BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 March, 2005, 16:08 GMT 21:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مختاراں مائی کو 21 لاکھ کی امداد

کینیڈا کی سفیر
کینیڈا کی سفیر مختاراں مائی کو امدادی چیک دیتے ہوئے
پاکستان میں کینیڈا کی سفیر مارگریٹ ہوبر نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر مظفرگڑھ کےگاؤں میروالہ میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں مختاراں مائی کو لڑکیوں کا سکول چلانے کے لیے اکیس لاکھ روپے کا امدادی چیک دیا ہے۔

اس امدادی رقم سے مختاراں مائی گرلز پرائمری سکول میں چار نئے کمرے تعمیر کیۓ جائیں گے جبکہ باقی رقم کی مدد سے ایک مویشی پال منصوبے کا آغاز بھی کیا جائے گا تاکہ سکول چلانے کے لیے درکار اخراجات کو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعے پورا کیا جاسکے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوۓ مارگریٹ ہوبر نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کے عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر وہ مختار مائی کے ساتھ ان کے گاؤں میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف تشدد صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا اس مسئلے کا شکار ہے’لیکن مختاراں مائی کے معاملے میں جو بات غیر معمولی ہے وہ ان کا حوصلہ مندی کے ساتھ اپنے ذاتی المیہ کا مقابلہ کرنا اور اس جدوجہد سے حاصل ہونے والی شہرت کو تعلیم کے فروغ کے لیے کام میں لانا ہے‘۔

کینیڈا کی سفیر کا کہنا تھا کہ مختاراں مائی نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں خواتین کے حقوق کی تحریک میں ایک مثالی کردار کے طور پر ابھری ہیں۔

مارگریٹ ہوبر نے توقع ظاہر کی کہ اور لوگ بھی تعلیم کے ذریعے جہالت کے اندھیرے دور کرنے میں مختاراں مائی کا ساتھ دیں گے۔

کینیڈا کی سفیر
کینیڈا کی سفیر مظفرگڑھ کے گاؤں میں ہونے والی تقریب میں

مختاراں مائی کو بائیس جون دو ہزار دو میں ایک پنچایت کے حکم پر میر والہ میں اس لیے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا کیونکہ علاقے کے با اثر مستوئی قبیلے کو شک تھا کہ ان کے بھائی عبدالشکور کے ان کی ایک لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔

ڈیرہ غازی خان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اکتیس اگست دو ہزار دو میں مختاراں مائی اجتماعی زیادتی کیس میں چھ ملزموں کو موت اور کوڑوں کی سزا سنائی تھی لیکن چند روز قبل لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ نے پانچ ملزموں کو بری جبکہ چھٹے کی سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کا حکم جاری کیا ہے۔

ہائی کورٹ کے فیصلے پر خواتین اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیمیں کڑی تنقید کر رہی ہیں جبکہ مختاراں مائی اور بعد میں حکومت نے بھی اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا اعلان کیا ہے۔

اڑھائی برس قبل جب مختاراں مائی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کی تو اظہار ہمدردی کے طور پر صدر جنرل پرویز مشرف نے انہیں پانچ لاکھ روپے کا چیک بجھوایا تھا لیکن اس رقم کو اپنے اوپر خرچ کرنے کی بجائے مختاراں مائی نے زمین خرید کر میروالہ میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے دو سکول تعمیر کروائے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد