کیپٹن حماد کا بیان قلمبند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد سے مبینہ زیادتی کے واقعے کی تفتیش کے لئےقائم ٹریبیونل نے آج کیپٹن حماد کا بیان قلمبند کیا ہے اور ناظم ڈیرہ بگٹی کو اپنا بیان قلمبند کرنے کے لئے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ بلوچستا ن ہائی کورٹ کے جج جسٹس احمد خان لاشاری کی سربراہی میں قائم ٹریبیونل نے اب تک انیس افراد کے بیانات قلمبند کیے ہیں اور آئندہ چند روز میں ٹریبیونل اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر دے گا۔ ٹریبیونل نے پندرہ روز کے اندر رپورٹ پیش کرنا تھی لیکن اطلاعات کے مطابق اس بارے میں لوگوں نے ثبوت پیش کرنے یہ عینی شاہدین نے عدم دلچسپی کی مظاہرہ کیا ہے۔ آج بلوچستان ہائی کورٹ میں کیپٹن حماد کو سخت حفاظتی انتظامات کے دوران لایا گیاجہاں انھوں نے اپنا بیان قلمبد کرایا ہے۔کیپٹن حماد پر الزام عائد ہے کہ وہ مبینہ طور پر لیڈی ڈاکٹر سے زیادتی میں ملوث رہے ہیں۔ یہاں یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ٹریبیونل نے ناظم ڈیرہ بگٹی کاظم بگٹی کو اپنا بیان قلمبند کرانے کے لیے طلب کیا ہے وہ کل یعنی بدھ یا جمعرات کے روز تک اپنا بیان قلمبند کرائیں گے جس کے بعد ٹریبیونل اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر دے گا۔ یاد رہے کہ لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد نے کچھ روز پہلے شناخت پریڈ میں کسی ملزم کو شناخت نہیں کیا تھا۔ شناخت پریڈ میں گیارہ ملزمان کو پیش کیا گیا تھا جن میں کیپٹن حماد بھی شامل تھے۔ اس سے پہلے تیرہ ملزمان کا بشمول کیپٹن حمادڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا تھا لیکن وہ بھی حاصل کیے گئے نمونوں سے مماثلت نہیں رکھتا تھا۔ لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد نے زرائع ابلاغ کو دیے گئے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ جس وقت ان سے زیادتی کی گئی اس وقت ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی تھی اور انھوں نے کسی کو دیکھا نہیں ہے تاہم وہ آواز سے پہچان سکتی ہیں شناخت پریڈ کے دوران شازیہ خالد کو ملزمان کے آوازیں بھی سنائی گئی تھیں لیکن بقول انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان چوہدری یعقوب شازیہ خالد ملزم کو شناخت نہیں کر پائیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||