، مسئلہ کشمیر، آغا خان بورڈ اور حکومت کی روشن خیال اور اعتدال پسندی کی پالیسی کے معاملات پر بلایا گیا تھا۔

اجلاس میں جماعت الدعوۃ کے شعبہ سیاسیات کے مدیر مولانا عبدالرحمن مکی نے کہا کہ پاکستان کی ثقافت امریکہ کا ہدف ہے اور جنرل مشرف کو اسلام کی دعوت کے خلاف ایک ایجنڈے پر عمل کرنے کے لیے حکمران بنایا گیا ہے۔

اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عوام میں علماء کے ایجنڈے کے حق میں مہم چلانے کے لیے ’بیداری امت‘ کے نام سے تحریک چلائی جائے گی اور ملک بھر کے علماء کو متحد کرنے کے لیے ان کا ایک بڑا کنوینشن منعقد کیا جائے گا۔ اس کنوینشن کے لیے علماء سے رابطہ کرنے کے لیے انجینئر سلیم اللہ کی سربراہی میں علماء رابطہ کمیٹی بنائی گئی۔

جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید نے کہا کہ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے معاملے پر دنیا بھر میں احتجاج کی جو کال دی ہے اس اجتماع میں شریک ہونے والے علماء اس کا ساتھ دیں اور مسلم لیگ کے رہنما راجہ ظفرالحق نے کشمیر کے معاملے پر جو کل جماعتی کانفرنس بلائی ہے اس میں بھی بھرپور شرکت کریں۔

جماعت الدعوۃ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اسلام میں سب سے اعلیٰ تنظیم حکومت کی ہے لیکن اگر حکومتیں اپنے کام چھوڑ دیں تو مسلمانوں کے اجتماعی امور کی نگرانی علما کی ذمہ داری ہے۔ دوسرے مقررین نے کہا کہ علماء انبیا کے وارث ہیں۔

حافظ سعید نے بالواسطہ طور پر خودکش حملوں کے حرام ہونے کے بارے میں اٹھاون علما کے فتوے پر تنقید کی اور کہا کہ اس وقت ملک میں ایسا کوئی معاملہ نہیں تھا جو اس فتوے کی ضرورت پیش آتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فتوے کا مقصد علماء میں اختلاف پیدا کرنا اور قرآن کی بے حرمتی کے واقعہ پر سے لوگوں کی توجہ ہٹانا ہے۔

انہوں نے کہا اس بارے میں تو پہلےسے تمام علماء کا اتفاق رائے ہے کہ پاکستان کے اندر خود کش حملے جائز نہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کشمیر، فلسطین اور عراق میں خود کش حملے جائز ہیں اور سعودی عرب اور جامعہ الازہر کے علماء نے اس کے حق میں فتوے دیئے ہیں۔

علماء کے اجلاس کے بعد جن چودہ نکات کا اعلامیہ جاری کیا گیا ان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک میں فحاشی اور عریانی کو روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا اور اس سلسلے میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے جمعیت اہل حدیث کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا نعیم بادشاہ نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر اکیس مئی کو عورتوں اور مردوں کی مخلوط میراتھن کے لیےمیدان میں آئیں تو اسلام کے مجاہد بھی میدان میں آئیں گے اور ان کا راستہ روکیں گے۔

لاہور میں جماعت اسلامی سے وابستہ نوجوانوں کی تنطیم شباب ملی نے بھی انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر کی جانب سے اکیس مئی کو مخلوط میراتھن کروانے کو منسوخ کرنے کا مطابہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اسے زبردستی روکا جائے گا۔

آج مرکز قادسیہ میں علماء کے اجلاس میں جنرل پرویز مشرف پر کڑی تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ وہ امریکہ کے ایجنٹ ہیں۔ بعض علماء نے ان کے بارے میں گالی گلوچ پر مبنی زبان بھی استعمال کی۔

علماء کے اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ گوانتانامو بے کے واقعات اور ’واشنگٹن ٹائمز‘ کے کارٹون کے بعد امریکی سفیر کو پاکستان سے نکال دے اور امریکہ سے سفارتی تعلقات ختم کرے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد