ہند کا اڈوانی، سندھ کا اڈوانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات کے ہندومسلم فسادات کے دوران بھی وہ ملاقات کرنے والے پاکستانی مسلمان ناموں والے کچھ امریکی اور کنیڈین ملاقاتی سندھیوں سے گلے ملے تھے ۔ وہ بھی ان کی طرح ہیں جو کہتےہیں کہ وہ پانچ ہزار سال پہلے اس وقت بھی سندھی تھے جب مسلمان اور پاکستانی نہیں تھے اور وہ بھی اتنے سالوں اور صدیوں سے سندھی ہیں جو اب اپنی جنم بھومی سندھ دیکھنے آئے ہیں۔ وہ پہلےسندھی ہیں کہ بعد میں ہندو، میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا۔ لال کشن اڈوانی جس نے کبھی راجستھان میں ہونیوالے سندھی سمبھیلن میں کہا تھا اسکی رتھ یاترا تب مکمل ہوگی جب وہ سندھ کی یاترا کو جائے گا۔ ہوسکتا ہے وہ بہت سے پاکستانی مسلم انتہا پسندوں اور حتیٰ کہ بہت سے کٹر لبرلوں کیلیے اب بھی بی جے پی کا ایک انتہا پسند رہنما ہو لیکن وہ سندھ جایا ہے اور آدھی صدی سے بھی زیادہ عرصے کے بعد اپنا وہ گھر اور جنم بھومی دیکھنے آیا ہے جہاں سے اسے زبردستی بیدخل کردیا گیا تھا۔ وہ بھی تاریخ کا ایک جبر تھا اور اسکا آنا بھی تاریخ کا ایک اور جبر ہے۔ یہ محض ایک اخباری خبر نہیں۔ جلاوطنی کی ایک لمبی سرنگ ہے جو’بقول شخصے‘ دونوں اطراف لوگوں کی روح کا سرطان بن گئی ہے۔ ہو سکتا ہے لال کشن اڈوانی کی وجہ بدنامی ہم میں سے بہت سوں کے نزدیک اسکی کٹر ’ہندوقوم پرستی‘ ہو لیکن اسکے آبائی وطن سندھ میں اسکی نسل کے اب بھی بہت سے ایسے لوگ ہیں جنکے لیے لال کشن اور اس کا اڈوانی قبیلہ تقسیم سے پہلے والے سندھ میں تعلیم’ تعمیر اور ترقی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ کراچی میں جنرل پرویز مشرف کی مادر علمی سینٹ پیٹرکس اسکول (جہاں سے جام صادق بھی تحصیل نہیں تو فارغ ضرور کردیے گئے تھے) کے پڑھے ہوئے ہیں۔
اڈوانیان سندھی عالموں کے اس ’پاڑے‘ ( قبییلے) سے تعلق رکھتے ہیں جنکا ایک نوجوان برطانوی راج میں سندھ میں پہلا اور امتیازی نمبروں میں امتحان پاس کرنیوالا میٹرکولیٹ تھا۔ اور آج بھی واشنگٹن میں امریکی قومی پبلک ریڈیو کے شعبہ خبر کا ایڈیٹر ہے اس کے علاوہ سابق مس انڈیا یا ممبئی میں اداکارہ یا ناسا میں کوئی سائنسدان بھی آپ کو اڈوانیوں میں سے مل جائیں گے۔ سندھی عالموں میں یہ اڈوانی نیک اور بد ’ایول‘ جینئس ثابت ہوئے ہیں۔ اور یہ جونا ’عمر رسیدہ‘ ’آڈوانی‘ جسے بہت سے ہندوستانی سندھی دادا یا کاکا اڈوانی بھی کہتے ہیں، جا کر ایک دن ہندوستانی سیاست کا بادشاہ گر بنےگا ان لوگوں کیلیے کوئی حیرت کی بات نہیں جو سندھ کے اڈوانیوں کی حرکت یعنی ھنر اور ہوشیاری سے بخوبی واقف تھے۔ اڈوانی اور رام جیٹھ ملانی اگر پاکستان میں ہوتے تو بھٹو جتنے ہی ذہین و فطین مانے جاتے۔ ایسے لوگوں کیلیے سندھی کہتے ہیں کہ نہرو کا دماغ رکھتےہیں۔ میں کہتا ہوں ہندوستان میں مسلمانوں کی طرف اسکا رویہ بہت بہتر ہوتا اگر پاکستان بننے کے بہت دنوں بعد اسکے گھر پر فسادیوں نے حملہ کر کے اسے بےگھر اور شرنارتھی بننے پر مجبور نہ کیا ہوتا۔ نہ ہی تالپر حکمران سیٹھ نائونمل جیسے عامل کا زبردستی ختنہ کرواتے اور نہ ہی ہندوعورتيں بھگائی جاتیں تو بر صغیر کی تاریخ بہت مختلف ہوتی۔ اسی لیے میرا ایک دوست بی جے پی کو ہندوستان کی ایم کیو ایم کہتا ہے۔ حیدرآباد میں ایک گلی ’اڈوانی گٹی ’اڈوانی گلی‘ کے نام سے جانی جاتی تھی اور کبھی اس شہر نگاران میں کوچہ دلبراں ہوا کرتی تھی۔ آج اڈوانی اپنے اس شہر نگاراں حیدرآباد اور اس میں ’اڈوانی گلی‘ کا حال دیکھے گا تو دلی کے لال قلعے اور چاندنی چوک کی آجکل بنائي ہوئی درگت سے بھی گيا گذرا پائےگا۔ تقسیم کے بعد پاکستان میں شہروں’روڈوں‘ اور پبلک مقامات کے بھی ختنے کردیے گئے۔ رام باغ: آرام باغ، الفنسٹن اسٹریٹ: زیب النساء اسٹریٹ، لائلپور: فیصل آباد، سیتا روڈ: رحمانی نگر اور ہیراآباد روڈ: مولانا عبدلقیوم کانپوری روڈ بنادیے گئے۔ ’یہ میرا شہر ہے یا کہ دشمن کا شہر ہے‘ اگر چہ یہ سندھی شاعر امداد حسینی کا حیدرآباد شہر کے حالات پر لکھے ہوئے مرثیے جیسی ایک نظم کا شعر ہے لیکن میں اپنے اس شہر کو آج بھی شہرجاناں کہوں گا۔ کیا ہوا کہ اس میں رہنے والے محبوب اور رقیب بدل چکے ہیں۔ حسین عامل اور عاملیانیوں کے پیچھے کراچی کی نیٹی جیٹی پل اور حیدرآباد کی تلک چاڑی پر بجتی ہوئی سائیکلوں کی گھنٹیاں اور سستے اوچھے گانوں کے بول ’بے درد کے اقرار میں ہرگز نہیں سچائی‘ اب بر صغیر کی تاریخ کا نوحہ بن بھی چکے۔ حیدرآباد اور کراچی جیسے
میرے آگے پوری پون صدی کی کھڑکیاں کھلتی اور بند ہوئے جاتی ہیں۔ اڈوانی کی رشتے کی ایک بہن حیدرآباد سندھ کے مسلمان گھرانے میں بیاہی ہوئی ہے۔ کبھی آپ کراچی میں آج کے پی آئی ڈی سی پل (جیسے کبھی ’لورس برج‘ (پریمییوں کے پل) کہا جاتا تھا) کے نیچے اب بھی موجود وکٹوریا ریسٹورنٹ میں چائے کی پیالی کے گھونٹ پیتے کراچی اور حیدرآباد کی عامل کالونیوں میں گم ہوئے ہیں جہاں انگریز کے وفادار بابو لوگ دفتر دار، میر منشی، نازک و نفیس اندام کالجی لڑکے اور لڑکیاں بدیسی لباس تیاگ کر کھدر پوش بنے تھے اور راستے ان کے ان نعروں سے گونجا کیے ’میں جاتا/جاتی ہوں جیل سب کہو بندے ماترم‘ یا ’آج گاندھی پڑو چھے جیل مارے‘ تو گورا سرکار چھوڑ گاندھی جی نے تورے۔