BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 March, 2005, 13:49 GMT 18:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ میں بلوچستان کا دکھ

 کیپیٹل ہل
امریکی کانگریس کی عمارت کیپیٹل ہل
گزشتہ ہفتے بلوچستان کے ساتھ ہونے والی بپتا کی صدائے بازگشت امریکی کانگریس کے کیپٹل ہل پر بھی سنی گئی اور ہم بھی وہیں موجود تھے۔

ہوا یوں کہ ماہ رواں کے پہلے سوموار کو منور لغاری کی سرکردگی میں واشنگٹن میں سرگرم ایک سندھی گروپ ورلڈ سندھی انسٹیٹیوٹ ( ڈبلیو ایس آئی ) کے زیر اہتمام بلوچستان کی موجودہ اور انسانی حقوق کی صورت احوال امریکی قانون و پالیسی سازوں تک پہنچانے کیلیے کیپٹل ہل کی لانگ ورتھ بلڈنگ میں ایک اجتماع ہوا جو درحقیقت بلوچستان پر کانگریس کو ایک بریفنگ ہی تھی۔

منور اور میں نے بچپن میں انیس سو ستر کی دھائیوں میں بلوچستان میں بغاوت پر جو امریکی سیاسی دانشور اور تحقیق دان سیلگ ھیریسن کی کتاب ’ بلوچستان: ان افغانستانز شیڈو اینڈ سویت ٹیمپٹیش‘ (بلوچستان: افغانستان کے سائے میں، اور روسی عزائم) پڑھی تھی، اس کتاب کو بلوچ سکالراور سیاسی تاريخ دان مالک توگی ’بلوچستان پر بائبل‘ قرار دیتے ہیں۔

یہ واشنگٹن میں سیاسی جلاوطنوں کا ملن تھا۔ اصل ساکنِ ایرانی بلوچستان لیکن اک زمانہ لیاری میں گذارنے والے یہ بلوچی شاعر اور مشی گن یونیورسٹی کے سابق پروفیسر مالک توگی مجھے بتا رہے تھے کہ انھوں نے ستر کی دہائی میں امریکہ میں شاہ اور اسکی ساواک کے خلاف سیاسی پناہ لی تھی۔

بلوچ سٹوڈنٹس قیڈرریشن کے سابق پرجوش کارکن پروفیسرڈاکٹر توگی نے امریکی اراکین کانگرس کے صدر دفاتر کے ہال میں بلوچستان کے ماضی اور حال کو سمیٹتے ہوئے کہا:’ بہرحال ھم اپنی آزادی حاصل کرکے رہیں گے۔ اگر آپ اس میں ہماری مدد کریں گے تو ہم آپ کے شکرگزار ہوں گے۔بلوچی میں ایک کہاوت ہے جس کا مطلب ہے تم ایک اچھے مقصد کی حمایت نہ کر کے قابلِ تعظیم نہیں کہلاؤ گے۔‘

موجودہ صورتحال میں امریکہ اور دیگر ‏مغربی اور علاقائی طاقتوں کی بلوچستان میں کتنی اور کس نوعیت کی دلچسپی ہے؟ کیا امریکہ اور دیگر مغربی ممالک اور علاقائی ممالک کی بلوچستان میں اٹھنے والی ممکنہ بغاوت کےلیے حمایت موجود ھے؟ امریکہ، ایران اور ہندوستان کے بلوچستان میں سٹریٹجک اور اقتصادی و سیاسی مفادات کیا ہیں؟ اور یہ کہ بلوچ لبریشن آرمی کی کوئی حقیقت ہے کہ نہیں؟ اس طرح کے کئی سوالات ہر خاص و عام سطح پر بہت سے لوگوں کی زبان پر تھے۔ نہ صرف پاکستانی بلوچستان میں بلوچوں کے خلاف فوجی کارروائی بلکہ ایران میں ملاؤں کے ہاتھوں ایرانی بلوچوں پر ہونے والے مظالم پر بھی سوال اٹھائے گئے۔ کشمیر اور گلگت اور بلتستان کے لوگوں کے لسانی وقومی حقوق پر بھی سامعین نے سوال اٹھائے۔

ڈیل ویل کا زمانہ
بینظیر بھٹو بھی ایک روز قبل واشنگٹن میں تھیں اور انکی پریس کانفرنس ميں شرکت کرنے والوں میں سے بہت سوں کا خیال تھا کہ وہ ایسے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دینا چاہتی تھیں جس سے مشرف حکومت ناراض ہو۔ شاید کوئی ’ڈیل ویل‘ کا زمانہ ہے۔

وڈرو ولسن انسٹیٹیوٹ کے سینیئر فیلو سیلگ ہیریسن جو امریکہ سے زیادہ سندھ اور بلوچستان ميں مشہور ہیں کہہ رہے تھے:’ مجھے نھیں معلوم کہ موجودہ صورتحال میں وہاں کیا ہو رہا ہے مگر میں آپ کو آج سے تیس برس پہلے والے بلوچوں کے اس غصے کے پس منظر بتاؤں گا جو آج بھی موجود ہے اور بلوچ بہت تھوڑے ہی سہی لیکن انکا مقابلہ ایک منظم، طاقتور اور جدید ترین اسلحہ بردار فوج سے ہے اور وہ ساز سامان امریکہ نے دیا ہوا ہے۔‘

ڈاکٹر ہیریسن نے یہ بھی کہا: ’ امریکہ پاکستان کی فوجی امداد کوانسانی حقوق کی صورتحال، تعلیمی اصلاحات اور کشمیر سمیت تمام پڑوسیوں کے معاملات میں عدم مداخلت سے مشروط بنائے۔‘

بلوچستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے سوئی، ڈیرہ بگتی، کوہلو اور کوئٹہ جیسے علاقوں سے ریاستی تشدد اور چیرہ دستیوں کی اطلاعات بھی زیر بحث آئیں۔ سوئی اور کوئٹہ کے قریب مری قبیلے کے کیمپوں میں سے اب تک ایک ہزار سے زائد لوگوں کی گرفتاریوں کی غیر مصدقہ اطلاعات امریکہ میں بلوچ تارکین وطن کے حلقوں میں گشت کر رہی ہیں۔

ریاستی تشدد کی ایک مبینہ مثال سندھ میں مالک توگی کا ایک ’جرم‘ بلوچ قوم پرست رہنما خیر بخش مری سے ملاقات کرنا تھا۔ خیر بخش مری کہ جن کا کہنا ہے: ’اپنے پیشروؤں کے برعکس جنرل مشرف کا کم از کم ایک ایجنڈا ہے کہ وہ بلوچستان کو ایک جدید، خوبصورت اور ترقی یافتہ۔۔۔ فوجی چھاونی میں بدلنا چاہتے ہیں‘ اور میرے دوست خاور مہدی کا گناہ فرانسیسی صحافیوں کے ساتھ مشرف کے زیرِحکومت پاکستانی بلوچستان میں سے یہ تحقیقی رپورٹ لے کر آنا تھا کہ وہاں اب بھی طالبان موجود ہیں۔

بینظیر بھٹو بھی ایک روز قبل واشنگٹن میں تھیں اور انکی پریس کانفرنس ميں شرکت کرنے والوں میں سے بہت سوں کا خیال تھا کہ وہ ایسے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دینا چاہتی تھیں جس سے مشرف حکومت ناراض ہو۔ شاید کوئی ’ڈیل ویل‘ کا زمانہ ہے۔

بلوچستان کانفرنس میں شریک پاکستانیوں میں سے کچھ کا خیال تھا کہ بینظیر بھٹو اور ان کی پیپلز پارٹی کو سن انیس سو ستتر میں’بڑے بھٹو‘ کے دور حکومت میں بلوچستان میں ہونے والے آپریشن پر بلوچوں سے معذرت کرلینی چاہیے۔ بہت سوں کا خیال تھا کہ اکبر بگتی بھی اس آپریشن کے اتنے ہی ذمہ دار تھے۔ بھٹو اور بلوچی سردارں پر پاکستانی شرکاء کی آپس میں لے دے ہوتی رہی۔

کینیڈی سینٹر فار پیس، جسٹس اور ہیومن رائٹس پر ایشیا اور پیسیفک ممالک کیلیے سابق عملدار اور انسانی حقوق کی کارکن مریم ینگ نے پاکستان میں انسانی حقوق اور خاص طور پر عورتوں کیساتھ ہونے والے تشدد اور ان کے حق تلفی پر امریکی عملداروں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انھوں نے امسال امریکی محکمۂ خارجہ کی انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹ میں بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر نہ ہونے پر تاسف کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا: ’جب انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں سرحدوں کو بانٹنے لگتی ہیں تو پھر اقوام و ضمیرِ عالم کی مداخلت ناگزیر بن جاتی ھے‘۔

مریم ینگ نے پاکستان میں عزت کے نام پر قتل اور عورتوں پر تشدد کی روک تھام یقینی بنانے کیلیےامریکہ سے پاکستان کی امداد یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا:’امریکہ پاکستان کی محض اس وقت مدد کرتا ھے جب اسے (امریکہ کو) پاکستان کی ضرورت ہوتی ہے۔

ورلڈ سندھی انسٹیٹیوٹ کے صدر زاھد مخدوم نے کہا: ’تہذیب انسانوں اور حکومتوں کو اچھا بننے کا تقاضا کرتی ہیں۔ اگر امریکہ اور برطانیہ جیسے طاقتور ممالک خود انصاف کی مثال قائم کریں گے تو پھر پاکستان جیسے ممالک کو بھی اپنے شہریوں اور خاص طور عورتوں سے بہتر سلوک نہ کرنے پر جوابدہ بنا سکتے ہیں‘۔

میرے دوست زاہد مخدوم اپنے زمانۂ طالبعلمی میں مشرقی بنگال میں فوج کے ہاتھوں آپریشن اور پھر سندھ اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی تگ و دو میں دوبار دو سال سے زیادہ قید کاٹ چکے ہیں۔

کانفرنس میں ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی اور انصاف میں تا حال تاخیر کے پس منظر میں تمام ملک میں عورتوں کے حقوق کی حالت زار پر بھی شرکاء اور مقررین نے اپنی آراء اور تشویش کا اظہار کیا۔

کمیٹی برائے امریکی ایوان نمائندگان اور انکے کارکنوں کی بلوچستان اور اس پر ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت اور بلوچستان کی صورتحال میں دلچسپی کو بہت سے مبصر امریکہ میں کافی اہمیت دے رہے ہیں۔

لیاقت جتوئیسیاسی کرپشن
مات نہیں دے سکتے تو ساتھ دے دو: حسن مجتبیٰ
بینظیر، نواز شریفجمہوریت کا میزائل
گائیڈڈ ڈیموکریسی پر حسن مجتبیٰ کا کالم
بی بی سی دسواں ستارہ بی بی سی
بی بی سی اور پاکستانی سیاست: حسن مجتبیٰ
فوجانصاف سے قاتل بڑا
پاکستان اور جہان خانی انصاف: حسن مجتبیٰ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد