BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جج کے قتل کے ملزمان گرفتار

فائرنگ میں جج مشتاق احمد کی بیوی زخمی ہو گئی تھیں۔
فائرنگ میں جج مشتاق احمد کی بیوی زخمی ہو گئی تھیں۔

سرگودھا کے قریب تیس نومبر کو قتل کردیے جانے والے سول جج مشتاق احمد کے قتل کا مقدمہ منگل کو عظیم صوفی بزرگ سلطان باہو کی گدی نشینی کے ایک دعویدار اور اس کے پانچ ساتھیوں کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔

جج مشتاق احمد سرگودھا کے چک ایک سو چون شمالی کے رہنے والے تھے اور شور کوٹ میں سول جج تعینات تھے۔

حکومت نے ضلع جھنگ میں عظیم صوفی سلطان باہو کے مزار پر گدی نشینی کے جھگڑے کی وجہ سے انہیں مزار کا نگران (کسٹوڈین) مقرر کیا ہوا تھا۔

مشتاق احمد کو اتوار تیس نومبر کو ان کی گاڑی میں چار مسلح افراد نےاس وقت گولیاں مار کر ہلاک اور ان کی بیوی اور چار بچوں کو زخمی کردیا تھا جب وہ عید کی چھٹیاں گزارنے کے بعد واپس ضلع جھنگ جا رہے تھے۔

قاتلانہ حملہ کے الزام میں پولیس نے فوری طور پر پانچ ملزم گرفتار کیے تھے جنہوں نے تفتیش کے دوران پولیس حکام کو بتایا کہ جج نے ان کے پیر کی شان میں گستاخی کی تھی اس لیے انہوں نے حملہ کیا۔

منگل کو جج کے بھائی گلزار احمد نے سرگودھا کے تھانہ شاہ مگدر میں جو مقدمہ (ایف آئی آر) درج کرایا ا س میں سلطان باہو کے مزار کی گدی نشینی کے دعویدار خاندان کے صاحبزادہ سلطان اصغر علی اور ان کے پانچ ساتھیوں کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

ملزمان پر تعزیرات پاکستان کی دفعات تین سو چوبیس، تین سو دو، ایک سو اڑتالیس اور ایک سو انتیالیس کے علاوہ انسداد دہشت گردی کی دفعہ بھی لگائی گئی ہے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم سلطان اصغر علی کا تعلق تظیم العارفین کے جہادی ونگ سے ہے۔ ملزم سلطان اصغر علی ابھی تک گرفتار نہیں ہوا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ جج قتل سے چند روز پہلے سلطان باہو کے مزار پر نذرانوں کے گلے کھولنے کے لیے گۓ تھے جہاں صاحبزادہ سلطان اصغر علی اپنے بیس پچیس مسلح ساتھیوں سمیت آیا تو جج نے انہیں مسلح ساتھیوں کے ساتھ مزار پر آنے سے منع کیا اور کہا کہ آئندہ اگر وہ اس طرح مسلح ہوکر آیا تو وہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کروادیں گے۔ اس واقعہ کے بعد ملزمان نے جج کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔

منگل کو سرگودھا پولیس نے راولپنڈی کے ایک شخص کو بھی شامل تفتیش کیا جس کے بارے میں پولیس کا دعوی ہے کہ اس نے اپنی ضمانت پر ملزموں کو وہ کار کراۓ پر لے کر دی جس میں بیٹھ کر انہوں نے جج اور ان کے اہل خانہ پر حملہ کیا۔

سرگودھا پولیس نے گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان کو جن کا نام ایف آئی آر میں بھی درج ہے آج میجسٹریٹ کے سامنے پیش کرکے ان کا عدالتی ریمانڈ بھی لے لیا اور ان کی ضلعی جیل منتقل کردیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ آٹھ دس روز میں مقدمہ کا چالان مکمل کرکے اسے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کردے گی۔

قتل کے نامزد ملزم صاحبزادہ سلطان اصغر علی کا اپنے عزیزوں سے گدی نشینوں پر جھگڑا چل رہا ہے۔ سلطان باہو کی گدی پر لاکھوں روپے نذرانہ جمع ہوتا ہے جو گدی نشینی کے دعویدار رشتے داروں کے درمیان جھگڑے کا باعث ہے۔

حکومت نے مزار پر سول جج کو نگران مقرر کیا تھا جو وہاں نذرانوں کے ڈبے کھول کر پیسے حکومت کی تحویل میں لیا کرتے تھے لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مزار پر سرکاری ڈبوں کے علاوہ گدی نشینی کے دعویداروں نے اپنے ڈبے بھی رکھے ہوئے ہیں جن کے پیسے وہ جمع کرکے لے جاتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ اپنے ساتھ مسلح ساتھی رکھتے ہیں۔

سرگودھا کے سول جج مشتاق احمد کے قتل نے پنجاب کے بڑے مزاروں پر نذرانے کی خطیر رقوم پر گدی نشینوں کے جھگڑوں سے ہلکا سا پردہ اٹھایا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد