BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف کا انٹرویو توہینِ عدالت‘

اکبر بگتی
’ بلوچستان میں کوئی دہشت گرد نہیں ہے اور لوگ صرف اپنے حقوق کی جدوجہد کر رہے ہیں‘
پاکستان جمہوری پارٹی کے سربراہ نواب اکبر بگتی نے صدر مشرف کے اس انٹرویو کو توہینِ عدالت قراردیا ہے جس میں صدر نے ڈاکٹر شازیہ سے مبینہ زیادتی کے ملزم کیپٹن حماد کو بےگناہ قرار دیا تھا۔

نواب اکبر بگتی لاہور کے صحافیوں سے ٹیلی فون پر خطاب کر رہے تھے۔ ان کے اس ٹیلیفونک خطاب کو سننے کا اہتمام اے آر ڈی کے رہنما عبدالقدیر خاموش کی رہائشگاہ پر کیا گیا تھا۔

نواب اکبر بگتی نے کہا کہ’ صدر مشرف نے اپنے انٹرویو میں وردی والے اپنے پیٹی بھائی کو سو فیصد بےگناہ قرار دیا ہے جو صاف توہین عدالت ہے۔اب کوئی بھی بڑا افسر اس کیپٹن کا چالان کر سکے گا نہ کوئی سیشن جج اور کوئی دوسری عدالت اسے سزا دے سکے گی کیونکہ اوپر سے گائیڈ لائن مل چکی ہے اور ایک بڑے جنرل صاحب نے اسے بے گناہ اور معصوم قرار دے دیا ہے ‘۔

نواب اکبر بگتی نے کہا کہ’سب نے دیکھ لیا کہ انہوں نےاس قانون کا،جسے بڑا قابل احترام کہا جاتا ہے، کیا حشر کیا ہے ؟ اورالزام انہیں دیا جاتا ہے کہ وہ قانون کا احترام نہیں کرتے‘۔

دہشت گرد ہم نہیں بلکہ وردی والے دہشت گرد ہیں اور اصل دہشت گرد اور وردی والے ایک ہی ٹوکری سے تعلق رکھتے ہیں۔
اکبر بگتی

انہوں نے کہا کہ ’صدر مشرف نے تو کیپٹن حماد کو سو فی صد بری کر دیا ہے لیکن وہ انہیں وہ بری نہیں کرتے۔ کیپٹن حماد اور دوسرے ملزمان کو یا تو بلوچ پشتون اور سندھی روایت کے مطابق لیڈی ڈاکٹر اور اس کے خاندان کو راضی کرنا ہوگا ورنہ وہ دہکتے کوئلے پر چل کر اپنی بے گناہی ثابت کریں۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ملزمان کوگرفتار کر کے پولیس کے حوالے کیا جائے‘۔ نواب بگتی کا کہنا تھا کہ یہ بلوچستان کی عزت کا معاملہ ہےاور اسے سنجیدگی سے حل کرنا ہوگا۔

اکبر بگتی نے کہا کہ اس واقعہ کے ردعمل میں بلوچستان لبریشن فرنٹ نے فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا تھا اور نتیجہ میں اردگرد کی آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا اور اب ایک ڈویژن کے لگ بھگ فوج بلوچستان میں موجود ہے اور بگتی عوام دفاعی پوزیشن میں ہیں اور کوئی معمولی واقعہ بھی بڑے المیے کا سبب بن سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی دہشت گرد نہیں ہے اور لوگ صرف اپنے حقوق کی جدوجہد کر رہےہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین والوں کو بھی اسرائیلی دہشت گرد قرار دیتے ہیں حالانکہ وہ محض غلیل سے ٹینک پر پتھر مارتے ہیں لیکن ان بچوں کو دہشت گرد قرار دیکر انہیں مار دیا جاتا ہے۔

دہشت گردوں کے بارے میں پاکستان کے حکمرانوں اور اسرائیل کا موقف ایک ہی ہے ۔انہوں نے کہا دہشت گرد ہم نہیں بلکہ وردی والے دہشت گرد ہیں اور اصل دہشتگرد اور وردی ایک ہی ٹوکری سے تعلق رکھتے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں کسی ’ گریٹر بلوچستان‘ کی تجویز کا علم نہیں ہے اور اگر امریکہ کا کوئی ایسا منصوبہ ہوگا تو یا اس کو علم ہوگا یا پاکستان کے حکمران جانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مکینوں کے بارے میں یہ غلط پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ وہ ترقی نہیں چاہتے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ترقی چاہتے ہیں اور اتنا ترقی یافتہ ہونا چاہتے ہیں کہ پنجاب کے برابر ہوجائیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ہمیں پینے کا پانی دو جبکہ حکمران کہتے ہیں کہ یہ رہنے دو ہیلی پیڈ بنا دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے جاری آپریشن میں پانچ عورتیں اور بچے ہلاک اور پنیتیس افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد