BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 January, 2005, 04:36 GMT 09:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوئی، مزاحمت کریں گے: بگٹی
سوئی میں بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کر لی گئی ہے: بگٹی
علاقے سے نکالے جانے کے خلاف مزاحمت کریں گے۔ اکبر بگٹی
بلوچ سردار اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ فوج نے سوئی کے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے اور وہ بگٹیوں کے گھروں کو مسمار کرنے کے لیے وہاں پہنچی ہے۔

اکبر بگٹی نے کہا کہ بگٹی قبیلے کے لوگ اپنی زمین کو نہیں چھوڑیں گے اور مادر وطن سے نقل مکانی پر مجبور کرنے کی ہر کوشش کے خلاف مزاحمت کریں گے۔

بی بی سی کے گفتگو کرتے ہوئے اکبر بگٹی نے کہا کہ ایک دن پہلے ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ بگٹیوں کو علاقے سے نہیں نکالا جائے گا اور فوج بگٹی علاقے میں نہیں آئے گی۔

لیکن ایک دن بعد آرمی کا ایک برگیڈ نے جس کے پاس سترہ ٹینک ہیں، پوزیشنیں سنبھال لیں ہیں ۔ فوج کے علاوہ فرنیڑ کانسٹیبلری کے ہزاوں اہلکار پہلے ہی علاقے میں موجود ہیں۔

انہوں نےکہا کہ ان کو بتایا گیا ہے کہ سوئی کے گرد و نواح کے علاقے میں آپریشن کیا جائے گا اور وہاں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جائے گا۔ کیونکہ ’وہ‘ سمجھتے ہیں کہ وہاں بسنے والے غدار اور ناقابل بھروسہ ہیں

اکبر بگٹی نے کہا کہ فوج اسی طرح کی کارروائی میں ملوث ہے جس طرح اسرائیلی
فوج فلسطینی علاقے میں گھس کر لوگوں کے گھروں کو مسمار کرتی ہے۔

اکبر بگٹی نے کہا کہ ’وطن ہمارا ہے، زمین ہماری ہے اور یہ ہم کو گھروں سے نکالنا چاہتے ہیں‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ بگٹی مزاحمت کس انداز میں کریں گے تو انہوں نے کہا کہ وہ ( بگٹی ) اس زمین کے مالک ہیں اپنے مادر وطن کو کوئی خوشی سے چھوڑنا نہیں چاہتا۔وہ مزاحمت کریں گے‘۔ البتہ مزاحمت کی وضاحت نہیں کی۔

اطلاعات کے سوئی میں تعینات فوج نے گھر گھر تلاشی کا کام شروع کردیا گیا ہے اور متعدد لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔

اسلام آباد میں فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے فوجی آپریشن کے بارے میں خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ فوج کا ایک دستہ سوئی میں گیس کی تنصیبات کی حفاظت کے لیے پہنچا ہے۔

فوج کا ایک دستہ جمعرات کو علی الصبح کشمور سے سوئی پہنچا۔ جس کے بعد اطلاعات کے مطابق سوئی اور ڈیربگٹی کا ٹیلی فون ایکسچنج اور علاقہ کو بجلی کی ترسیل بند کر دی گئی ۔ شام گئے تک سوئی کا باقی ملک سے ٹیلی فون کے ذریعے رابط بحال نہیں ہو سکا تھا تاہم ڈیرہ بگٹی کا ٹیلی فون ایکسچنج شام کو کھول دیا گیا تھا۔

ایوب ترین نے بتایا کہ ایک فوجی دستہ فرنٹیئر کانسٹبلری ور فوج ہیلی کاپٹروں کی حفاظت میں سوئی پہنچا۔

بگٹی قبیلے کے سردار نواب اکبر بگٹی سے جب رابط قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ فوج کے سوئی میں تعیناتی سے علاقے میں خوف ہراس پھیل گیا ہے۔

گزشتہ روز پولیس نے نواب اکبر بگٹی کے پوتے سمیت چالیس افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا تھا۔

بلوچستانبلوچستان خبروں میں
بلوچستان میں کشیدگی پر خصوصی ضمیہ
بلوچستان کاروائی:
حزب اختلاف کے مطابق موجودہ کاروائی سےفوج کی ساکھ متاثر ہوگی۔
گیسقبائلی حملے کا اثر
گیس سے دس لاکھ ڈالر روزانہ کا نقصان ہو رہا ہے
سوئیسوئی: حالات معمول پر
سوئی میں زندگی معمول پر آ رہی ہے
کوئٹہ (فائل فوٹو)سوئی: امن و مرمت
سوئی میں پُرتناؤ امن اور سست رو مرمت جاری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد