کھاتےداروں کے حق میں فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے کھاتے داروں کے بارے میں معلومات بینکوں سے مرکزی ریوینیو بورڈ کو فراہم کیے جانے کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ جمعرات کو دیے جانے والی ایک فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ بینکوں کا ٹیکس جمع کرنے والے اداروں کو اپنے کھاتے داروں کے بارے میں اطلاعات دینا غیر قانونی ہے۔ ہائی کورٹ کے جج محمد غنی نے سٹیٹ بینک کے اس سرکلر کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کردیا جس میں بینکوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے ایسے کھاتے داروں کے کھاتوں کے بارے میں معلومات سینٹرل بورڈ آف ریوینیو (سی بی آر) کو دیں جن کو یہ بینک دس ہزار روپے سے زیادہ سالانہ منافع دیتے ہیں۔ جج نے اس سرکلر کے خلاف وکیل ایم ڈی طاہر کی ایک رٹ درخواست کو منظور کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔ جج نے کہا کہ پاکستان کے لوگوں کا حق ہے کہ انھوں نے بینکوں کو اپنے مادی معلومات کے متعلق جو معلومات اچھی نیت سے دی ہیں انھیں ٹیکس اکٹھا کرنے والی ایجنسیوں کی شکاری نگاہوں کے سامنے نہ لایا جائے خاص طور پر اجس صورت میں جب کہ بینکوں کے پاس اس کھاتے دار کی طرف سے کسی غلط کام کرنے کا کوئی الزام بھی نہ ہو۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسا کرنے کے بارے میں سٹیٹ بینک کا جاری کیا ہوا سرکلر بینک کے خود اپنے قانون مجریہ انیس سو چھپن کے بھی خلاف ہے، کیونکہ یہ اسٹیٹ بینک کو ایسی ہدایات جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیتا۔ جج نے یہ بھی کہا کہ یہ سرکلر بینکنگ کمپنیز آرڈیننس انیس سو باسٹھ کے بھی خلاف ہے۔ جج نے کہا کہ یہ سرکلر آئین کے آرٹیکل چار، نو، چودہ اور پچیس کے بھی خلاف ہے۔ عدالت عالیہ نے اسٹیٹ بینک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اس سرکلر کے ذریعے لاکھوں لوگوں خاص طور پر بوڑھے لوگوں اور بیواؤں کی قسمت سی بی آر کے ہاتھ میں دے دی تھی جو ایک کوڑے مارنے والے شخص کی طرح ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||