BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 February, 2004, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خفیہ معاملہ ہے، خفیہ ہی رہنے دیں‘

لاہور ہائی کورٹ
مقدمے کی سماعت ہائی کورٹ کے راولپنڈی پینچ میں ہورہی ہے
وفاقی حکومت نے بدھ کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کو بتایا کہ حکومت جوہری لیبارٹری کہوٹہ سے جوہری رازوں کی چوری سے متعلق خفیہ معلومات عدالت کے سامنے نہیں رکھ سکتی-

حکومتی وکلاء نے کہا کہ حکومت خفیہ معلومات کو افشا نہ کرنے سے متعلق اپنا استحقاق استعمال کرتے ہوئے اس معاملے کی تمام تفیصلات سے عدالت کو آگاہ نہیں کر سکتی۔

بدھ کو حکومتی وکلا نے جو موقف اختیار کیا وہ گزشتہ پیشی کے دوران حکومت کے موقف سے حیران کن حد تک مختلف ہے۔

اٹارنی جنرل نے پچھلی پیشی پر پیشکش کی تھی کہ اگر عدالت بند کمرےمیں سماعت کرئے تو حکومت کوئی چیز بھی عدالت سے نہیں چھپائے گی۔

تاہم عدالت نے حکومت کی پیشکش پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا اور حکم دیاتھا کہ حکومت پہلے عدالت میں اپنا تحریری بیان داخل کرے اس کے بعد عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا اس معاملہ کو بند کمرے میں سنا جانا چاھیۓ یا نہیں۔

حکومت نے کہا کہ کے آر ایل میں کام کرنے والے چھ لوگوں کو ملک کے ایٹمی راز افشا کرنے کی پاداش میں حراست میں لیا گیا ہے اور عدالت کو اس سے زیادہ اطلاعات فراہم نہیں کی جا سکتیں کیونکہ یہ خفیہ پروگرام سے متعلق ہیں اور اس کے افشا کرنے سے ملک کی جوہری طاقت اور بیرونی ممالک کے ساتھ تعلقات خطرے میں پڑھ سکتے ہیں۔

حکومت نے کہا کہ یہ ایک خفیہ معاملہ ہے اور اس کو خفیہ ہی رہنے دیا جائے۔

اپنے تحریری جواب میں وفاقی حکومت نے کہا کہ تین فوجی افسروں، بریگیڈیر (ریٹائرڈ ) سجاول خان ملک اور بریگیڈیر (ریٹائرڈ) اقبال تاجور اور میجر (ریٹائرڈ) اسلام الحق کو سیکیورٹی میں ناکامی اور باقی تین سائسندانوں کو ملک کے جوہری راز افشا کرنے کی وجہ سے سیکیورٹی آف پاکستان کے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

حکومت نے اس الزام کی تردید کی کہ ان لوگوں کو کسی بیرونی ملک کے کہنے پر حراست میں لیا گیا ہے۔

حکومت نے کہا حراست میں لیے گئے لوگوں کو بخوبی علم ہے کہ ان کو کیوں گرفتار کیا گیاہے اور وہ اگر چاہیں تو اپنی ایک عرضداشت نظرِ ثانی بورڈ کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔

درخواست گذاروں کے وکلا کے مطالبے پر عدالت نے مقدمے کی سماعت سترہ فروری تک ملتوی کر دی ہے تاکہ وہ حکومت کی طرف سے دیئے گئے جواب میں اٹھائے گئے نکات کا جواب دے سکیں۔

عدالت جسٹس مولوی انوالحق اور جسٹس منصور احمد پر مشتمعل تھا۔

پاکستان جوہری پروگرام کے جن لوگوں کے لواحقین نے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے ان میں محمد فاروق ، ڈائریکٹر جنرل؛ میجر اسلام الحق ، ڈاکٹر عبدلقدیر خان کے پرنسپل سٹاف افسر ؛ برگیڈیر سجاول، سابقہ ڈائریکٹر جنرل سروسز ڈویژن، کے آر ایل؛ ڈاکٹر عبدالمجید، موجودہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اینڈ فزکس ڈیپارٹمنٹ؛ نسیم الدین ، سربراہ میزائیل مینوفیچرنگ ڈویثزن، ڈاکٹر منصور احمد، سابقہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اینڈ فزکس؛ برگیڈیر محمد اقبال تاجور، سابقہ ڈائریکٹر جنرل سیکیورٹی کہوٹہ ؛ ڈاکٹر نذیر احمد، موجودہ چیف انجنیئر میٹلرجیکل ڈیپارٹمنٹ کہوٹہ میں شامل ھیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد