BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 February, 2004, 14:00 GMT 19:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بند کمرے میں سماعت کر لیں‘

لاہور ہائی کورٹ
حکومتِ پاکستان نے پیر کے روز عدالت کو بتایا کہ وہ جوہری توانائی کی بیرون ملک منتقلی سے متعلق تمام امور پر عدالت کو اعتماد میں لینے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ عدالت مقدمے کی سماعت بند کمرے میں کرئے۔

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے، جو جوہری پروگرام پر کہوٹہ میں کام کرنے والے چھ افراد کے لواحقین کی جانب سے دائر کردہ مقدمے کی سماعت کر رہا ہے، حکومت کی پیشکش پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا اور یہ کہا کہ پہلے حکومت درخواستوں کا تحریری جواب لے کر آئے، اس کے بعد عدالت یہ فیصلہ کرئے گی کہ وہ خفیہ معلومات دیکھنا چاہے گی یا نہیں۔

گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے حکومت کو آخری موقع دیا تھا کہ وہ آئندہ عدالتی کارروائی پر ہر صورت جواب پیش کرے اور اٹارنی جنرل خود بھی عدالت میں پیش ہوں۔

پیر کو جب جسٹس مولوی انوارالحق اور جسٹس منصور احمد پر مشتمل بینچ نے مقدمے کی سماعت شروع کی تو حکومت کی طرف سے پھر کوئی جواب عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔

اٹارنی جنرل کی عدالت میں موجودگی میں حکومت کے ایک اور وکیل طارق محمود چوہدری نے عدالت سے کہا کہ حبس بےجا کی درخواستوں کو خارج کر دیا جائے۔

ڈاکٹر قدیر
ڈاکٹر قدیر کو حکومت نے معاف کر دیا ہے

طارق محمود چوہدری کا استدلال تھا کہ حکومت نے جوہری لیبارٹری کے چھ افراد کو پاکستان کی سیکیورٹی کے قانون کے تحت حراست میں لیا ہے کیونکہ ان کی سرگرمیاں ملک کے مفادات کے خلاف تھیں اور اسی بنا پر انہیں تین ماہ کے لیے نظربند کیا گیا ہے۔

حکومت کے وکیل نے عدالت میں وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نظربندی کے چھ مختلف آرڈرز کی نقول بھی پیش کیں۔ لیکن اس کے باوجود جب عدالت مطمئن نہ ہوئی تو ججوں نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ ’یہ سب کیا ہو رہا ہے اور حکومت عدالت کے سامنے آنے سے کیوں ہپچکچا رہی ہے‘؟

اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے کہا کہ حکومت عدالت کو ہر چیز بتانے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ مقدمے کی سماعت بند کمرے میں ہو۔

درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر طارق کھوکھر نے کہا کہ حکومت ایک تھانیدار کو تو اس قابل سمجھتی ہے کہ اس کو اس حساس مسئلے کے تمام نکات بتائے تاکہ وہ آیف آئی آر درج کر سکے لیکن حکومت نے عدالت کو اعتماد میں لینے سے ابھی تک گریز کیا ہے۔

دریں اثناء عدالت نے حبس بے جا کی ایک درخواست کو، جس میں تحویل میں لیے گئے اشخاص کے ایک رشتہ دار نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان کو بھی غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کو رہا کیا جائے، اس اعتراض کے ساتھ واپس کر دیا ہے کہ ان لوگوں کو یہ درخواست دینے کا حق نہیں ہے۔

عدالت کے ایک اہلکار نے درخواست واپس کرتے ہوئے یہ لکھا کہ چونکہ اب اس معاملے کی ایف آئی آر درج ہو چکی ہے لہذا اب اس درخواست کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

پاکستان جوہری پروگرام کے جن لوگوں کے لواحقین نے عدالت سے رجوع کیا ہے ان میں محمد فاروق، ڈائریکٹر جنرل؛ میجر اسلام الحق ، ڈاکٹر عبدل قدیر خان کے پرنسپل سٹاف افسر ؛ برگیڈیر سجاول، سابقہ ڈائریکٹر جنرل سروسز ڈویژن، کے آر ایل؛ ڈاکٹر عبدلمجید، موجودہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اینڈ فزکس ڈیپارٹمنٹ؛ نسیم الدین ، سربراہ میزائیل مینوفیچرنگ ڈویثزن ؛ڈاکٹر منصور احمد، سابقہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اینڈ فزکس؛ برگیڈیر محمد اقبال تاجور، سابقہ ڈائریکٹر جنرل سیکیورٹی کہوٹہ ؛ ڈاکٹر نذیر احمد، موجودہ چیف انجنیئر میٹلجرگ ڈیپارٹمنٹ کہوٹہ میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد