’کیپٹن حماد سمیت کوئی بھی نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوئی میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد نے شناخت پریڈ میں پیش کیے گئے گیارہ ملزمان میں سے کسی پر انگلی نہیں اٹھائی۔ انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان چوہدری یعقوب نے بتایا ہے کہ شناخت پریڈ میں ڈیفنس سروسز گارڈز کے کیپٹن حماد سمیت سات اہلکار پاکستان پیٹرولیم لیمیٹڈ کے سابق چیف میڈیکل آفیسر عثمان علی سمیت چار اہلکاروں کو پیش کیا گیا۔ اس موقع پر لیڈی ڈاکٹر کو ملزمان کی آوازیں بھی سنائی گئیں۔ آئی جی نے بتایا ہے کہ کیپٹن حماد کو دیگر ملزمان کے ساتھ شامل کرکے شازیہ خالد کو دکھایا ہے لیکن وہ کسی کو شناخت نہیں کر پائیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ شازیہ خالد نے اپنے انٹرویوں میں کہا تھا کہ ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اس لیے وہ ملک سے باہر جا رہی ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے ذرائع ابلاغ کو واضح الفاظ میں کہا تھا کہ کیپٹن حماد اس میں ملوث نہیں ہے جس پر مبصرین نے کہا تھا کہ یہ کارروائی میں اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔ شناخت پریڈ کراچی کے قریب واقعہ بلوچستان کے شہر حب میں جوڈیشیل مجسٹریٹ کے سامنے ہوئی۔ اس کے لیے آئی جی نے بتایا ہے کہ باقاعدہ عدالت سے اجازت لی گئی تھی کیونکہ شازیہ خالد سوئی یا کوئٹہ وغیرہ نہیں آسکتی تھیں۔ لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد اپنے والدین اور عزیزو اقارب کے ساتھ آئی تھیں۔حب میں اس موقع پر سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔ لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد سے جنوری کے اوائل میں نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی تھی جس کے بعد سوئی میں فسادات پھوٹ پڑ ے تھے۔اس موقع پر ڈی ایس جی کے اہلکاروں اور سوئی گیس فیلڈ پر حملے کیے گئے۔ پانچ روز تک جاری رہنے والے ان حملوں میں دونوں جانب سے شدید فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں ڈی آیس جی کے چار اہلکاروں سمیت کل آٹھ افراد ہلاک ہوئے اور تیس سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اس کے بعد بلوچستان بھر میں حالات کشیدہ ہو گئے جب ریلوے بجلی اور ٹیلیفون کی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||