سوئی: ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے سوئی میں خاتون ڈاکٹر سے اجتماعی زیادتی کے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون ڈاکٹر کے لئے تحفظ کے علاوہ پی ایم اے نے اس واقعے کو چھپانے اور ڈکیتی کا رنگ دینے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ بلوچستان حکومت کی حکم پر سوئی میں ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کی تحقیقات کر نے والے ٹرائبیونل نے دو روز قبل کراچی میں خاتون ڈاکٹر کا بیان قلم بند کیا تھا۔ پشاور میں آج پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے جس کی مذکورہ ڈاکٹر رکن ہیں حکومت سے اس واقعے میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ایم اے کے مرکزی صدر ڈاکٹر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ خاتون ڈاکٹر کے بیان سے صورتحال واضع ہوچکی ہے لہذا ملزمان کی گرفتاری میں مزید تاخیر درست نہیں۔ ڈاکٹر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سرعام پھانسی دی جائے ورنہ خواتین ڈاکٹر دور دراز دیہی علاقوں میں کام کرنے سے قاصر رہیں گی۔ انہوں نے ڈاکٹر اندرون سندھ کے علاقے گومبٹ، خیرپور میں ایک قبائلی جرگے کے ارکان کے خلاف بھی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا جنہوں نے ایک خاتون ڈاکٹر کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ڈاکٹروں تنظیم نے بلوچستان حکومت کے قائم کردہ ٹرائبیونل کو غیرمعینہ مدت کی بجائے ایک ماہ میں تحقیقات مکمل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ڈاکٹر عمر ایوب نے سوئی میں پلانٹ کے تحفظ کے لئے تعینات ڈیفنس سیکورٹی گارڈ اور پلانٹ چلانے والی کمپنی پی پی ایل کے ان اہلکاروں کی معطلی کا بھی مطالبہ کیا جنہوں نے بقول ان کے جھوٹ بولتے ہوئے اس واقعہ کو ایک ڈکیتی ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق وہ اس سلسلے میں صدر پرویز مشرف سے ملاقات کی بھی کوشش کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||