BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 December, 2003, 04:09 GMT 09:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: کئی ججوں نے کام بند کر دیا
ایل ایف او
پاکستان مسلم لیگ (ق) اور ایم ایم اے کے نمائندے ایل ایف او پر مفاہمت کے بعد

متحدہ مجلسِ عمل اور حکومت کے درمیان ججوں کی عمر پر ہونے والے معاہدے کے بعد پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس سمیت کئی ججوں نے کام بند کر دیا ہے۔

مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے اور مسلم لیگ قائد اعظم کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد بتایا گیا ہے کہ آئین کے ترمیمی بل پر معاہدہ طے پا گیا ہے اور اب آئین میں ترامیم کے لیے ترمیم شدہ آئینی بل اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

ایم ایم اے اور حکومت کے درمیان گزشتہ بدھ کو صدر کے اختیارات اور فوجی عہدے سے علیحدگی پر معاہدہ ہو گیا تھا لیکن جمعہ کو جب اس سلسلے میں ترمیمی بل اسمبلی میں پیش کیا گیا تو ایل ایف او یعنی لیگل فریم ورک پر پھر تنازع ہو گیا۔

اسمبلی میں پیش کیے جانے والے بل میں قرار دیا گیا تھا کہ لیگل فریم ورک آرڈر ایل ایف او آئین کا حصہ ہے اوراس میں ترمیم کی جا رہی ہے۔ ایم ایم اے نے اس بات کو مفاہمت اور سمجھوتے کی خلاف ورزی قرار دیا۔

اس مفاہمت میں ہی سپریم کورٹ کے ججوں کی عمر کی معیاد میں کی گئی تین سال کی توسیع کو ختم کرنا بھی طے پایا تھا جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت دوسرے کئی ججوں نے کام کرنا بند کر دیا ہے کیونکہ اس مفاہمت کے رو بہ عمل آنے سے چیف جسٹس آف پاکستان سمیت کئی جج اپنے منصبوں پر برقرار نہیں رہ سکیں گے۔

بی بی سی کے آصف جیلانی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کی سپریم کورٹ کی بار ایسوسی ایشن کے صدر طارق محمود نے بتایا کہ سمجھوتے کے نتیجے میں شیخ ریاض، شیخ منیر، قاضی فاروق اور کرامت بھنڈاری فارغ ہو جائیں گے۔

طارق محمود نے بتایا کہ اسی لیے انہوں نے ان بنچوں پر کام بند کر دیا ہے جو سپریم کورٹ کی تعطیلات کے وجہ سے کام کر رہی تھیں۔

کیونکہ اگر مفاہمت ہوگئی ہے اور جب تک سپریم کورٹ کام شروع کرے گی تو اس وقت تک پارلیمنٹ بل کی منظوری بھی دے دے گی اور اس کی روشنی میں نئے چیف جسٹس کا تقرر بھی ہو جائے گا، تو اس اعتبار سے کام بند کرنا مناسب سمجھا گیا ہو گا۔

سمجھوتے کے مطابق طے پا گیا ہے کہ اب ججوں کی عمر کسی بھی طرح کی ترمیم نہیں کی جائے گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد