| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کا فیصلہ اہم کیوں ہے؟
جمعہ کے روز سپريم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ نےاپنے ایک فیصلے میں قرار دیا کہ کوئی بھی عاقل و بالغ مسلمان عورت اپنی مرضی سے شادی کرنے کی اہل ہے اور اس کو کسی ولی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس نے ملک میں اپنی پسند کی شادی کرنے والے سینکڑوں جوڑوں کے سامنے پائی جانے والی بے یقینی کی اس کیفیت کو دور کر دیا ہے جس کا اس مقدمے کے مسلسل التواء کی وجہ سے انہیں سامنا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق ایسے کئی جوڑے اپنے اس ’جرم‘ کی پاداش میں پولیس کے ہاتھوں ذلت و رسوائی کا سامنا کر رہے تھے۔ پاکستان میں اگرچہ کہنے کی حد تک لڑکیوں کو اپنی پسند کی شادی کرنے کی اجازت ہے لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہے اور زیادہ تر لڑکیوں کو سماجی دباؤ کی وجہ سے اس معاملے میں والدین کے فیصلوں کا احترام کرنا پڑتا ہے۔
اب سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد امید کی جارہی ہے کہ والدین اپنی بیٹیوں کی زندگیوں کے فیصلے کرتے وقت ان کی رضا کا ضرور احترام کریں گے اور یہی بات خواتین کو طاقت بخشے گی۔ اگرچہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ صائمہ وحید اور شبانہ ظفر کی طرف سے دائر کی جانے والی اپیلوں پر دیا گیا ہے لیکن اس کے ذریعے عائشہ اعجاز کی پسند کی شادی کے مقدمے پر لاہورہائی کورٹ کے جسٹس (ریٹائرڈ) عبدالحفیظ چیمہ کے فیصلہ کی وجہ سے پیدا ہونے والی قانونی پیچیدگیاں بھی دور ہو گئی ہیں۔ درحقیقت مسلمان عورت کی اپنی مرضی سے شادی کے لئے کسی ولی کی اجازت سے متعلق تنازعہ بھی جسٹس (ریٹائرڈ) عبدالحفیظ چیمہ کے فیصلے کے بعد ہی کھڑا ہوا تھا۔ نوے کی دہائی کے وسط میں دیئے گئے اس فیصلے میں جسٹس چیمہ نے قرار دیا تھا کہ ایک عاقل و بالغ مسلمان عورت کو بھی اپنی شادی کے لئے اپنےخاندان کے کسی ولی کی اجازت کی ضرورت ہے۔ پچاس صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں انہوں نے لکھا تھا کہ اگر بلوغت کی حد پار کرنے والی لڑکیوں کو یہ اجازت دے دی جائے کہ اپنی مرضی سے شادی کر لے تو اس سے نہ صرف نوجوان لڑکیوں کو گھاگ مردوں کے چنگل میں پھسنے کے خطرات بڑھ جائیں گے بلکہ خاندانی نظام کا ڈھانچہ بھی دھڑام سے گرپڑے گا۔ جسٹس چیمہ کے فیصلے سے نہ صرف نوجوان لڑکیوں کے متاثر ہونے کا خدشہ تھا بلکہ اس فیصلے کی رُو سے ولی کی اجازت کی شرط سے بڑی عمر کی عورتوں حتیٰ کہ مطلقہ خواتین پر بھی لاگو ہونا تھی۔ اس فیصلے سے مثاثر ہونی والی عائشہ اعجاز کے والدین نے اس کی منگنی شاہد سے کی تھی۔ یہ منگی دوسال تک برقرار رہی۔ بعد میں عائشہ کے والد نے یہ منگنی توڑ دی لیکن عائشہ نے فیصلہ کیا کہ وہ شادی شاہد سے ہی کرے گی۔
وہ اپنی ایک پڑوسن کو ساتھ لے کر ملتان پہنچ گئی اور وہاں اس نے شاہد سے نکاح کر لیا۔ لیکن جب عائشہ کے والد کو اس معاملے کا علم ہوا تو انہوں نے الزام لگایا کہ شاہد ان کے بیٹی کو گمراہ کر رہا ہے۔ بعد میں جسٹس (ریٹائرڈ) عبدالحفیظ چیمہ نے ہی شبانہ ظفر اور محمد اقبال کی مرضی کی شادی پر فیصلہ دیا تھا۔ فیصل آباد کی رہائشی انیس سالہ شبانہ ظفر محمد اقبال کی بہن کے ساتھ بازار سے خریداری کا بہانہ کر کے گھر سے نکلی تھی۔ بعد میں اس نے لاہور پہنچ کر محمد اقبال سے شادی کر لی تھی۔ اس کے والد نے الزام لگایا تھا کہ اس کی بیٹی کو اغواء کیا گیا ہے۔ جسٹس چیمہ نے اس شادی کو بھی فاسد قرار دیا تھا۔ ان کے فیصلوں کی بنیاد یہ دلیل تھی کہ ڈش اینٹینا کے متعارف ہونے کے بعد پاکستانی معاشرہ مغرب اور ہندوستان سے پھوٹنے والے جنسی باغیانہ رویے اور آدھے درجن کے قریب ہندوستانی ٹی وی چینلوں کے پروپیگنڈے کا نشانہ بن رہا ہے۔ ان کے خیال میں اس پروپیگنڈے کا بنیادی مقصد اسلام کے نظریہ حیات کو تباہ کرنا ہے۔ اس تنازعے کا شکار ہونے والا تیسرا جوڑا صائمہ وحید اور ارشد امجد تھا۔ لاہور کے مذہبی روپڑی خاندان سے تعلق رکھنے والی صائمہ وحید نے جب اپنی مرضی سے شادی کی تو لاہور کے سماجی حلقوں میں گویا ایک بھونچال آگیا۔ اور جب یہ مقدمہ لاہور ہائی کورٹ کے ایک تین رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوا تو اس نے اسے دو، ایک کی اکثریت سے اس شادی کو جائز قرار دے دیا۔ لیکن بعد میں جسٹس (ریٹائرڈ) خلیل الرحمٰن خان کی سربراہی میں ایک فل بینچ نے اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا اور کہا کہ ولی کی مرضی کے بغیر طے پانے والی یہ شادی غیر موثر ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کے اس فیصلے کے خلاف سن انیس سو ستانوے میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کے فیصلے پر عمل درآمد روک دیا تھا اور اپیل کو باقاعدہ سماعت کے لئے منظور کر لیا تھا۔ اس سے پہلے فیڈرل شریعت کورٹ نے سن انیس سو اکیاسی میں قرار دیا تھا کہ ایک عاقل اور بالغ مسلمان عورت کو ایک عاقل اور بالغ مرد سے شادی کے لئے کسی ولی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ جمعے کے روز جاری ہونے والے سپریم کورٹ کے فیصلے سے نہ صرف لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کا فیصلہ غیر موثر ہو گیا ہے بلکہ وہ تمام فیصلے بھی اپنا اثر کھو چکے ہیں جو فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے سے متصادم ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||