BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 February, 2005, 19:36 GMT 00:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوئی: ڈاکٹر شازیہ کا پہلا انٹرویو
سوئی گیس پلانٹ
سوئی گیس پلانٹ
برطانیہ کے اخبار گارڈین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں سوئی کے مقام پر مبینہ طور پر فوجی افسر کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بننے والی لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد کا پولیس کے سامنے بیان ریکارڈ کئے جانے سے پہلے انہیں نشہ آور انجکشن لگایا گیا تھا تاکہ کیس کے حقائق پر پردہ ڈالا جاسکے۔

ریپ (زنا بلجبر) کے مبینہ واقعہ کے بعد پہلی مرتبہ کسی صحافی سے بات کرتے ہوئے شازیہ خالد نے گارڈین کے نامہ نگار ڈیکلان والش کو بتایا کہ ’’پولیس کے آنے سے پہلے کمپنی (پی پی ایل) کے چیف میڈیکل آفیسر نے کہا ’انہیں کوئی انفارمیشن نہیں دینا‘ اور پھر مجھے ایک خواب آور ٹیکہ لگا دیا گیا جس سے مجھے نیند آنے لگی۔‘‘

پہلا انٹرویو
 ہر کوئی اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے، پورا ملک ، پر ایک شخص۔
ڈاکٹر شازیہ خالد

اخبار کے مطابق کراچی میں ڈاکٹر شازیہ خالد کے گھر پر پولیس اور رینجرز کا سخت پہرا ہے اور چند رشتہ داروں کے علاوہ کسی کو بھی انُ سے ملنے کی اجازت نہیں۔ اخبار کے مطابق گارڈین کے نامہ نگار ڈیکلان والش کو خود ڈاکٹر شازیہ اور ان کے شوہر کی طرف سے مدعو کئے جانے کے باوجود پولیس اہلکاروں نے ان سے ملنے نہیں دیا اور بعد میں انہوں نے ٹیلیفون کے ذریعے ڈاکٹر شازیہ سے انٹرویو کیا۔

ڈاکٹر شازیہ نے گارڈین کو بتایا کہ اگرچہ وہ ریپ کرنے والے ملزم کی شناخت نہیں کرسکتیں کیونکہ ملزم نے ان کی آنکھیں دوپٹے سے باندھ دی گئی تھیں اور ان کے ہاتھ ایک ٹیلی فون تار کے ساتھ کس دیئے تھے۔ تاہم ڈاکٹر شازیہ کا کہنا تھا کہ وہ یہ جانتی ہیں کہ ملزم کی مونچھیں تھیں اور گھنگریالے بال تھے اور یہ کہ وہ ملزم کی آواز بھی پہچانتی ہیں۔

گارڈین اخبار کے مطابق ریپ کے واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد بلوچستان کی پولیس نے ڈاکٹر شازیہ کا بیان دوبارہ قلمبند کیا ہے اور اخبار کے مطابق تفتیش میں ایسے اشارے دینے کی کوشش کی کہ ڈاکٹر شازیہ جسم فروشی کے دھندے میں ملوث تھیں۔ ڈاکٹر شازیہ نے پولیس تفتیش کی تفصیلات گارڈین کو بتاتے ہوئے کہا ’انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میرے پاس چوری ہونے والے پچیس ہزار روپے کہاں سے آئے اور یہ کہ میں زیوارات کب پہنتی ہوں۔ اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک صفائی کرنے والے کو میرے کمرے سے استعمال شدہ کنڈومز ملے ہیں۔‘

اخبار کے مطابق ڈاکٹر شازیہ اور ان کے شوہر بہت سہمے ہوئے ہیں اور وہ جلد ازجلد ملک چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ’ہر کوئی اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے، پورا ملک ، پر ایک شخص،‘ ڈاکٹر شازیہ گارڈین کو یہ بتاتے ہوئے ان کی آواز بھرا گئی اور انہوں نے کہا کہ اب وہ کسی کا بھی سامنا کیسے کرسکتی ہیں اور ملک چھوڑ دینا چاہتی ہیں۔

قبضہ یا تحفظ
بلوچستان میں فوجی چھاؤنیاں کہاں اور کیوں؟
گوادربلوچ کہانی، 8
گوادر۔ ترقی یا کالونائزیشن (پہلا حصہ)
بلوچ کہانی - 4
بلوچ قومی تحریک کون چلا رہا ہے؟
بلوچ کہانی - 5
ایک بار پھر عسکری کارروائیوں کی راہ کیوں؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد