پاکستان مشرف کا ہی ملک نہیں: مختار مائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’جون کی تین تاریخ تھی۔ رات کے کوئی ایک بجے ہم لوگ گھر میں سوئے ہوئے تھے کہ علاقے کے تھانے کا انچارج آیا اور کہا کہ ہمیں اطلاع ملی ہے کے مختار مائی اپنے گھر نہیں ہے۔ میں نے کہا ہم تو سو رہے ہیں آپ نے آکر اٹھایا ہے۔ ’اس پر تھانیدار ایک ڈیڑھ گھنٹہ تک گھما پھرا کر بات کرتا رہا کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے وغیرہ وغیرہ اور پھر میرے پاسپورٹ کے بارے پوچھنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا کہ وہ گھر پڑا ہے۔ اس کے کہنے پر میں نے اپنا پرانا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ یہ کہہ کر اس کے حوالے کردیا کے خطرہ مجھے ہے یا میرے پاسپورٹ کو۔ پاسپورٹ وغیرہ اس نے اگلے دن فوٹو کاپیاں کرا کے واپس کردیئے۔ ’صبح بہت ساری پولیس گھر کے باہر موجود تھی اور مجھے کہا گیا کہ آپ گھر سے باہر نہیں جا سکتیں کیونکہ (خفیہ) ایجنسی کی رپورٹ ہے کہ مختار مائی کی جان کو خطرہ ہے۔ گھر کے دروازے پر بھی پولیس بٹھا دی گئی اور گھر کے اندر دو کی بجائے پولیس کی چار خواتین داخل کر دی گئیں جو میری چارپائی کے گرد کھڑی رہتیں اور انہوں نے گھر میں حشر مچایا ہوا تھا۔ میں اپنے گھر میں بھی آزادانہ گھوم پھر نہیں سکتی تھی۔ اسی حالت میں کئی دن گزر گئے۔ ’کچھ دن بعد میں نے اپنے وکیل اعتزاز احسن سے رابطہ کیا اور پوچھا کے تین ماہ ہوگئے ہیں (لاہور ہائی کورٹ سے مختار مائی کے مقدمے کے فیصلے کے بعد) سپریم کورٹ میں اپیل کیے ہوئے لیکن ابھی تک کراروائی شروع نہیں ہوئی۔
’وکیل نے کہا کہ آپ دس تاریخ کو لاہور آجائیں تو مشورہ کر لیتے ہیں۔ میں نے ایس ایچ او کو بتایا کہ میں لاہور جانا چاہ رہی ہوں وکیل سے مشورہ کرنے کے لیے تو اس نے کہا کے جتوئی کے ڈی ایس پی سے بات کریں۔ اس سے بات کی تو اس نے کہا آپ ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز سے رابطہ کریں۔ ’ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز نے کہا سفر کے لیئے ڈی آئی جی (ڈیرہ غازی خان) سے اجازت لینا پڑے گی۔ ڈی آئی جی سے رابطے کی کوشش کرتے رہے لیکن ناکام رہے۔ بعد میں جتوئی کے ڈی ایس پی کا فون آیا کے آپ لوگ پولیس کے نگرانی میں سفر کرسکتے ہیں۔ ’دس جون جمعہ کے روز ابھی سفر شروع ہی کیا تھا کہ جتوئی کا ڈی ایس پی پیچھے پہنچ گیا اور کہا کے آپ کو واپس گھر جانا ہوگا کیونکہ حکم ہے کے آپ کو باہر نہ جانے دیا جائے۔ واپس گھر پہنچنے پر اس نے کہا کہ انٹیلی جنس کے منور شاہ نے رپورٹ دی ہے کے مختار مائی کی جان کو خطرہ ہے۔ ہم نے منور شاہ کو فون کیا تو اس نے انکار کیا کے اس نے ایسی کوئی رپورٹ دی ہے۔ منور شاہ کا فون نمبر ہم نے پولیس سے ہی لیا تھا۔ ’اتوار کے روز پولیس نے کہا کے تیار رہیں رات کو کسی بھی وقت آپ کو لاہور اور پھر اسلام آباد لے جایا جاسکتا ہے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ لاہور یا اسلام آباد جا کر کرنا کیا ہے بس یہ کہا گیا کہ لاہور میں آپ کو منسٹری (آف ویمن افئیرز) کی نرجس زیدی اور شگفتہ ملیں گی۔ ’لاہور پہنچے تو دونوں خواتین موجود تھیں بعد میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگئے۔ وہاں بظاہر کہا تو یہ گیا کہ (میروالہ میں) کرائسسز سنٹر قائم کرنے کے بارے بات کرنی ہے لیکن بعد میں پاسپورٹ والا چکر نکل آیا۔ مجھے امریکی ایمبیسی لے جایا گیا جہاں سے ویزے کے لیے جمع کرایا گیا میں نے اپنا نیا پاسپورٹ واپس لیا۔ پاسپورٹ اب میرے پاس تو نہیں لیکن ابھی میں نہیں بتا سکتی کہ وہ کس کے پاس ہے۔ ’امریکی سفارت خانہ سے واپسی پر وزیر اعظم کا فون آیا اور انہوں نے کہا کہ آپ نے بہت اچھا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مسئلہ ہوا کرے تو براہ راست انہیں بتایا کروں۔ دو دن بعد ہمیں میر والہ واپس بھجوا دیا گیا۔ اسلام آباد میں دو دن کیا ہوا ابھی نہیں بتا سکتی۔ ’میر والہ میں میرے اوپر پابندیاں پہلے سے کچھ کم ہیں لیکن زیادہ فرق نہیں پڑا۔ پتا نہیں میر والہ سے باہر جانے بھی دیتے ہیں یا نہیں۔ ’حکومت کے رویئےسے مجھے ایسے لگتا ہے جیسے مجھ پر کوئی شک کیا جا رہا ہے۔ یہ میں نہیں سمجھ سکی کہ شک کیا تھا لیکن مجھے لگ رہا تھا جیسے مجھے شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ پاسپورٹ والے معاملے سے تو مجھے ایسا ہی لگا ہے۔ ’پاکستان میرا ملک ہے بلکہ ہم سب کا ملک ہے۔ یہ صرف گورنمنٹ یا پرویز مشرف صاحب کا ملک نہیں ہے۔ میں کیسے چاہ سکتی ہوں کہ کوئی اس کے بارے میں غلط بات کرے۔ اگر میں امریکہ جاتی اور وہاں کوئی میرے سامنے ایسی ویسی بات کرتا تو میں ٹھیک ٹھاک جواب دیتی۔ ویسے کوئی غلط بات کرتا بھی نہیں۔ یہاں کافی لوگ آتے ہیں باہر کے لیکن کبھی کسی نے کوئی ایسی ویسی بات نہیں کی۔ ’جو لوگ اسمبلیوں میں کہہ رہے ہیں کہ مختار مائی کو چپ کر کے بیٹھ جانا چاہیے اور صرف اللہ سے انصاف کی توقع کرنی چاہیے اگر ان کے ساتھ خدانخواستہ ایسا واقعہ پیش آجائے تو کیا وہ خاموش ہوکر بیٹھ جائیں گے؟ ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے؟ ’حیران ہوں کہ ملک کی بدنامی ان لوگوں سے نہیں ہوتی جو غنڈہ گردی کرتے ہیں، زیادتی کرتے ہیں، لیکن اگر ایک عورت آواز اٹھائے ظلم کے خلاف تو ملک بدنام ہو جاتا ہے۔ انہیں (تنقید کرنے والوں کو) تو میرا ساتھ دینا چاہیے ہے۔ جن لوگوں سے بدنامی ہوتی ہے عدالتیں انہیں بری کر دیتی ہیں اور بدنامی ہوتی ہے تو مختار مائی سے۔
’میں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ جب تک سپریم کورٹ میرے کیس کا فیصلہ نہیں کر دیتی ملزموں کو جیل میں ہی رکھا جائے لیکن اگر اب ہائی کورٹ نے ان کی رہائی کا حکم دیا ہے تو ان کی بے جا گرفتاریوں کے حق میں بھی نہیں ہوں اور نہ میں نے حکومت سے اس بارے میں دوبارہ کوئی بات کی ہے۔ اگر حکومت مجھے انصاف دلانا چاہتی ہے تو سپریم کورٹ میں دائر ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف میری اپیل کو جلد از جلد سنا جائے۔ ’میں سمجھتی ہوں کہ ہمارا قانون ہی کمزور ہے۔ اگر ایک کو بھی انصاف مل جائے تو لوگ تھوڑا سمجھ جائیں گے کہ ان کو سزا ملی ہے تو ہمیں بھی مل سکتی ہے۔ قدم اٹھانے سے پہلے سوچیں گے کے ہم غلط کام کر رہے ہیں۔ ’مجھے انصاف کی تھوڑی سی توقع تو ہے لیکن اس سے بڑھ کر جو چیز مجھے حوصلہ دیتی ہے وہ ساری دنیا کا ساتھ ہے۔ میں اکیلی کچھ بھی نہ کر سکتی۔ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے پتہ نہیں کیسے ساری دنیا کو میرے ساتھ کر دیا ہے۔ اس سے مجھے حوصلہ ملتا ہے اور کوشش کرتی ہوں اپنے ساتھ ہونے والے واقعہ کو بھولنے کی۔ خود کو مصروف رکھتی ہوں اچھے کام کر کے تاکہ ماضی میں نہ جاؤں لیکن بھولایا نہیں جاتا۔ ’ہاں مجھے شہرت ملی ہے لیکن آج بھی واقعہ سے پہلے والا زمانہ ہی اچھا لگتا ہے۔ اس وقت کبھی پتہ چلتا کے کسی لڑکی یا عورت سے زیادتی ہوئی ہے تو غصہ آتا تھا۔ میں ماں سے پوچھتی تھی کہ اماں ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں تو ماں کہہ دیتی تھی طاقتور لوگ ہیں کون پوچھ سکتا ہے ان سے۔ ’اس وقت بھی مجھے شوق تھا کہ میں اپنے کام کی وجہ سے جانی جاؤں۔ کسی کے لیئے اچھے کپڑے سیوں تو وہ کہے مختار اچھی سلائی کرتی ہے یا کسی عورت کے لیے پراندہ بناؤں تو تعریف ہو۔ اس وقت اچھے کام کرتی تھی تو کوئی دکھ کا احساس ساتھ نہ تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ زندگی مشکل ہوگئی ہے۔ ’باہر میں رہنے کے لیئے نہیں جانا چاہتی۔ لوگ سیکھتے ہیں باہر جا کر۔ میں بھی وہاں جا کر دیکھنا چاہتی ہوں کہ ان کا کیا کام ہے۔ باہر سے جب لوگ میرے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہمارا یہ کام ہے ہمارا وہ کام ہے۔ میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ ’شادی کا پروگرام تو ضرور ہے لیکن پہلے کیس کا فیصلہ ہوجائے۔ خط وغیرہ تو بہت آتے ہیں۔ وہ سنتے ہیں کہ اس کے پاس بہت ڈالر ہیں پیسہ ہے لیکن جب میں جواب دیتی ہوں کہ یہ سب کچھ میرے سکول کے لیئے ہے۔ مجھے صرف تین کپڑوں میں قبول کرنا ہوگا اور رہنا بھی میروالہ پڑے گا تو پھر کوئی جواب نہیں آتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||