BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 February, 2004, 17:34 GMT 22:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بس فوج پاک صاف رہے‘

قدیر خان
ڈاکٹر عبدالقدیر کے حوالےسے بدھ کے روز ہونے سامنے آنے والے ڈرامائی واقعات سے ایک ہی پیغام ملتا ہے کہ فوج پاک صاف رہے اور گند سیولین اٹھائیں، وہ ایٹمی سائنسدان ہوں یا سیاستدان۔

الزامات ایٹمی سائنسدانوں پر لگے اور فوج مبرا رہی۔ فیصلے کا وقت آیا تو فوج کی قیادت پیچھے چلی گئی اور یہ ذمہ داری وفاقی کابینہ پر ڈال دی گئی ہے۔ اب حکمران جماعت کے صدر چودھری شجاعت حسین ڈاکٹر عبدالقدیر کا دفاع کرتے نظر آرہے ہیں۔

بدھ کی شام سرکاری ٹی وی کے توسط سے قوم کے سامنے ایک تحریری بیان پڑھتے ہوۓ ڈاکٹر عبدالقدیر کا کہنا تھا کہ ان پر لگاۓ گۓ زیادہ الزامات درست ہیں اور جو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار وہ ہیں اور اس میں حکومت نے انھیں ایسا کرنے کے لیے نہیں کہا تھا۔

لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ جس ایٹمی پروگرام کی ساری نگرانی فوج کے پاس تھی اور جس میں کام کرنے والے ماہرین کے فون ٹیپ ہوتے تھے اور ان کی کڑی نگرانی کی جاتی تھی، اتنی حساس جگہ سے ایٹمی معلومات اور پرزوں کی منتقلی جیسا بڑا کام فوج کو دھوکہ دے کر کیسے کر سکتے ہیں۔

عالمی میڈیا میں فوج کے دو سابق سربراہوں اسلم بیگ اور جہانگیر کرامت کے نام لیے جارہے ہیں کہ وہ اس کام سے باخبر تھے۔ اسلم بیگ ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں جبکہ جہانگیر کرامت خاموش ہیں اور ان الزامات کو نظر انداز کررہے ہیں۔

اگر ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی میں کسی فوج کے سربراہ کی مرضی شامل نہ بھی ہو تب بھی جس فوجی سربراہ کے دور میں یہ کام ہوا اس پر اپنے فرائض سے غفلت اور لا پرواہی کا الزام تو عائد ہوسکتا ہے۔

اب یہ سوال بھی پیدا ہورہا ہے کہ اگر ڈاکٹر عبدالقدیر کے خلاف تحقیقات باقاعدہ طور پر شروع ہوں اور وہ عدالت میں کھلے عام حقائق بیان کریں تو کیا فوج کے لیے اپنا دامن چھڑانا اتنا آسان ہوسکے گا جتنا ان خفیہ تحقیقات کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر کو معافی دے کر ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بارے میں تحقیقات کو آگے بڑھانے اور ان کی رحم کی اپیل کے بارے میں حتمی فیصلے کا مشکل مرحلہ آیا تو صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے ہونے والے اجلاس میں طے کیا گیا ہے کہ یہ کام وفاقی کابینہ کرے۔

حکمران جماعت کے صدر چودھری شجاعت حسین دو ماہ میں پہلی بار اس معاملے میں سامنے آۓ ہیں اور انھوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر سے ملاقات کی اور ان کا دفاع کیا ہے۔ انھوں نے بیان دیا کہ اب یہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرلیا جاۓ گا اور یہ کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کوئی پیسہ نہیں بنایا حالانکہ میڈیا میں ان پر ایسے الزامات کی بھر مار کی گئی تھی۔

اب سرکاری اور حکومت کے زیراثر نجی میڈیا پر اس بات کو دہرایا جارہا ہے کہ اس معاملے کو سرکاری رنگ نہ دیا جاۓ کہ یہ قومی سلامتی کا بڑا نازک معاملہ ہے اور ڈاکٹر عبدالقدیر نے بھی ایسا ہی بیان دیا ہے۔

حکومت کا روۓ سخن متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین احمد کی طرف ہے جنھوں نے جمعہ کے روز چھ فروری کو ایٹمی سائنسدانوں کی تفتیش کے خلاف ملک بھر میں عام ہڑتال کی کال دی ہوئی ہے۔

خدشہ یہ ہے کہ اگر جمعہ کے روز پاکستان کے بڑے شہروں جن میں خاص طور پر لاہور، کراچی اور راولپنڈی شامل ہیں میں عام ہڑتال ہوگئی تو یہ جنرل مشرف کے چار سال سے زیادہ کے دور اقتدار میں ہونے والی پہلی احتجاجی ہڑتال ہوگی۔

جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد نے آج ایک بار پھر ہڑتال کی کال پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ راجہ ظفرالحق نے ان سے کہا ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہیں اور پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ جمعرات کو اے آر ڈی کے اجلاس کے بعد وہ کوئی فیصلہ کریں گے۔

اگر جمعرات کو وفاقی کابینہ ڈاکٹر عبدالقدیر کو ان کی درخواست پر معافی دینے کا اعلان کردیتی ہے تو اس سے حکومت پر سیاسی دباؤ تو کم ہوگا۔ لیکن اس معاملہ پر عمومی راۓ عامہ جنرل مشرف کے خلاف اور ایٹمی سائنسدانوں کے حق میں رہی ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر کو عام معافی مل جانے سے شائد یہ ہنگامہ وقتی طور پر ختم ہوجاۓ لیکن ان کے خلاف ایٹمی ٹیکنالوجی کو پھیلانے کے الزامات اور ان کےمیڈیا ٹرائل سے پاکستان کے چہرے پر جو آلودگی لگی ہے اسے دھونے میں شائد وقت لگے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد