’یہاں انصاف سے قاتل بڑا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے سوئی میں ڈاکٹر شازیہ خالد کے ساتھ ہونے والے ریپ میں مبینہ طور پر ملوث فوجی کپتان حماد کو ’ بیچارہ اور بے گناہ‘ قرار دے ہی دیا- جنرل صاحب خود ہی جج ، جیوری اور عدالت بنے اور فتویٰ بھی صادر کر دیا۔ کہنے والے اسے ’ بنے ہیں اہلِ ہوس مدعی بھی منصف بھی، کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں‘ نہ کہیں گے تو کیا کہیں گے! اسی کو سندھی میں کہتے ہیں ’ جہان خانی انصاف‘۔ ڈاکٹر شازیہ، جو کہتی ہیں انہیں ملک میں انصاف کی کوئی امید نہیں اور جو اپنے اور اپنے خاندان کے تحقظ کی خاطر وطن کی سر زمین چھوڑ جانا چاہتی ہیں۔ وہ رات کا اندھیرا ہونے پر اور ہوا کی آواز پر بھی خوفزدہ ہو جاتی ہے۔ ماؤں کے ہونٹوں پر نوحے اور بہنیں کُرلاتی ھیں وہ خاکی وردی والے جن پر بنگالی عورتوں کی عصمت دری کا الزام ہو، ان کیلیے ایک خاتون ڈاکٹر سے زیادتی، جیسا کہ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا، ’معمولی واقعہ‘ بن جاتا ہے۔ ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ ہم بقول شخصے ایک ٹکا خان کے لیے پورے پاکستان کی قربانی دے چکے ہیں۔ کسی نے کہا تھا: آؤ بچوں تم کو دکھائیں تصویریں ٹکا خان کی تو کیا اب ایک ’بیچارے‘ کپتان کیلیے اس ملک کے ننگ و ناموس کی قربانی مانگی جا رہی ہے۔ کیا یہاں بنگالی عورتوں کو انصاف ملا؟ کیا بھٹو کے پاکستان میں ڈیرہ غازی خان کے قریب نیلام ہونیوالی بلوچ عورتوں کو انصاف ملا تھا! اور تو اور یہاں تو پاکستان بنانے والے شوکت حیات کی بیٹی وینا حیات کو بھی انصاف نہیں ملا- بدقسمتی سے ڈاکٹر شازیہ ملک کے اس دورافتادہ لیکن سخت قبائلی علاقے میں لوگوں کے درد کا درمان بننے گئی تھیں جہاں پہلے سے ہی بقول فیض ’جہاں بٹ رہے تھے گھٹا ٹوپ بے انت راتوں کے سائے‘۔ اور انکی عصمت کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ سیاست کی نذر ہوتا جا رہا ہے۔ ایک نہتی اور تنہا لڑکی ہے، جرنیلوں کی توپخانی اور قبائیلی سرداروں کی تیس مار خانی بڑھکیں ہیں اور ایسے میں جنرل پرويز مشرف نے ملوث کپتان کو پہلے سے ہی ’ باعزت بری‘ اور ’ بیچارہ‘ قرار دے دیا ہے جس پر بقول ان کے بے بنیاد الزام لگائے جانے کا ان کو یقین ہے۔ اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان پر اعتبار کیا جائے کیونکہ وہ جو بھی بات کرتے ہیں وہ اعتبار کی حامل ہوتی ہے۔ آپ جنرل پرویز مشرف کی ایسی بااعتبار بات کا موازنہ انکی وردی پہنے رکھنے یا فوجی سربراہ اور صدر کے عہدوں میں سے ایک چھوڑنے والے وعدے سے نہیں کر سکتے۔ کسی نے ضیاءالحق کے لیے کہا تھا: آج پشاور و لاھور و بولان تک تم نے وہ ایک فوجی آمر تلے تارا مسیح کا دور تھا اور یہ ’فوجی نشاطِ ثانیہ‘ کا دور ہے جہاں صرف سال رواں کے گزشتہ اڑتیس دنوں میں عورتوں پر تشدد کے باسٹھ واقعات ہوئے ہیں اور ان باسٹھ واقعات میں بائیس واقعات اجتماعي زنابالجبر یا گینگ ریپ کے ہیں۔ ایسے واقعات کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر شیر شاہ نے کہا کہ یہ صرف وہ واقعات ہیں جو پولیس کے ہاں رپورٹ کرائے گئے ہیں۔ سال رواں کے گزشتہ چونتیس دنوں میں تشدد کے ان واقعات کی شکار ہونیوالی خواتین نہ تو ’ہائی پروفائل‘ تھیں اور نہ ہی ان میں سارے فوجیوں پر الزام تھا۔ نہ ہی ان کو کور کرنے والا ملکی اور بین الاقوامی میڈیا ہو گا اور ان پر احتجاج کرنیوالے مری، مینگل اور بگٹی۔ یہ سب کی سب عورتیں تو اکثر میرے دوست معین قریشی کے اس شعر جیسی ہوں گی: بگاڑ سکتی نیں کچھ بھی شہر والے کا صرف سندھ میں گزشتہ دس دنوں میں غیرت کے نام پر قتل ’ کارو کاری‘ ( جسے ایک سندھی لکھاری نے ’غیرت کا بےغیرت تصور‘ کہا تھا) اور تشدد کا شکار ہونے والی عورتوں کی تعداد انیس ھے جن میں دس اور سات سالہ بچیاں بھی شامل ہیں اور ان دس دنوں میں صرف ایک دن میں مختلف مقامات پر پانچ عورتیں قتل کی گئیں۔ ایک ایسا ملک جہاں کے ریاستی قوانین میں زنابالجبر کی شکار عورت کیخلاف ہی کارروائی ہوتی ہو- ( ضیاءالحق کے دنوں ميں تو ایک ایسی اندھی عورت کو کوڑے لگائے گئے) اور جہاں ریاستی قوانین کے ساتھ مروج قبائلی قوانین بھی چلتے ہوں جن کے تحت فیصلے سرکاری ریسٹ ہاؤسوں میں انتظامیہ کی موجودگی میں سردار کرتے ہوں جہاں عورتوں کا ’خون بہا‘ مقرر کیا جاتا ہو وہاں کے لیے ہی پروین شاکر نے کہا: خوں بہنے سے پہلے خوں بہا دے پھر وہ انصاف کا قاتل فوجی ہو کہ غیر فوجی جہاں تک عورت کے ساتھ زیادتی،امتیاز اور ناانصافی کا تعلق ہے وہیں پاکستان (چاہے کتنے ہی بین الاقوامی معاہدوں کا دستخط کندہ کیوں نہ ہو) ایک عورت دشمن آبادی بن جاتا ہے۔ اس عورت دشمن آبادی پر راج کرنے والے ’روشن خیال مردِ معتدل‘ نے اپنے ضمیر کی عدالت سے کپتان حماد کو ایک عورت کے ساتھ زیادتی کرنے کی فرد جرم عائد ہونے نہ ہونے کے قانونی فیصلے سے قبل بریت دے دی ہے: یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||