مختار مائی، خفیہ پولیس اور ٹیلیفون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میروالہ میں مختار مائی کے گھر پہنچے تو وہ خود دروازے پر لینے آئیں لیکن اس کے باوجود سادہ کپڑوں میں ملبوس کئی پولیس اہلکاروں نے گھیر لیا اور شناخت کرانے کو کہا۔ گھر میں داخل ہوکر بیٹھک تک پہنچنے کے لیے دلان سے گزرنا پڑا تو دو ’شہری قسم‘ کی خواتین نے روک کر آنے کا مقصد اور مختار مائی سے تعلق کے بارے سوالات شروع کر دیئے۔ مختار مائی سے تفصیلی انٹرویو اور ان کے ساتھ بتائے گئے ایک دن کا مکمل احوال پڑھیئے گا ندیم سید کی اگلی رپورٹ میں مختار مائی نے بتایا کہ یہ پولیس کی اہلکار ہیں اور اب ان کے گھر ہی میں رہتی ہیں۔ وردی نہیں پہنتیں تاکہ آنے والے یہ ہی سمجھے کے گھر کے ہی افراد ہیں۔ایک کا نام رابعہ اور دوسری کا نام شازیہ بتایا گیا۔ مختار مائی سے بات چیت شروع کی تو یہ دونوں بھی ساتھ بیٹھ گئیں۔ تھوڑی دیر بعد رابعہ اور شازیہ باہر چلی گئیں تو مختار مائی نے کہا کہ یہ اب حکام کو اطلاع کریں گی کہ مختار مائی انٹرویو دے رہی ہے۔ ایسا ہی ہوا۔ کچھ ہی دیر میں ایک تھانیدار اور کچھ مزید اہلکار دروازے پر آگئے اور کافی دیر تک بحث کرتے رہے کے مختار مائی کے بیانات سامنے آنے پر ملک کی بدنامی ہوگی اور غفلت برتنے پر ان کی پیٹی اتر جائے گی یعنی معطلی ہوجائے گی۔ ان کے جانے کے بعد مختار مائی سے بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ تاہم اس دوران مختار مائی کو دنیا بھر سے ٹیلی فون بھی آتے رہے۔ کوئی صحافی تھے جو جاننا چاہتے تھے کہ مختار مائی کے ساتھ کیا بیت رہی ہے اور کوئی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندے تھے جو انہیں اپنی حمایت کا یقین دلا رہے تھے۔
یہ سلسلہ ابھی جاری تھا کہ مختار مائی کا بھائی شکور بھاگتا ہوا آیا اور اس نے کہا کہ ریکارڈنگ وغیرہ کا سامان سمیٹ لیں کوئی بڑا پولیس افسر سیدھا بیٹھک کی طرف آرہا ہے۔ سامان ابھی پوری طرح بیگ میں ڈالا بھی نہیں گیا تھا کہ موصوف اندر تشریف لاچکے تھے۔ نام بتائے بغیر انہوں نے اپنا تعارف ڈائریکٹر سیکورٹی اسلام آباد کے طور پر کرایا اور کہا کہ انہیں حکومت کی طرف سے خاص طور پر بھیجا گیا ہے کہ دیکھ کر آؤ کے مختار مائی کو سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی پریشانی تو نہیں۔ انہیں جب بتایا گیا کہ مختار مائی اگر اپنے کسی مہمان کو اچھی طرح پہچان کر خود گھر کے اندر لے آئے تو بھی آنے والے کو کئی شناختی امتحان دینے پڑتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ صدر اور وزیر اعظم کے مہمانوں کو بھی ایسی ہی سیکیورٹی سے گزرنا پڑتا ہے اور مختار مائی بھی اب کوئی معمولی ہستی نہیں ہیں بلکہ ایک بین الاقوامی شخصیت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جس طرح مختار مائی کیس کے ملزموں کی عدالت سے رہائی کے حکم پر عملدرآمد نہیں ہونے دے رہی اس سے ان کے رشتہ دار کوئی بھی انتہائی قدم اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خود کش حملے اسی لیے ہوتے ہیں کیونکہ لوگوں کو اور کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ تھوڑی دیر بعد انہوں نے درخواست کی کہ وہ مختار مائی سے علیحدگی میں کوئی بات کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم وہ اتنا اونچا انچا بول رہے تھے کہ ان کی باتیں کافی فاصلے سے بھی سنی جارہی تھیں۔موصوف اسلام آباد سے آئے کوئی ڈاریکٹر سیکیورٹی نہیں بلکہ خفیہ ادارے انٹیلی جنس بیورو کے ڈویژنل سربراہ تھے اور مختار مائی سے ان کے سابقہ پاسپورٹ کا مطالبہ کررہے تھے۔ وہ پاسپورٹ اب ناکارہ تھا لیکن وہ پھر بھی ساتھ لے گئے۔ مختار مائی نے بتایا کہ اب ان کے دن ٹیلی فون سننے یا صحافیوں، پولیس والوں اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے سوالوں کے جواب دینے میں گزرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے تو وہ سکول میں بچوں کو ایک گھنٹہ قرآن پڑھاتیں، سلائی کڑھائی کے لیے بھی وقت نکال لیتیں اور لوگوں کے مسائل بھی سنتی تھیں لیکن جب سے پابندیاں لگی ہیں سب کچھ چھٹ گیا ہے۔ مقامی لوگوں سے ان کا رابطہ بھی کٹ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی جاگیرداروں کی تو سنی گئی ہے وہ پہلے ہی پسند نہیں کرتے تھے کے لوگ ایک غریب عورت کی عزت کریں اور اس کے پاس اپنے مسائل کے حل کے لیئے جائیں۔ مختار مائی نے کہا کہ اب وہ میروالہ میں ایک ہسپتال بنانا چاہتی ہیں لیکن اگر پابندیاں برقرار رہیں تو شاید وہ اپنے جاری منصوبوں کی بھی مناسب دیکھ بھال نہ کرسکیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||