نواز کھوکھر، ضمانت پر رہائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے رہنما نواز کھوکھر کو بدعنوانی کے ایک مقدمے میں احتساب عدالت سے دی گئی سزا معطل کر کے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ جمعرات کو لاہور ہائی کورٹ کے احتساب بینچ نے نواز کھوکھر کو تیس لاکھ روپے زر ضمانت جمع کرانے پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت کا بینچ جسٹس نجم الزمان اور جسٹس رستم علی ملک پر مشتمل تھا۔ نواز کھوکھر کے خلاف سابق صدر مملکت فاروق لغاری کے دور حکومت میں بدعنوانی کا ایک ریفرنس دائر کیا گیا تھا جس میں ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے ایک جائیداد خریدی جس کی تقریباً انیس لاکھ روپے پراپرٹی فیس تاخیر سے جمع کرائی۔ لاہور کی ایک احتساب عدالت نے نواز کھوکھر کو اس برس جون میں اس الزام میں تین سال قید، تقریباً انیس لاکھ روپے جرمانہ اور دس سال کے لیے عوامی نمائندگی سے نااہلی کی سزا سنائی تھی اور انہیں اڈیالہ جیل میں قید کر دیا گیا تھا۔ نواز کھوکھر نے اس سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی لیکن اس سے پہلے تین جج اس اپیل کو سننے سے انکار کر چکے ہیں۔ سب سے پہلے جسٹس سعید اختر نے اس مقدمہ کو سننے سے معذوری ظاہر کی تو بینچ ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد جسٹس مزمل خان نے یہ مقدمہ سننے سے معذرت کی اور آخر میں جسٹس بلال خان نے اس اپیل کو سننے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ چوتھا بینچ ہے جس نے نواز کھوکھر کی درخواست سن کر فیصلہ دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||