سوئی گیس، دولت یا محرومی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ضلع ڈیرہ بگتی کی تحصیل سوئی کے مقام سے نکلنے والے قدرتی گیس جو پاکستان کی گیس کی نصف سے زیادہ ضروریات پوری کرتی ہے اور ملک کی رگِ حیات سمجھی جاتی ہے بلوچستان کی محرومی کا استعارہ بن چکی ہے۔ پنجاب اپنے صوبے میں پیدا ہونے والی گندم دوسرے صوبوں میں جانے پر پابندی لگا دیتا ہے لیکن بلوچستان کی قدرتی گیس پاکستان کا قومی اثاثہ ہے اور اس کی ترسیل کو کنٹرول کرنے پر یہاں کی صوبائی حکومت کا کوئی اختیار نہیں۔ بلوچستان یونیورسٹی میں ایک پروفیسر نے سوئی گیس کی دولت سے صوبے کی محرومی پر دلیل دیتے ہوئے کہا۔ جب بلوچستان کی محرومیوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو قدرتی گیس کی آمدن سے بلوچستان کو محروم رکھنے کو ایک بڑی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ قدرتی گیس علاقے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے کی بے آب و گیاہ سرزمین کی واحد بڑی دولت ہے جسے استعمال میں لایا جارہا ہے۔
چوبیس فروری کو اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر پرویز مشرف نے کہا کہ بلوچستان کو انیس سو ننانوے تک گیس کی رائلٹی کے طور پر صرف پچاس کروڑ روپے سالانہ دیے جاتے تھے لیکن اب یہ رقم بڑھ کر ڈیڑھ ارب روپے سالانہ ہوچکی ہے اور اس سال اس میں مزید اضافہ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک مجموعی طور پر بلوچستان کو صرف گیس کی رائلٹی کی مد میں تیرہ ارب روپے دیے جاچکے ہیں اور اس کے علاوہ گیس ترقیاتی سرچارج وغیرہ کی مد میں اکتیس ارب روپے ادا کیے گئے ہیں۔ قوم پرستوں، جن کی نمائندہ سیاسی تنظیم چار جماعتی بلوچ یکجہتی اتحاد ہے، کا نعرہ تو یہ ہے کہ گیس اور معدنی وسائل بلوچستان کی ملکیت ہیں اور ان پر صوبے کا ہی اختیار ہونا چاہیے وفاقی حکومت کا نہیں۔ جو ذرا معتدل بلوچ سیاستدان سمجھے جاتے ہیں ان کا موقف ہے کہ صوبہ کو گیس سے حاصل ہونے والی آمدن میں سے منصفانہ اور جائز حصہ ملنا چاہیے اور اس وقت جو بھی مل رہا ہے وہ جائز حصہ سے بہت کم ہے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے ماہر معاشیات اور پنجاب کے سابق صوبائی وزیر خزانہ شاہد کاردار کا کہنا ہے کہ رائلٹی کل فروخت کی گئی گیس کی قیمت کے ساڑھے بارہ فیصد کے حساب سے ادا کی جاتی ہے اور یہ وہ قیمت ہوتی ہے جو گیس کے کنوئیں سے نکالے جانے کے وقت (ویل ہیڈ پرائس) کے لیے مقرر کی گئی ہوتی ہے۔ بلوچستان کو شکایت ہے کہ انیس سو تہتر میں گیس کی رائلٹی کا تخمینہ عارضی طور پر انیس سو ترپن کی آمدنی کی بنیاد پر لگایا گیا تھا۔ اس وقت مختلف صوبوں میں گیس کی رائلٹی کے نرخ مختلف ہیں اور سب سے کم بلوچستان کی گیس کے نرخ ہیں۔
بلوچستان میں گیس کے نرخ چھتیس روپے پینسٹھ پیسے فی ملین بی ٹی یو مقرر کیے گئے ہیں، پنجاب میں اسی سے لے کر ایک سو نوے روپے فی ملین بی ٹی یو نرخ مقرر ہیں اور سندھ میں دو ڈالر چار سینٹ امریکی ڈالر فی میلن بی ٹی یو کے نرخ مقرر ہیں۔ بلوچستان کا مطالبہ ہے کہ تمام صوبوں میں گیس کے نرخ یکساں مقرر کیے جائیں۔ وفاقی حکومت صارفین سے گیس ڈیویلیپمنٹ سرچارج اور سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی وصول کرتی ہے اور اسے تمام صوبوں میں تقسیم کیے جانے والی آمدن میں شامل کردیتی ہے۔ ان دو ٹیکسوں کی آمدن کو براہِ راست کسی صوبے کو نہیں دیا جاتا۔ بلوچستان کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ ان سرچارجوں یا اضافی ٹیکسوں کو وصول کرنے کا یہ طریق کار ختم کیا جائے جس سے بلوچستان کی گیس کی آمدن کی مد میں جائز اور زیادہ پیسے مل سکیں۔ ماہر معاشیات شاہد کاردار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ گیس ترقیاتی سرچارج کے صوبوں میں تقسیم کے موجودہ فارمولے میں بلوچستان کی گیس کی قیمت کو جان بوجھ کر کم رکھا گیا ہے۔ اس قدرے تکنیکی نکتہ کو وہ یوں بیان کرتے ہیں کہ یہ ترقیاتی سرچارج ملک میں بیچی گئی گیس کی کل قیمت پر ادا کرنے کے بجائے گیس کے حجم کے حساب سے دیا جارہا ہے۔ شاہد کاردار کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے کنویں پختہ سال ہوچکے ہیں اور ان سے تیزی سے گیس نکالی جارہی ہے اور اس کی گیس کا کل ترقیاتی سرچارج میں حصہ دوسرے صوبوں کی نسبت زیادہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ مختلف فارمولوں کے تحت بلوچستان کو گیس ترقیاتی سرچارج کے محصول میں سے ترپن سے پینسٹھ فیصد حصہ ملنا چاہیے لیکن اس وقت اسے صرف پینتیس فیصد حصہ دیا جارہا ہے۔ کاردار کا کہنا ہے کہ اگر منصفانہ فارمولا لگایا جائے تو بلوچستان کو اس وقت اس مد میں تقریبا دس ارب روپے ملنے چاہئیں جبکہ حقیقت میں اسے صرف تقریبا پانچ ارب روپے مل رہے ہیں۔ اسی طرح گیس ترقیاتی سرچارج کی مد میں ہی بلوچستان کو دوسرے تکنیکی فارمولہ میں تبدیلی کی وجہ سے تین سے چار ارب روپے مزید ملنے چاہئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بلوچستان کو جس فارمولے سے قدرتی گیس کی رائلٹی دی جارہی ہے اگر یہی فارمولا امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں لاگو کردیا جائے تو تیل کی دولت سے مالامال ٹیکساس امیر نہ ہو بلکہ واشنگٹن اور نیویارک کے کاروباری اس سے فائدہ اٹھارہے ہوں۔ شاہد کاردار کہتے ہیں بنیادی بات تو یہ ہے کہ جس طرح پنجاب میں اثاثے نجی ہاتھوں میں ہیں اسی طرح بلوچستان کے اثاثے بھی نجی ہاتھوں میں ہوں، حکومت کے ہاتھ میں نہیں جیسا کہ امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں اس ریاست کے شہری تیل کی دولت کے مالک ہیں جبکہ ہمارے ہاں گیس کی دولت سے مالا مال صوبہ اپنی بقا کے لیے وفاقی حکومت سے بھیک مانگتا رہتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||