BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 June, 2005, 11:09 GMT 16:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مختارمائی کو امریکہ آنے کی دعوت

مختاراں مائی
مختار مائی کو مبینہ طور پر ہراساں بھی کیا جا رہا ہے
پاکستان میں مختار مائی کی نقل و حرکت پرمبینہ پابندی کی خبروں کو یہاں امریکہ میں پاکستانیوں کے باخبر اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقے ان کے (مختار مائی کے) اسی ماہ جون کے آخر میں امریکہ کے متوقع دورے سے جوڑ رہے ہیں-

پاکستانی ڈاکٹروں کی بڑی لیکن نمائندہ تنظیم ایسوسی ایشن آف پاکستانی فزیشن ان نارتھ امریکا (اے اے این اے) کے اندونی ذریعوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے ’اے اے این اے‘ کے اندر اسکی موجودہ قیادت اور پالیسیوں سے اختلاف رکھنے والے ڈاکٹروں کا ایک گروپ جس میں اکثریت انسانی حقوق اور سول سوسائیٹی سے متعلقہ ڈاکٹروں کی ہےمختار مائی کو امریکہ بلایا ہے۔ وہ یہاں انسانی حقوق کے بین الاقوامی اور پاکستانی امریکیوں اور تارکین وطن کے حلقوں سے پاکستان میں عورتوں پر تشدد، ان کے حقوق کی صورتحال اور خاص طور مختار مائی کی عورتوں کے ساتھ زیادتیوں اور ان کی اپنے گاؤں میں تعلیم اور عورتوں کے حقوق کی تنظیم اور کوششوں کے متعلق خیالات کا تبادلہ اور مکالمہ کروانا چاہتا تھا۔ شروع میں ایسے خیال کو پاکستانی سفارتی حلقوں کی تائید بھی حاصل ہوگئی تھی۔

جبکہ شمالی امریکہ میں مقیم پاکستانی تحقیقی اور حلقوں میں بھی بہت سوں نے اسکی حمایت کی ہے۔

اس سلسلے میں ’بی بی سی اردو ڈاٹ کام‘ کو متعلقہ باخبر (نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر) حلقوں نے بتایا کہ وہ مختار مائی کو امریکہ آنے کی دعوت بھی دے چکے تھےلیکن انہیں یہ شروع سے ہی خدشہ تھا کہ مختار مائی کی نقل و حرکت پر شاید پاکستانی حکومت پابندی لگا دے۔

اسی لیے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ میں پاکستانی صحافیوں کے ایک خاص حلقے کو مختاراں مائی کے مستقبل قریب میں متوقع امریکی دورے کی معلومات ہوتے ہوئے بھی مختار مائی کو امریکہ کے دورے کی دعوت دینے والے ڈاکٹروں کے حلقے کی طرف سے یہ گذارش کی گئی تھی کہ وہ مختار مائی کے اسی دورے کی تشریح مت کریں کیونکہ انسانی حقو‍ق کے ریکارڈ پر ’حساس‘ پاکستانی حکومت مختاراں مائی کی نقل و حرکت پر پابندی بھی لگا سکتی ہے۔

مختاراں مائی کے ایسے امریکی دورے میں ایک بڑی ایشیائی غیر سرکاری تنظیم بھی تعاون کررہی ہے-

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مختاراں مائی کے امریکہ کے ویزے ملنے پر منحصر ہے لیکن باور کیا جاتا ہے کہ بائيس جون کو واشنگٹن میں امریکی کانگرس کی پاکستان میں عورتوں کے حقوق کی صورتحال پر مختار مائی کی شنوائی بھی متوقع تھی-

News image
مختار مائی مقدمے کے ملزماں کو گزشتہ روز رہا کر دیا گیا ہے
ان ہی ذرائع نے قیاس کیا ہے کہ عین ممکن ہے کہ مختاراں مائی کے متوقع امریکی دورے کے متعلق باخبر حلقوں میں سے کسی نے پاکستانی حکام کو مطلع کردیا ہو اور اپنے انسانی حقوق اور خاص طور پر عورتوں کے حقوق کی صورتحال پر کاقی ’حساس‘ پاکستانی حکومت نے وہی کیا جنکا ایسے حلقے خدشہ کر رہے تھے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو باخبر ذرائع نے بتایا ھے کہ امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹروں کی بڑی لیکن حال ہی میں متنازعہ تنظیم اے اے این اے ایسوسی ایشن آف پاکستانی فزیشنر ان نارتھ امریکہ میں آئندہ ماہ ٹیکساس ریاست کے شہر ہیوسٹن میں ہونیوالے سالانہ کنونشن کے موقع پر ’اے اے این اے‘ کے ممبر لیکن اسکی موجودہ پالیسیوں سے اختلاقات رکھنے والے ڈاکٹروں کی ایک گروپ کی طرف سے اسی شہر اور مذکورہ کنونشن کے مقام پرہی ایک اجتماع پاکستان میں عورتوں کے حقوق کی صورتحال پر ہونا ہے جس میں بھی مختار مائی کی شرکت بہت متوقع تھی۔

ڈاکٹروں کے ایسے گروپ جن میں اکثریت کراچی اور لاہور سے تعلق رکھنے والے سرگرم رہنے والے سابق طالبعلم سیاست کرنے والوں کی ہے جنہیں بائیں بازوں کے خیالات کا سمجھا جاتا تھا کی تنظیم 'قور آنہ' کے ہیوسٹن کے اس اجلاس میں مختاراں مائی اور لاہور سے ممتاز قانون دان عابد حسین منٹو کو بھی دعوت دی گئی ہے۔ 'فور آنہ' امریکہ میں پاکستان میں عورتوں کے خلاف تشدد اور انکے ‏غیرت کے نام پر قتل کے خلاف عالمی اور پاکستانی برادری میں آگہی کیلیے سرگرم عمل ہے۔

مختار مائی کی نقل و حرکت پر پاکستان سے خبریں اسوقت بھی آرہی ہیں جب یہاں امریکہ اور کینیڈا میں پاکستانیوں کے باخبر حلقوں میں یہ افواہیں بہت شدت سے گشت کر رہی ہیں کہ اسی سال جنوری میں پاکستان کے علاقے سوئی بلوچستان میں ایک قوجی افسر کے ہاتھوں مبینہ طور جنسی زیادتی کا شکار بتلائی جانیوالی خاتون ڈاکٹر شازیہ خالد اور انکے شوہر کو پاکستانی فوجی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے زبردست دھمکیوں کے ساتھ جبراً جلاوطن کیا گیا تھا-

66پاک ہند کا وٹہ سٹہ
اصل دشمن انتہاپسندی ہے۔ حسن مجتبیٰ کا کالم
66ویتنام جنگ اور سندھ
یہ نیپام الامان،ویتنام ویتنام:حسن مجتبٰی کا کالم
66تاریخی جبر کا اسیر
جنکاجانابھی تاریخ کاجبر تھااورآنابھی: حسن مجتبیٰ
66امن، اجرک اورامریکہ
پیٹ کاٹ کر F-16 کی دوڑ، حسن مجتبیٰ کا کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد