ملتان: ملزمان کو بری کرنے پر مظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مختاراں مائی اجتماعی زیادتی کیس کے چھ میں سے پانچ ملزمان کی لاہور ہائی کورٹ سے رہائی کے حکم کے خلاف جمعہ کے روز ملتان میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ آواز فاؤنڈیشن اور ساؤتھ پنجاب این جی اوز فورم کی طرف سے کیے گئے ان مظاہروں کے شرکاء ملتان پریس کلب کے سامنے جمع ہوئے جہاں انہوں نے مختاراں مائی کے حق میں اور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مختاراں مائی پاکستان میں لاکھوں مظلوم خواتین کے لیے حصول انصاف کی جدوجہد میں ایک بھرپور علامت کا درجہ رکھتی ہیں۔ مظاہرین نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف ازخود نوٹس لیتے ہوئے مختاراں مائی کیس کے ملزمان کی رہائی کے فیصلے کو معطل کرے۔
آواز فاؤنڈیشن کے ضیاءالرحمان کا کہنا تھا کہ ملزموں کی رہائی کا فیصلہ حکومت کی بدنیّتی کا مظہر ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ریاست اور جاگیر داروں کے گٹھ جوڑ نے ایک بار پھر ان حکومتی دعوؤں کا پول کھول دیا ہے کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کی پاسداری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی تنظیمیں مختاراں مائی کے ساتھ ہیں اور انصاف کے حصول میں ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی ۔ ساؤتھ پنجاب این جی اوز فورم کے مصطفیٰ بلوچ کا کہنا تھا کہ مختاراں مائی دیہی خواتیں کے لیے تبدیلی کا ایک استعارہ ہیں اور انہیں اس مشکل وقت میں اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے فیصلے سے مختاراں مائی نہیں بلکہ ریاست کی شکست ہوئی ہے کیونکہ مختاراں مائی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا نوٹس سپریم کورٹ نے اور صدر جنرل پرویز مشرف نے ازخود لیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||