سوئی ریپ کیس: قرارداد منظور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل آٹھ مارچ کو حقوق نسواں کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کی قومی اسمبلی میں حکومت اور حزب مخالف کی تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی ہے، جس میں ڈاکٹر شازیہ پر جنسی تشدد کے ملزمان کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ منظور کردہ قرارداد میں تمام جماعتوں کی خواتین نے پاکستان میں عورتوں کو آئین میں دیے گئے حقوق دلانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ لیکن اس موقع پر متحدہ مجلس عمل کی خواتین اراکین کا حکومتی اتحاد اور دیگر جماعتوں کی خواتین سے عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین بالخصوص حدود آرڈیننس وغیرہ، ختم کرنے پر اختلافات بھی کھل کر سامنے آئے۔ ایک موقع پر متفقہ قرارداد میں شامل الفاظ’ خواتین کے خلاف امتیازی قوانین ختم کرنے، پر مجلس عمل کی خواتین نے اعتراض کیا اور آخر کار وہ الفاظ قرار داد سے نکالے گئے۔ منگل کو ایوان میں نجی کارروائی کا دن ہوتا ہے اور اجلاس شروع ہوا تو راجہ پرویز اشرف کی نشاندہی پر قومی اسمبلی کے سپیکر چودھری امیر حسین نے گزشتہ روز ناہید خان کے ساتھ مختاراں مائی کیس کے پانچ ملزمان کی بریت کے معاملے پر بات کرنے کی اجازت نہ دینے پر ان سے ہونے والی گرما گرمی پر سپیکر نے معذرت کرلی۔ اس دوران سمیعہ راحیل قاضی نے تجویز پیش کی کہ آج خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے اس موقع پر خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی خاطر ایک گھنٹے تک ایوان کی کارروائی موخر کی جائے۔ حکومت نے تجویز کی مخالفت نہیں کی اور کارروائی معطل کی گئی۔ دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو حزب مخالف کے اتحاد مجلس عمل نے احتجاجی طور پر واک آؤٹ کیا اور مطالبہ کیا کہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومینٹ کے رکن کنور خالد یونس حافظ حسین احمد کو گزشتہ رات ہونے والی تلخی کے دوران دی جانے والی گالی پر معافی مانگیں۔کنور خالد یونس نے کہا کہ حافظ بھی الطاف حسین کے خلاف اپنے الفاظ واپس لے اور معذرت کریں۔ جب معاملہ طئے نہیں ہوا تو سپیکر نے ایک بار پھر ایوان کی کارروائی معطل کرکے فریقین کو اپنے چیمبر میں بلالیا۔ بعد میں اجلاس شروع ہوا تو کنور خالد نے معذرت کرلی جبکہ حافظ حسین احمد کے بجائے لیاقت بلوچ نے افسوس کا اظہار کیا اور معاملہ رفع دفع ہوا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سرکاری ملازمین کی برطرفی کے متعلق صدر کو حاصل لامحدود صوابدیدی اختیارات کا آرڈیننس ختم کرنے کے لیے ایک بل پیش کیا گیا۔ جس کی حکومت نے مخالفت کردی۔ بل پر بات کرتے ہوئے چودھری منظور نے کہا کہ اس وقت ملک میں ڈھائی کروڑ لوگ بے روزگار ہیں اور اس قانون کے تحت اب تک لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومتی بینچوں پر بیٹھے اراکین سے کہا کہ وہ اس کالے قانون کے خاتمے کی حمایت کریں ۔ سپیکر نے مزید بحث آئندہ نجی کارروائی کے دن تک ملتوی کردی۔ اس کے بعد حکومتی اراکین ایم پی بھنڈارا اور کشمالہ طارق کی جانب سے خواتین کے خلاف امتیاز برتنے اور غیرت کے نام پر قتل کے بارے میں مزید ترامیم کے لیے بل پیش کیے گئے۔ حکومت نے ان کی مخالفت نہیں کی اور وزیر مملکت برائے قانون وانصاف شاہد اکرم بھنڈر نے متعلقہ کمیٹی کو بھیجنے کی رائے دی۔ سپیکر نے دونوں بلوں کو اکٹھا کرکے ایوان کی کمیٹی کو غور کے لے بھجوانے کا کہا۔ ایوان میں حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت بھی موجود تھے اور انہوں نے گزشتہ رات گئے تک جاری اجلاس میں اپنی جماعت کے سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کی جانب سے بلوچستان کے بارے میں قائم کمیٹی پر نکتہ چینی کا جواب دیا۔انہوں نے جمالی صاحب کو کمیٹی کے سولہ مارچ کو بلائے گئے اجلاس میں شریک ہوکر اپنی رائے دینے کی دعوت دی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||