BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چھاؤنیوں کی زمین کس کی؟

سوئی
زہری قبائل کی مشترکہ اراضی کو اسی پارٹی کے مرکزی قائدین نے دو ارب روپے میں فروخت کردیا ہے
فوج نے سوئی میں چھاؤنی بنانے کے لیے جو زمین حاصل کی ہے اسے بھی قوم پرستوں کی طرف سے لوگوں کی ان کی آبائی زمینوں سے زبردستی بے دخلی کہا جا رہا ہے جبکہ فوج کا موقف ہے کہ زمین قاعدے اور قانون کے مطابق ادائیگی کرکے خریدی گئی ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کا کہنا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے قائدین یوں تو صوبے میں مجوزہ چھاؤنیوں کے قیام کی سخت مخالفت کررہے ہیں لیکن دوسری جانب خضدار کے گاؤں چھیڑو کے مقام پر خضدار چھاؤنی کی توسیع کے لیے زہری قبائل کی مشترکہ اراضی کو اسی پارٹی کے مرکزی قائدین نے دو ارب روپے میں فروخت کردیا ہے۔

زہری قبیلہ کے بڑے سردار اور چیف آف جھالاوان دودا خان مرحوم کے بیٹے میر ظفراللہ کا کہنا ہے کہ تحصیل چھڈ اندراج ضلع خضدار میں سترہ سو ایکڑ رقبہ ان کی ملکیت ہے جسے ان کے بھائی میر ثنا اللہ زہری (قوم پرست رہنما) نے حکومت کو چھاؤنی بنانے کے لیے بیچ دیا ہے جو قانونی طور پر اور شرعی طور پر غلط ہے اور اُن سے ناانصافی ہے۔

بی این پی(عوامی) کا کہنا ہے کہ اب چھیڑو میں فوجی دستوں کی نقل و حمل شروع ہوگئی ہے اور وہ عوام کو جبری طور پر یہ علاقہ خالی کرنے کے لیے زور ڈال رہے ہیں۔

سرکار کا کہنا ہے کہ سوئی میں چار سو ایکڑ زمین چھاؤنی بنانے کے لیے حاصل کی گئی ہے جو سوئی ایئرپورٹ سے جڑی ہوئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ زمین بگتی قبیلہ کی شاخ کلپر بگتیوں کی ملکیت ہے اور اسی قبیلے کے سردار سے معاملہ طے کیا گیا۔

حکومت کے مطابق کلپروں کے سردار خان محمد کلپر کو اس زمین کے مالکان کا بہتر علم ہے کہ کس کی کتنی زمین ہے اور کسے کتنا پیسہ دینا ہے اوروہ اس ضمن میں کئی بار اخباری بیان بھی دے چکے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ زمین قانون کے مطابق حاصل کی گئی ہے اور ڈیرہ بگتی کے ضلعی رابط افسر یا ڈی سی او کو تقریبا نو کروڑ روپے کی ادائیگی کردی گئی ہے تاہم یہ رقم ابھی ڈی سی او کے پاس ہی ہے اور لوگوں میں تقسیم نہیں کی گئی۔

سوئی میں چار سو ایکڑ زمین چھاؤنی بنانے کے لیے حاصل کی گئی ہے جو سوئی ائرپورٹ سے جڑی ہوئی ہے۔
حکومتِ پاکستان

سوئی تحصیل کے موضع اسریلی تھل کی یہ غیر آباد اور بنجر زمین کلپر بگتیوں کے قبیلے کی مشترکہ ملکیت سمجھی جاتی ہے جیسا کہ عام طور پر بلوچستان میں زمین قبیلے کی مشترکہ ملکیت ہوتی ہے۔

ہوا یہ ہے کہ جو کلپر بگتی نواب اکبر بگتی کے ساتھ ہیں انہوں نے اس زمین کی فروخت کے خلاف کو بلوچستان ہائی کورٹ کو بھی خط لکھا۔ سوئی میں نواب بگتی کے حامی کلپروں کا الزام ہے کہ جن کلپروں نے حکومت سے اس زمین کا سودا کیا ہے وہ جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے قبیلہ سے نکالے جاچکے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورا کرکے آٹھ جون سنہ دو ہزار چار کو یہ زمین فوج کو چھاؤنی کے لیے دے دی گئی اور متاثرہ فریقین کو تیس دن دیے گئے کہ وہ اس لین دین کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش کریں لیکن کوئی اعتراض داخل نہیں کرایا گیا۔

بلوچبلوچ کہانی،11
جھگڑا بگتیوں اور کلپروں کا
بلوچ کہانی 9بلوچ کہانی 9
گوادر: شکوے، شکایتیں اور خدشات۔ عدنان عادل
گوادربلوچ کہانی، 8
گوادر۔ ترقی یا کالونائزیشن (پہلا حصہ)
بلوچ کہانی : 6
بلوچ جدید و منظم یا ’چاکلیٹ فائٹر‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد