BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 March, 2005, 19:50 GMT 00:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیپٹن حماد کا ڈی این اے ٹیسٹ

سردار بگٹی
حکومت نے سردار بگٹی سے بات چیت کی کوشش کی ہے
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے قومی اسمبلی میں بلوچستان کے متعلق جاری بحث سمیٹتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ جنسی تشدد کے شبہہ میں کیپٹن حماد سمیت تیرہ افراد کا ’ڈی این اے‘ ٹیسٹ کرایا گیا اور سب کا منفی نتیجہ آیا ہے۔

پیر اور منگل کی درمیانی شب انہوں نے حکومتی موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ کیپٹن حماد سمیت آٹھ ’ڈفینس سیکورٹی گارڈز‘ اور پانچ پاکستان پیٹرولیم لمیٹیڈ کے ملزمان کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا۔

انہوں نے ایوان کو مزید بتایا کہ کیپٹن حماد سمیت کئی لوگوں کے آڈیو اور ویڈیو ٹیپ ملزمان کی شناخت کے لیے ڈاکٹر شازیہ کو بھیجے گئے لیکن ان میں سے کسی پر بھی انہوں نے شک ظاہر نہیں کیا۔

وزیر داخلہ نے بی بی سی کے ساتھ ڈاکٹر شازیہ کے شوہر خالد خواجہ کی بات چیت کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان ہا ئی کورٹ کے جسٹس احمد خان لاشاری پر مشتمل تحقیقاتی ٹریبونل آئندہ ہفتے تک اپنی رپورٹ مکمل کرلے گا جس کے بعد حکومت کارروائی کرے گی۔

بلوچستان میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی ہدایت پر حکومت صوبے سے احساس محرومی ختم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ سے چار افراد گرفتار ہوئے ہیں، ان کا تعلق ڈیرہ بگٹی سے ہے اور انہوں نے صوبے میں شدت پسندی کی کئی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ وزیر داخلہ نے مری کیمپ پر چھاپے اور برآمد ہونے والے اسلحہ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حکومت ہر قیمت پر اہم تنصیبات کی حفاظت یقینی بنائے گی اور کسی کو بھی امن امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

قبل ازیں بلوچستان کی صورتحال پر جاری کئی دنوں سے بحث کے آخری دن کا آغاز سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے کیا۔

آفتاب احمد شیرپاؤ
حکومت نے پہلی مرتبہ سرکاری طور پر ڈی این ٹیسٹ کے متعلق بیان دیا ہے

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے متعلق اڑتیس رکنی کمیٹی بنائی گئی اور سات ماہ گزرنے کے باوجود بھی ابھی تک معاملہ حل نہیں ہوا۔ سابق وزیراعظم نے گلہ کیا کہ ان کا تعلق بلوچستان سے ہے اور وہ سابق وزیراعظم بھی ہیں لیکن انہیں کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا۔

جناب جمالی نے کہا بلوچستان کے لیے فوجی کارروائی کی بات کوئی نئی نہیں ہے اس سے پہلے بھی فوجی آپریشن کیا جاتا رہا ہے اور جو لوگ صوبے کے حقوق کی بات کرتے ہیں انہیں غدار کا لقب دیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا اب ایسا نہیں ہوگا اور مرکز کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا اور کسی کو بھی انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔

سابق وزیراعظم نے صدر جنرل پرویم مشرف کی تعریف کی لیکن اپنی جماعت کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کا نام لیے بغیر کہا کہ ان کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارشات پہلے ایوان میں پیش ہوتیں جن پر بحث ہوتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے چودھری شجاعت کے اس بیان کہ’ کمیٹی کو کام کرنے نہیں دیا جاتا، کا حوالہ دیا اور کہا کہ انہیں وضاحت کرنی چاہیے کہ وہ کون لوگ ہیں جو رکاوٹ بنے انہیں ان کے نام لینا چاہیے۔

ان کے مطابق بلوچستان کی آبادی لاہور سے بھی کم ہے اور جب بسنت پر آٹھ ارب روپے خرچ ہوسکتے ہیں تو اس کی آدھی رقم بلوچستان پر کیوں خرچ نہیں کی جاسکتی؟

متحدہ مجسل عمل کے حافظ حسین احمد نے کہا کہ ان کے بلوچ سرداروں سے نظریاتی اختلافات ہیں لیکن صوبے کے حقوق کی جدوجہد میں وہ ان کا ساتھ دیں گے۔

انہوں نے جب ٹی وی بیچ کر اسلحہ خریدنے کی ترغیب دینے والوں کا ذکر کیا تو متحدہ قومی موومنٹ کے کنور خالد یونس کی ان کے ساتھ گرما گرمی ہوگئی۔

حکمران اتحاد میں شامل پیرپگاڑہ کی جماعت کی رکن اسمبلی میڈم خورشید افغان نے کہا کہ نواب بگٹی کے پاس حکومت کو بات چیت کے لیے کسی بڑی شخصیت کو بھیجنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سید مشاہد حسین کو میں ہی نہیں مانوں گی تو بگٹی کہاں سے مانے گا۔

قومی اسمبلی میں تحریک التویٰ پر جاری بحث مکمل ہوگیا ہے اور اب اجلاس منگل کی صبح دس بجے ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد