BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 May, 2004, 07:51 GMT 12:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ججوں کے استعفے کی دھمکی

وکیلوں اور پولیس کے درمیان تصادم(فائل فوٹو)
وکیلوں اور پولیس کے درمیان تصادم(فائل فوٹو)
جمعہ کو لاہور میں وکیلوں اور ججوں کی ایک لڑائی کے بعد لاہور کی نچلی عدالت کے سو سے زیادہ ججوں نے استعفے دینے کا اعلان کیا ہے۔

وکلاء کے مشتعل ہجوم کو ججوں کے پاس جانے سے روکنے پر وکلا نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پولیس نے وکیلوں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس استعمال کی۔

جعمہ صبح ساڑھے دس بجے ایوان عدل میں ہونے والے اس ہنگامہ میں ایک ایس ایچ او اشرف چدھڑ سمیت کئی پولیس اہلکار اور جج زخمی ہوگئے ہیں۔ سیشن جج خلیل احمد چودھری کی کار توڑ پھوڑ دی گئی ہے جبکہ عدالت کے کلرک آف کورٹ کا دفتر تباہ کردیا گیا ہے۔ کلرک آف کورٹ نے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔

جھگڑا جمعرات کو اس وقت شروع ہوا تھا جب ایک عدالتی مجسٹریٹ نواز گوندل نے دو وکیلوں کی ضمانت مسقتل کرنے سے انکار کیا۔ اس پر ججوں نے لاہور کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو ان کے کمرے میں بند کردیا اور وکلاء اور پولیس میں تصادم کے بعد لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احمد اویس کی مداخلت کے بعد سیشن جج کو رہائی ملی تھی۔

جعمہ کو وکلاء نے ہڑتال کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ سیشن جج کو کام نہیں کرنے دیں گے۔

دس بجے صبح لاہور بار ایسوسی ایشن کا اجلاس ہوا جس میں کہا گیا کہ وکلاء نے عدالت کا احترام کیا ہے لیکن ان کا تقدس پامال کیا جارہا ہے۔

دوسری طرف تمام سیشن جج صبح آٹھ بجے سے کمرے میں آگۓ اور جج حضرات سینیئر سول جج مظفر شاہ اور سیشن جج خلیل احمد چودھری کے کمرے میں جمع رہے۔ ججوں نے بھی آج عدالتی کام نہیں کیا۔

سو سے زیادہ وکلاء صبح دس بجے اپنے اجلاس کے بعد ہجوم کی شکل میں سیشن جج کے کمرے کی طرف بڑھے تو پولیس نے انہیں روکا اور ہنگامہ شروع ہوگیا۔

وکلا نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کرکے وکلاء کو منتشر کیا۔

جوڈیشل ایسوسی ایشن کے صدر اعظم سرویا، ایڈیشن سیشن جج عابد حسین اور سینئر سول جج مظفر شاہ نے اعلان کیا کہ جج ان حالات میں کام نہیں کرسکتے اور ان کے سربراہ کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ ان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوۓ مستعفی ہورہے ہیں۔ ان میں لاہور کے اڑتالیس سول جج، سینتیس عدالتی میجسٹریٹ اور ستائیس ایڈیشنل سیشن جج شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد