شہبار کی واپسی، اعلان جلد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماؤں نے کہا ہے کہ انکے صدر میاں شہباز شریف کی پاکستان واپسی کے لیے تاریخ کا تعین کر لیا گیا ہے تاہم حکمت عملی کے تحت فی الحال اس تاریخ کا اعلان نہیں کیا جارہا ۔ بدھ کو لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر تہمینہ دولتانہ کی رہائش گاہ پر پارٹی کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں ملک بھر سے مسلم لیگ کے قائدین نے شرکت کی ۔ اجلاس کے اختتام پر مسلم لیگ (ن) کے چئرمین راجہ ظفرالحق ،قائم مقام پارلیمانی لیڈر چودھری نثار علی خان اور سیکرٹری جنرل سر انجام خان نے ایک مشترکہ پریس بریفنگ میں اخبار نویسوں کو اجلاس میں کیے جانے والےفیصلوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو طے ہے کہ میاں شہباز شریف دس مئی سے قبل آئیں گےاور ان کے لئے ہوائی جہاز کی نشست بک کرلی گئی ہے تاہم حتمی تاریخ کا اعلان میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف سے مشاورت کے بعد دو روز کے اندر کر دیا جاۓ گا ۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کی حکومت کو اس معاملہ سے مسلسل آگاہ رکھا گیا ہے جبکہ ان کے استقبال کے لیے اے آرڈی اور دیگر سیاسی پارٹیوں سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے ۔ اجلاس میں ایک قراداد منظورکی گئی جس میں کہا گیا کہ حکومت نے اگر ان کے قائد کو زبردستی جلاوطن کرنے یا گرفتار کرنے کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔ ادھر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چودھری نثار علی نے کہا کہ شہباز شریف کی واپسی اعصاب کی جنگ کی شکل اختیار کر گئی ہے اور حکومت کے تیور سے لگتا ہے کہ وہ انہیں روکنے پر بضد ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں راجہ ظفر الحق نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتےہیں کہ واپسی کے مسئلہ پرنواز شریف اور شہباز شریف میں کوئی اختلاف راۓ ہے، وہ غلطی پر ہیں ‘۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کو اپنے پاس رکھنے میں سعودی عرب نے چونکہ مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اس لیے ایک اخلاقی ذمہ داری کے طور پر انہیں ہر معاملہ سے آگاہ رکھا جا رہا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل سرانجام خان نے کہا کہ پرویز مشرف نے حکومت میں کرپٹ لوگوں کی موجودگی کی بات کرکے ان کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی ہے اور لوگ سوچتے ہیں کہ اب یہ اسمبلیاں تحلیل ہونی چاہئیں اور نئے لوگ آگے آنے چاہئیں۔ تہمینہ دولتانہ نے کہاکہ اے آر ڈی کے رہنماؤں نے انہیں کہا ہے کہ پوری اے آر ڈی مل کر شہباز شریف کا استقبال کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں مسلم لیگی قائدین نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان شہباز کی واپسی رکوانے کے لیے سعودی حکومت سے رابطہ کر رہی ہے تو پھر اس سے زیادہ ان کی کمزوری کی اور کیا دلیل ہوگی ۔ اجلاس میں منظور کی جانے قراداد میں حکومت کو ناکا م قرار دے کر اس کے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||