BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 March, 2005, 10:53 GMT 15:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مختاراں مائی کیس کا تفصیلی فیصلہ

ملزمان مختاراں کیس
ملزموں نے سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی
مختاراں مائی اجتماعی جنسی زیادتی کیس میں لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ کی طرف سے چھ میں سے پانچ ملزموں کو بری کرنے اور چھٹے ملزم کی سزائے موت عمر قید میں بدلنے کے حکم کا اکتالیس صفحات پر مشتمل تفصیلی عدالتی فیصلہ جاری کردیا گیا ہے۔

ڈویژن بنچ نے اپنے فیصلے میں ملزموں کو موت کی سزا سنانے والی ڈیرہ غازی خان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کے خلاف کاروائی کی سفارش بھی کی ہے۔

مختاراں مائی کو بائیس جون دو ہزار دو میں مظفرگڑھ کے گاؤں میراں والہ میں ایک پنچایت کے حکم پر اس لیے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا کیونکہ علاقے کے بااثر مستوئی خاندان کو شبہ تھا کہ مختاراں مائی کے بھائی شکور کے ان کی لڑکی سلمیٰ کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔

واقعہ کی سنگینی پاکستانی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا موضوع بنی تو حکومتی مشینری حرکت میں آئی۔ پولیس نے واقعہ میں نامزد چودہ ملزموں کو گرفتار کر کے چالان ڈیرہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جس نے ُاسی سال اکتیس اگست کو فیصلہ سناتے ہوئے چھ ملزموں کو موت کی سزا سنائی جبکہ باقی آٹھ ملزموں کو عدم ثبوت کے باعث بری کر دیا تھا۔

موت کی سزا پانے والوں میں پنچایت کے دو ارکان فیض محمد اور رمضان پچار بھی شامل تھےجبکہ عبدالخالق، اللہ ڈتہ، فیاض اور غلام فرید کو اجتماعی زیادتی کا مرتکب ہونے پر سزاوار ٹھہرایا گیا تھا۔

ملزموں نے سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کر رکھی تھی جس کا فیصلہ کرتے ہوئے جسٹس اعجاز چوہدری اور جسٹس ایم اے شاہد صدیقی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے چار مارچ دو ہزار پانچ کو پانچ ملزموں کو بری اور چھٹے کی سزاۓ موت کم کرکےعمر قید میں بدلنے کا حکم صادر کیا تھا۔

عدالت کے فیصلے کے بعد احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں
عدالت کے فیصلے کے بعد احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں

تفصیلی فیصلے میں ڈویژن بنچ نے مقدمے کی ایف ائی آر درج کرانے میں تاخیر اور مختاراں مائی اور استغاثہ کے دوسرے گواہوں کے بیانات میں پاۓ جانے والے مبینہ تضادات کو جواز بناتے ہوئے اجتماعی زیادتی کے الزام کو رد کیا ہے۔

عدالت نے پنچایت کے انعقاد اور اس کی طرف سے زنا کے بدلے زنا کے فیصلے کو سنی سنائی بات قرار دیا ہے جسے استغاثہ شواہد کی مدد سے ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

ٹرائل کورٹ سے اجتماعی زیادتی کے الزام میں سزا پانے والوں میں عبدالخالق اور اللہ ڈتہ آپس میں سگے بھائی ہیں لیکن ہائی کورٹ نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ دو بھائی ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ پر کسی ایک عورت کے ساتھ زنا کر سکتے ہیں۔ عدالت کے نزدیک اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے ناقابلِ مواخذہ گواہی کی ضرورت ہے جواستغاثہ پیش نہیں کر سکا۔

عبدالخالق کو عمر قید کی سزا دیتے ہوۓ ڈویژن بنچ نے اسے زنا کا مرتکب ٹھہرایا ہے کیونکہ اس کے اپنے بیان کے مطابق اس نے شکور اور سلمیٰ والے معاملے کے بعد دونوں خاندانوں کے مشترکہ فیصلے کے تحت مختاراں مائی سے شرعی نکاح کے بعد جنسی عمل کیا لیکن مختاراں مائی کےعدالت کو دیے گئے بیان میں اس نکاح سے انکار کیا تھا۔

عدالت کے مطابق تعزیر کے مقدمات میں اکیلے متاثرہ فرد کی گواہی پر انتہائی سزا دی جا سکتی ہے لیکن اس کے لیے اس فرد کو ناقابلِ مواخذہ کردار کا حامل ہونا چاہیے جو کہ اس مقدمے میں نہیں ہے۔

ڈویژن بنچ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسا لگتا ہے کے مختاراں مائی وغیرہ نے شکور کی سلمیٰ سے کی گئی جنسی زیادتی کے ممکنہ ردعمل سے بچنے کے لیۓ ساری کہانی گھڑی ہے۔ ایف آئی ار واقعہ کے نو دن بعد درج کرانے کو بھی ڈویژن بنچ نے منصوبہ بندی کے تناظر میں دیکھا ہے۔

عدالت کے مطابق اگر واقعہ کو سچ مان بھی لیا جاۓ تو مختاراں کو پنچایت تک لانے والے یعنی والد اور ماموں دونوں بھی شریک جرم مانے جانے چاہییں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے کیونکہ دس گناہ گاروں کو رہا کرنا ایک بےگناہ کو سزا دینے سے بہتر ہے۔ تفصیلی فیصلے میں اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے بنا کسی ثبوت کےملزموں کو سزا کیسے دی۔

ڈویژن بنچ نے مجاز اتھارٹی کو ٹرائل کورٹ کے جج کے خلاف کاروائی کی سفارش کرتے ہوۓ کہا ہے کہ ان کے فیصلے سے بے گناہ افراد کو لمبے عرصے کے لیے جیل کی کال کوٹھڑی میں رہنا پڑا ہے۔

مختاراں مائی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے بھی حکومت کی طرف سے ایسا ہی قدم اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد