زیادتی کی وارداتیں، پولیس اہلکارمعطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں پنجاب کے ایک شہر گوجرہ میں کم سن لڑکیوں سے سلسلہ وار زیادتی کے واقعات کے بعد وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہٰی نے چار پولیس اہلکاروں کو معطل اور ایک کو تبدیل کرکے افسر بکار خاص لگا دیا ہے۔ گوجرہ میں تین ماہ کے دوران ایک ہی طرح کے الگ الگ واقعات میں پانچ بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ زیادتی کا نشانہ بننے والی تمام بچیوں کی عمریں پانچ سے سات سال کے درمیان ہیں۔ پولیس کے مطابق تمام سکول کی طالبات تھیں جنہیں سکول سے واپسی پر اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بے ہوشی کے عالم میں انہیں ان کے گھروں کے نزدیک پھینکا گیا۔ پہلا واقعہ اکتوبر میں پیش آیا تھااور کچھ عرصے بعد اسی نوعیت کی ایک دوسری واردات کے بعد پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا لیکن اس کے بعد بھی مزید بچیوں کو اسی انداز میں اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ آج وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی خود گوجرہ جا پہنچے انہوں نےگوجرہ کے ہسپتال کا بھی دورہ کیا اور زیادتی کا شکار ہونے والی بچیوں کی عیادت کی اور پھر ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی ۔وزیر اعلی نے انہیں یقین دلایا کہ جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جاۓ گا۔ اس موقع پر وزیر اعلی نے ایک عوام سے بھی خطاب کیا اور کہا کہ اگر پولیس پہلے ہی واقعہ پر فوری ردعمل کرتی تو ان واقعات کا سلسلہ رک سکتا تھا۔انہوں نےغفلت کا مظاہرہ کرنے پر پولیس کے ایک ڈپٹی سپرنٹڈنٹ ، ایک پولیس انسپکٹر اوردو سب انسپکٹروں کو فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کیے جبکہ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کو تبدیل کر دیا۔ وزیر اعلی کہا کہ اس علاقے کے ناظمین اور اراکین اسمبلی کا فرض تھا کہ وہ اس وقعہ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے اور انہیں انصاف کی فراہمی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||