BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 February, 2004, 13:26 GMT 18:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حراست جائزہے: لاہور ہائی کورٹ

درخواست گزار
فیصلے کو سپریم کورٹ کے سامنے چیلنج کریں گے: درخواست گزار
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے جوہری لیباٹری کہوٹہ میں کام کرنے والے چھ اشخاص کی حبس بے جا کی درخواستوں کو خارج کر دی ہیں اور ان کی حراست کو جائز قرار دیا ہے۔

درخواست گذاروں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ان کی حراست کو غیر قانونی قرار دے کر ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے جائیں۔

پاکستان جوہری پروگرام کے جن لوگوں کے لواحقین نے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے ان میں محمد فاروق ، ڈائریکٹر جنرل؛ میجر اسلام الحق ، ڈاکٹر عبدل قدیر خان کے پرنسپل سٹاف افسر ؛ برگیڈیر سجاول، سابقہ ڈائریکٹر جنرل سروسز ڈویثزن، کے آر ایل؛ ڈاکٹر عبدلمجید، موجودہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اینڈ فزکس ڈیپارٹمنٹ؛ نسیم الدین ، سربراہ میزائیل مینوفیچرنگ ڈویثزن ؛ڈاکٹر منصور احمد، سابقہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اینڈ فزکس؛ برگیڈیر محمد اقبال تاجور، سابقہ ڈائریکٹر جنرل سیکیورٹی کہوٹہ ؛ ڈاکٹر نذیر احمد، موجودہ چیف انجنیئر میٹلجرگ ڈیپارٹمنٹ کہوٹہ میں شامل ہیں۔

عدالت کا تفصیلی فیصلہ ابھی تک درخواست گزاروں کو نہیں دیا گیا۔عدالت نے سوموار کو اپنے مختصر فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حبس بے جا کہ تمام درخواستیں خارج کی جاتی ھیں۔

جسٹس مولوی انوارلحق اور جسٹس منصور احمد نے جمعہ کو حکومت کی طرف سے خفیہ مواد کا بند کمرے میں معائنہ کیا تھا۔ درخواست گزاروں کے وکلا نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ کے سامنے چیلنج کریں گے۔

ایڈوکیٹ چوہدری اکرام جس نے محمد فارو‍ق ، ڈائریکٹر کے آر ایل اور میجر (ریٹائرڈ) اسلام الحق جو ڈاکٹر عبدل قدیر خان کے پرنسیپل سٹاف افسر کے طور پر کام کرتے رہے ھیں، کی پیروی ہے ، نے کہا کہ اس کو عدالت کے اس فیصلے پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی ہے کیونکہ پاکستانی عدالتیں کچھ عرصے سے اسی طرح کے فیصلے کر رہی ہیں۔

چوہدری اکرام نے کہا کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں لوگوں کو شخصی آزادیوں کو سلب کیا گیا ہے اور ان کے بنیادی حقوق کو پامال کیا گیا ہے اور وہ اس معاملے ملک کی اعلی ترین ‏عدالت میں لے کر جائیں گے۔

بیرسٹر طارق کھوکھر جس نے چھ میں سے تین زیر حراست لوگوں کی پیروی کی ، نے کہا کہ اس کے موکل کی طرف سے ہدایت ملی ہے کہ اس فیصلے کو ملک کے اعلی ترین عدالت میں چیلنج کریں گے۔

وفاقی حکومت نے کہا کہ تین فوجی افسروں ، برگیڈیر (ریٹائرڈ ) سجاول خان ملک اور برگیڈیر (ریٹائرڈ) اقبال تاجور اور میجر (ریٹائرڈ) اسلام الحق کو سیکیورٹی میں ناکامی اور باقی تین سائسندانوں کو ملک کے جوہری راز افشا کرنے کے وجہ سے سیکیورٹی آف پاکستان کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد