| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جج بدعنوان ہیں، عدالت عظمیٰ
پاکستان کی عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) نے جمعرات کو لاہور کی عدالت عالیہ (ہائی کورٹ) کے اس حکم کے حق میں فیصلہ دیا ہے جن میں پنجاب کے نو سول جج صاحبان کو بدعنوان قرار دے کر ان کی ترقی روک لی گئی تھی۔ یہ تمام سول جج پنجاب میں اس وقت بھی اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں۔ لاہور کی عدالت عالیہ (ہائی کورٹ) کے سابق چیف جسٹس، جسٹس فلک شیر کے زمانے میں ان جج حضرات کی ترقی ان پر بدعنوان ہونے کے الزام میں روک لی گئی تھی۔ جج حضرات نے ان الزامات کوعدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا۔ آج عدالت عظمیٰ کے فل بینچ نے ان درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ جج حضرات کے تقرر اور ترقی جیسے معاملات خالصتاً عدلیہ کا معاملہ ہے اور ان امور کا انتظامیہ سے کوئی سروکار نہیں۔ پنجاب کے نو سول جج حضرات، ایڈیشنل و ڈسٹرکٹ اور سیشن جج صاحبان اور عدالت عالیہ (لاہور ہائی کورٹ) کی اپیل نمٹاتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ان معاملات میں عدلیہ کی احکامات اور سفارشات ہی حتمی ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ماتحت عدلیہ کے جج حضرات کی کارکدگی کے بارے سالانہ خفیہ رپورٹ تبدیل نہیں کی جاسکتی۔ عدالت عظمی نے عدالت عالیہ لاہور کی ماتحت عدلیہ کے ججوں کی ترقی روکنے سے متعلق درخواستیں منظور کرلیں۔
عدالت عالیہ لاہور کے سابق چیف جسٹس، جسٹس فلک شیر کے زمانے میں ان جج حضرات پر بدعنوانی میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت ان کی سینیارٹی واپس لے لی گئی تھی۔ پنجاب جوڈیشل ٹریبیونل میں اس فیصلہ کے خلاف ایک متاثرہ جج میاں محمد یونس کی اپیل منظور کر لی گئی تھی جسے اب عدالت عظمیٰ نے کالعدم قرار دے دیا ہے اور دیگر جج صاحبان سے متعلق بھی عدالت عالیہ کے احکامات برقرار رکھے۔ متاثرہ جج حضرات میں چودھری بشیر حسین، راؤ محمد اکبر، چودھری محمد حنیف، طاہر پرویز ، ملک اسلم جواد، خالد محمود چیمہ، میاں محمد یونس ، نواز بھٹی اور اعجاز چودھری شامل ہیں۔ متاثرہ جج صاحبان کی وکالت جسٹس (ر) ملک محمد قیوم اور نصیر احمد بھٹہ نے کی جبکہ عدالت عالیہ لاہور کی جانب سے ملک محمد اعظم رسول پیش ہوئے۔ عدالت عظمیٰ کا فل بینچ جسٹس قاضی محمد فاروق، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس سردار محمد رضا خان پر مشتمل تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||