تین اعلیٰ پولیس افسر مفرور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے تین اعلیٰ پولیس افسروں کی قتل کیس میں عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی جس کے بعد وہ تینوں پولیس افسر کمرہ عدالت سے نکل کر اپنی سرکاری گاڑیوں میں فرار ہوگئے ہیں۔ فرار ہونےوالوں میں ڈی آئی جی ملتان ملک اقبال، ضلعی پولیس افسر گجرات راجہ منور اور ضلعی پولیس افسر شیخوپورہ امجد سلیمی شامل ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایک طرف تو یہ افسران اعلی عہدوں پر تعینات ہیں اور دوسری طرف اب مفرور بھی ہیں۔ ان پولیس افسروں کے خلاف ڈیڑھ سال قبل سیالکوٹ کی جیل میں ہونے والی فائرنگ کے واقعہ کے بعد قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔اس واقعہ میں پولیس کی کارروائی کے دوران جیل میں چار جج اور انہیں یرغمال بنانے والے پانچ قیدی ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس افسروں کے علاوہ ایلیٹ فورس کے اہلکاروں ، جیل کے عملے اور دو ڈاکٹروں کے خلاف بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں یہ مقدمہ زیر سماعت ہے۔ نومبر میں گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ان ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کر دی تھیں لیکن بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے ان کی قبل از گرفتاری ضمانتیں منظور کر لی تھیں۔ بدھ کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خواجہ شریف اور جسٹس تنویر بشیر انصاری پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ان کی عبوری درخواست ضمانت کی سماعت کی اس موقع پر حکومت کی نمائندگی کرتے ہوۓ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب یاسمین سہگل نے کہا کہ جولائی سن دو ہزار تین میں ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ میں یرغمالی ججوں کی رہائی کے لیے گولی چلانے کا پولیس اقدام بد نیتی پر مبنی نہیں تھا البتہ اس میں کوتاہی کا امکان نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے ایلیٹ فورس کے بارہ اہکاروں کی ضمانت میں تو توسیع کر دی لیکن ڈی آئی جی ملتان ملک اقبال، وزیر اعلی پنجاب کے آبائی شہر گجرات کے ضلعی پولیس افسر راجہ منور اور شیخوپورہ کے ضلعی پولیس افسر امجد سلیمی اور دو ڈاکٹروں ساجد اور فردوس کی عبوری ضمانت میں توسیع نہیں کی۔ یہ تمام افراد عدالت میں موجود تھے اور عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست نامنظور ہونے کے بعد تینوں پولیس افسر اپنے ذاتی سٹاف پر مبنی پولیس اہلکاروں کے نرغے میں اپنی اپنی سرکاری گاڑیوں تک گئے اور پھر ان میں بیٹھ کر فرار ہوگئے۔ پنجاب میں فوجداری مقدمات میں ملوث مفرور ملزمان کی گرفتاری بھی پولیس ذمہ داری اور اس حالیہ مقدمہ کے مفرور ملزمان خود اعلی پولیس افسر ہیں دیکھنا یہ ہے کہ اب ان مفرور پولیس افسروں کی گرفتاری عمل میں آتی ہے یا نہیں ؟ عدالت کا یہ فیصلے اس مرحلے پر سامنے آیا ہے جب دو روز پہلے ہی سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے احکامات جاری کیے ہیں کہ پنجاب بھر کے پچاس ہزار مفرور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور گرفتار نہ ہونے والے مفرور ملزمان کی جائیدادیں ضبط کر لی جائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||