’مجھےکیوں روکا جا رہا ہے؟‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک طرف پاکستان مسلم لیگ(ن) کے جلا وطن صدر میاں شہباز شریف وطن آنے کے لیے کوشاں ہیں تو دوسری طرف انکے صاحبزادے حمزہ شریف نے لاہور ہائیکورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں نے استدعا کی ہے کہ انہیں بیرون ملک جانے سے نہ روکا جائے۔ عدالت نے انکی درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد ڈپٹی اٹارنی جنرل کو جعمرات کو عدالت طلبی کے نوٹس جاری کر دیا ہے ۔ حمزہ شریف کی طرف سے یہ نئی درخواست انکے وکیل بیرسٹر محمد احمد قیوم نے دائر کی ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ حمزہ شریف کے خلاف نہ تو کوئی مقدمہ ہے نہ ہی انکا کسی سیاسی جماعت اورسیاسی سرگرمی سے تعلق ہے لیکن اس کے باوجود انہیں انکی بیمار والدہ کی عیادت اور بھائی بہنوں سے ملنے کے لیے بیرون ملک نہیں جانے دیا جاتا ۔ دوران سماعت انکے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر بدر کے خلاف احتساب عدالت میں ایک مقدمہ زیر سماعت ہے لیکن اس کے باوجود انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی جبکہ حمزہ شریف کے خلاف تو کوئی مقدمہ بھی زیر سماعت نہیں ہے۔ درخواست گزار نے عدالت کو مطلع کیا کہ اس سے قبل بھی انکی اسی نوعیت کی ایک درخواست پر عدالت نے وفاقی حکومت کو فیصلہ کرنے کی ہدائت کی تھی لیکن حکام نے کوئی وجہ بتاۓ بغیر انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||