یہ ’بٹ کر رہے گا ہندوستان، بن کر رہے گا پاکستان‘ سے بہت بہت پہلےکی بات ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ جناح پر قاتلانہ حملے میں ایل کے اڈوانی مبینہ طور پر ملوث رہے تھے یا نہیں۔ لیکن مجھے معلوم ہے کہ اس پر ایک دفعہ جی ایم سید نے کہا تھا۔ ‘ کیا سندھی بھی انتہا پسند ہو سکتے ہیں، یقین میں نہیں آتا۔‘ اگر میں وہاں ہوتا تو سید سے کہتا وہ یہ سوال اپنے آپ سے بھی پوچھ سکتے ہیں۔ مجھے تو یہ معلوم ہے کہ شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مجموعہ کلام ’شاہ جو رسالو‘ کے پہلے لیکن مستند ایڈیشن کے ایڈیٹر بھی ایک اڈوانی بزرگ کلیان اڈوانی تھے جو چند سال قبل نوے سال کی عمر میں ہندوستان میں انتقال کرگئے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ہندوستان میں اڈوانی کی نسل کے یا ان سے بڑے سندھی اپنے جسد خاکی کی مٹی گنگا کی بجائے سندھو ندی میں بہانے کی وصیت کرتے رہے تھے اور انکی وصیت پو بہت سوں کے پران سندھو کے لہروں کے حوالے ہوئے تھے۔ اب تو سندھیوں کی ہندوستان میں وہ نسل ہے جو حیرانگی سے پوچھتی ہے ’کیا مسلمان بھی سندھی ہوا کرتے ہیں‘ لیکن اڈوانی تو اس نسل سے ہیں جس نے بینظیر بھٹو سے ملاقات کے دوران سندھی میں بات کی تھی۔ پاکستانی ریاستی اداروں کے پاس بہت عرصے تک بینظیر بھٹو ہو کہ اڈوانی تقریباً ایک سے ہی ’سیکورٹی رسک‘ تھے۔ ’ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے‘ کی مصداق چلو پاکستانی اور ہندوستانی زعما کو یہ تو ہوش آیا کہ ملنے ملانے سے نہ تو نکاح ٹوٹتے ہیں اور نہ ہی ملک۔ امن ہمارے تمام بچوں کا آج اور کل ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ پاکستان میں نہ سندھی، نہ پنجابی، نہ سیرائیکی، نہ پشتو، نہ بلوچی اور نہ بنگالی قومی زبانیں کہلائيں لیکن آج کے ہندوستان میں پنجابی، بنگالی اور سندھی زبانیں قومی زبانوں کی فہرست میں شمار ہوتی ہیں۔ سندھی کو قومی زبانوں ميں قرار دلوانے کا بل ہندوستانی پارلیمان میں اندرا گاندھی کے دنوں میں حزب مخالف بی جے پی کے رہنما اٹل بہاری واجپئی نے پیش کیا تھا۔ کہتےہیں اڈوانی جب ہندوستان کے وزیر داخلہ تھے تو انہوں نے کشمیر میں لداخ کی وادیوں کے سلسلے میں ایک چھوٹی سی ندی دیکھی تھی جس کے بارے میں انہیں بتایا گیا تھا کہ یہیں سے سندھو دریا شروع ہوکر بہتا ہے۔ تب سے انکی کوششوں سے وہاں ایک ’سندھو درشن میلہ‘ شروع ہوا جس میں تمام ہندوستان سے بہت سے سندھی اور دیگر ہندو یاتری شریک ہوتے ہیں۔ اب ہندوستان کی وزارت سیاحت نے’ شکاگو کے انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی‘ کے مطابق اس میلے کا نام بدل کر سدرشن میلہ رکھ دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||