| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس، وکلاء: محاذ آرائی
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے درمیان محاذ آرائی نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا اور ہائی کورٹ نے بار ایسوسی ایشن کی بجلی، پانی اور گیس کی سہولیات ختم کرنے کی دھمکی دی ہے۔ لاہو ہائی کورٹ نے، جو وکلاء کی بار ایسوسی ایشن کو سن اٹھارہ سو پچانوے سے بجلی اور پانی کی سہولیات فراہم کررہی ہے ، جمعرات کے روز بار ایسوسی ایشن کو تین دن کے اندر اپنے لیے پانی، بجلی اور گیس کا الگ انتظام کرنے کا حکم دیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری مزمل اختر شبیر نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت عالیہ کے رجسٹرار مقصودالحسن نے جمعرات کے روز بار ایسوسی ایشن کے ایڈمن آفیسر مختار احمد کو بلایا اور کہا کہ بار ایسوسی ایشن اپنے لیے بجلی، گیس اور پانی کے الگ کنیکشن لے اور اس سلسلہ میں ہائی کورٹ کا دفتر بار کی مدد کرے گا۔ انھوں نے کہا ایڈمن آفیسر نے رجسٹرار سے یہ بات تحریری طور پر کرنے کے لیے کہا تو انھوں نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ ان کی زبانی بات کو حتمی سمجھا جاۓ۔ دوسری طرف، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرحمن انصاری کے خلاف بھی محالف،گروپ سرگرم ہو گیاہے۔ عبدالرحمان انصاری چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ افتخار چودھری کے خلاف تحریک میں پیش پیش ہیں۔ بار کے صدر سے گزشتہ انتخابات میں ہارنے والے امیدوار سیف الملوک نے پنجاب بار کونسل میں صدر کے خلاف کارروائی کے لیے ایک درخواست دائر کردی ہے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ بار کو ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں اور انھوں نے بار اور بینچ میں ایک تناؤ پیدا کردیا ہے اور عدلیہ کی تضحیک کی ہے جو ناروا رویہ کے ذمرے میں آتا ہے اس لیے ان کے خلاف کارروائی کی جاۓ۔ پنجاب بار کونسل کے وائس چئیرمین عارف چودھری نے، جو ایل ایف او کے خلاف وکلا کی تحریک کے خلاف اور حکومت کے ہمدرد سمجھے جاتے ہیں، کہا ہے کہ انھوں نے لاہورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے خلاف اس درخواست کو کونسل کی انسداد بدعنوانی کی کمیٹی کے سپرد کردیا ہے جس کی رپورٹ ملنے پر آئندہ کارروائی کی جاۓ گی۔ دوسری طرف، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر حافظ عبدالرحمان انصاری نے بی بی سی کو کہا کہ آج ہونے والے سب اقدامات کا محرک یہ ہے کہ چیف جسٹس لیگل فریم ورک کو آئین کا حصہ قرار دے چکے ہیں اور ان کو اس کے خلاف وکلاء کی تحریک سے تکلیف ہے اس لیے انھوں نے وکلاء کے خلاف دوسرے مسائل کھڑے کیے ہیں۔ ہائی کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ وہ اپنے خلاف کسی درخواست سے نہیں گھبراتے اور جس شخص نے ان کے خلاف درخواست دی ہے وہ ان سے اٹھارہ سو سے زیادہ ووٹوں سے ہارے تھے اور وہ چیف جسٹس افتخار چودھری کے کارندے ہیں۔ ہائی کورٹ بار کے صدر کا کہنا ہے کہ وہ کل رجسٹرار سے بجلی، پانی اور گیس کے بارے میں ان کے احکامات کو تحریری صورت میں مانگیں گے اور اگر تین دن کے بعد ہائی کورٹ کا دفتر بار کو یہ چیزیں دینا بند کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جسٹس افتخار چودھری وکیلوں سے محاذ آرائی مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا متعدد بار عدالت عالیہ کے چیف جسٹس افتخار چودھری سے اختلاف ہوچکا ہے۔ چند روز پہلے عدالت عالیہ کی طرف سے وکلا کے دفاتر مسمار کرنے پر دونوں کی لڑائی تیز ہوگئی اور بار ایسوسی ایشن نے جسٹس افتخار چودھری کو چیف جسٹس ماننے سے انکار کردیا تھا اور ہائی کورٹ کی ایک سینیر جج فخرانساء کو چیف جسٹس قرار دیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||