’چیف جسٹس کو تبدیل کیا جائے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نو منتخب صدر اور لاہور ہائی کورٹ کی سابق جسٹس فخرالنساء نے مطالبہ کیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس چودھری افتخار کو ان کے موجودہ منصب سے تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے یہ بات منتخب ہونے کے بعد پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔ فخرالنسا نے کہا کہ ’عدالت عالیہ کے سربراہ کو جہاں لے جانا چاہیں لے جائیں۔‘ انکا کہنا تھا کہ موجودہ سربراہ کی وجہ سے وکلا، سائلوں اور عوام میں بے چینی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلا اور عدالت عالیہ میں خلیج بڑھی ہے اور انکے درمیان افہام و تفہیم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم وکلاء اور عدلیہ کے درمیان دوطرفہ احترام پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بار اور بینچ کے تعلقات بحال ہوں اور باوقار ہوں اس میں رکاوٹ کون ہے یہ سب کو معلوم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت وکلاء میں بے چینی ہے۔ جسٹس (ر) فخرالنسا نے کہا کہ متوزی عدالتیں نہ قائم کی جائیں اور کمرشل کورٹس بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لاء کمیشن اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کمرشل کورٹس بنانے کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکورٹس میں ریٹائرڈ سرکاری افسروں کو مقرر کرنے کی باتیں ہورہی ہیں جو ریٹائرڈ فوجی بھی ہوسکتے ہیں لیکن ہم انہیں قبول نہیں کریں گے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر نے کہا کہ ججوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کمرشل معاملات کو سمجھتے ہیں۔ حکومت ہائی کورٹ کی خالی آسامیوں کو پر کرے اور عدالت عالیہ میں ججوں کی تعداد پچاس سے بڑھا کر ساٹھ یا ستر کردے۔ بار کی صدر نے کہا ججوں کی تقرری میرٹ پر کی جائے اور اسی طرح لاء آفیسرز کے عہدوں پر بھی میرٹ پر تقرریاں کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری قانونی مشیروں کا کام وکلاء کے صرف ایک ٹولے کو نہ دیاجائے بلکہ میرٹ پر دیاجائے۔ فخرالنسا نے کہا کہ جو معاملات سپریم کورٹ میں زیر غور ہیں وہ ان پر تبصرہ نہیں کریں گی تاہم اگر سپریم کورٹ جمہوریت اور قانون کی بالادستی پر مبنی فیصلے کرتی ہے تو اسے بار کی حمایت حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بار قانون کی بالادستی، جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی میں یقین رکھتی ہے۔ فخرالنسا نے وکلاء کے لیے رہائشی کالونی بنانے، انکے لیے چیمبرز تعمیر کرنے، سائلوں کے لیے لیٹیگیشن سیلز اور مانیٹرنگ سسٹم بنانے، جوڈیشل کمپلکس کی تعمیر، عائلی اور دیوانی مقدمات کے لیے مصالحتی عدالتیں بنانے اور تین سالہ تجربہ رکھنے والے وکلا کو اوتھ کمشنر کے اختیارات دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ لاہور ہائی کورٹ کی نو منتخب صدر کی پریس انفرنس میں ان کے ساتھ منتخب ہونے والے لاہور ہائی کورٹ بار کے دوسرے عہدیدار پریس کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||