گوروں کی نہ کالوں کی۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہاں کیلیفورنیا جیسی ریاست میں بھی میرے پڑوس کی مارکیٹ کے سامنے میں نے ایک شخص کو میز کرسی لگائے آتے جاتے لوگوں سے ا کثر دستخطی مہم چلاتے دیکھا جسکا مقصد تھا’غیر قانونی تارکین وطن کے لیے ڈرائیونگ لائسنس کا اجراء اور کالج میں پڑھائی نامنظور‘۔ امریکہ میں تارکین وطن کی سب سے بڑی ریاست کیلیفورنیا جہاں اکثریت ہسپانوی بولنے والے لاطینی امریکییوں اور ان میں بھی اکثریت کیلیفورنیا کی سرحد سے جڑے پڑوسی ملک میکسیکو سے آئے ہوئے تارکینِ وطن کی ھے، وہاں تارکین وطن ، اور خاص طور پرغیر قانونی تارکین وطن کو ڈرائیونگ لائسنس کا اجراء ایک بہت بڑا سیاسی ایشو رہا ہے- کیلیفورنیا کے موجودہ گورنر اور سابق اداکار آرنلڈ شوازنیگر کا جو خود بھی آسٹرین تارکِ وطن ہیں، اپنی انتخابی تحریک کا ایک نعرہ ’ تارکین وطن کے لیے ڈرائیونگ لائسنس کا اجراء‘ تھا لیکن وہ بھی گورنر بننے کے بعد اس کےلیے قانون سازی کروانے کے وعدے سے مکر گئے۔
کیلیفورنیا میں آرنلڈ کی جیت پر مرحوم سابق صدر رونالڈ ریگن کے بیٹے رونی ریگن نے کہا تھا ’ ایسا لگتا ھے کیلیفورنیا کے عوام دو تین سال کے شیر خوار بچے بن گئے ہیں‘۔ اسی کیلیفورنیا کے سان فرانسسکو میں گذشتہ ہفتے ہم جنسوں کی شادیوں کی پہلی سالگرہ تھی اور مزید ہم جنس شادیوں پر حکم امتناعی اور شادیوں کے بارے میں صدر بش کی امریکی آئین میں ترمیم کی تجویز کے باوجود پچھلے برس آپس میں ہم جنس شادیاں رچانے والے کوئی تین ہزار ہم جنس عورتوں اور مردوں پر مشتمل جوڑے سٹی ہال میں ہم جنس شادیوں کی پہلی سالگرہ منانے جمع ہوئے تھے۔ ان جوڑوں کو شادی کے لائسنس جاری کرنے والے میئرگیون نیوسم کا ’ گے‘ لوگوں سے اظہارِ یکجہتی اور ’ گے‘ لوگوں کی طرف سے میئر کا والہانہ خیر مقدم قابلِ دید تھا۔ یہیں پر ہی میئر نیوسم نے کہا :’صدر بش کی باتوں پر کان مت دھرو۔‘ یہ ہے سان فرانسسکو جسے ہم جنس پرستوں مرکز کہا جاتا ہے اور یہ جو آپ نے خبر سنی کہ جرمنی کے چڑیا گھر میں رہنے والے پینگوئن ہم جنس ہیں تو ان لوگوں کے لیے ضرور اچھنبے کی بات ہوگی جو ہم جنس پرستی کے عمل کو ’خلافِ فطرت‘ فعل سمجھتے ہیں۔ یہ بات تو برسوں پہلے سعادت حسن منٹو نے ایک ہم جنس بیٹے کی ماں کے خط کے جواب میں کہی تھی کہ ’اگر ہم جنسیت غیر فطری چیز ہوتی تو پھر جانوروں اور پرندوں میں کیوں پائی جاتی جو فطرت کے بہت ہی قریب رہتے ہیں‘۔ منٹو جیسا مہان کہانی کار ’ گے‘ حقوق کی تحریکیں زور پکڑنے سے بھی بہت پہلے ’ہوموفوبیا‘ سے دور تھا۔ کیلیفورنیا میں چرند پرند کے بھی حقوق کی تحریکیں ہیں بقول شخصے پالتو جانوروں کے لیے بھی شہریت کے حقوق اور زہریلے بلوط کے درختوں کو بھی باقی رکھنے کی تحریکیں ہیں۔ اس پر مجھے یاد آیا کئی دن پہلے اپنی زبان پر انگور رکھ کر اپنے پالتو طوطے کو کھلانے والے ایک شخص سے جب میں نے اس کے پرندے کا آبائی وطن پوچھا تو اس نے ازراہِ مذاق کہا تھا: ’ اس کا تعلق آسٹریلیا سے ہے لیکن اب تک اسے گرین کارڈ نہیں ملا۔‘ یہ سچ ہے کہ امریکہ ’ تارکین وطن کی قوم‘ یا ’ایک پگھلتا ھوا بڑا برتن‘ کہلاتا ہے جہاں دنیا کے کسی بھی کونے سے جو بھی آیا سورج کی دھوپ میں پگھلتے ہوئے اسی میں سما کر گیا، ایک ایسی مختلف الاقوام اور ثقافتی دھرتی جسے سندھی میں ’درخت درخت کی ٹالی‘ کہا جاتا لیکن ایسا زیادہ تر ہے نہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ کوئی پورے کا پورا یا آدھے کا آدھا ’ گورا امریکہ‘ یا’ کالا امریکہ‘ ہے لیکن اکثر تارکین وطن نے بھی اپنے اپنےتعصبات کا دامن ایک ترکے کی طرح اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ امریکہ کبھی دنیا کے مثالی مہاجروں کا ملک کہلاتا تھا لیکن اب امریکہ میں نسلی عفریت اپنا گندا سر کہیں کہیں پھر اٹھانے لگی ہے جیسے ’ لاس اینجلس ٹائمز‘ نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ’یہاں تارکین وطن نہیں چاہئیں‘ ، جیسے نعرے بڑے بڑے بل بورڈوں کی صورت میں امریکہ کے مغربِ وسطیٰ کی مسوری ریاست سے لیکر فلوریڈا جیسی ریاست کے کئی شہروں میں دن کی دھوپ میں آویزاں کیے گئے۔ ایک آدھ اور جنوب مغربی ریاستوں میں بھی یہ بل بورڈ اور تحریريں شاہراہوں پر ’ آویزاں‘ کی گئی ہیں۔ ’امریکہ پر کس کا راج‘ اور ’سفید امریکہ‘ بالکل اس طرح جیسے ہم نے سندھ کے بڑے شہروں میں دیکھا تھا ’ قلعہ مہاجر‘ یا ’یہ شہر کس کے سندھیوں کے۔‘ زیادہ عرصہ کینیا میں گزارنے والے ایک پاکستانی نزاد امریکی نے کہا ’میں فلوریڈا سے واپس آ گیا کیونکہ وہاں ’ کالے‘ بہت تھے۔‘ یہ پاکستانی اور اس کا خاندان عیدی امین کی پالیسیوں کی وجہ سے افریقہ چھوڑ کر امریکہ اور یورپ جا کر آباد ہوئے تھے- ’میں اس پر خوش ہوں کہ تیز رفتاری پر ٹکٹ دینے والے پولیس والے نے میرے نسلی گروپ کے کالم میں ’سفید‘ لکھا میرے ایک سندھی دوست نے مجھ سے فخریہ کہا۔ بہت سے تارک وطن لوگوں کے یہاں کے مقامی کالے لوگوں کے بارے میں اپنے پہلے سے ہی قائم کردہ تصورات کی بنیاد پر تعصبات گوروں سے بھی بڑھ کر ہیں۔ یہ شاید اس لیے بھی ہیں کہ سیاہ چمڑی اور رنگت کے بارے میں ہم برصغیر کے بہت سے لوگوں کے ہوا میں سائیکل چلانے کے موافق اپنے تعصبات اور تصورات ہیں جو بچپن سے ہماری گٹھی میں ہیں۔ ہمارا ادب اور ہماری شاعری اور ہماری ’حس جمالیات‘ بھی ’ گورے رنگ‘ کی گرویدہ ہیں۔ ’ کالے نوں گورا کرے تےگورے نوں چن ورگا‘ پاکستان میں کبھی چہرے کی کریم کا اشتہار ہوتا تھا۔ ’گورا رنگ نہ کسی نوں رب دیوے تے سارا پنڈ بیر پے گیا‘ مشہور پنچابی لوک گیت کی سطریں ہیں۔ اس طرح کے سینکڑوں لوک گیت اور فلمی گانے برصغیر کی بہت سی زبانوں میں ہیں جوگورے رنگ کی مدح میں ہیں۔ حیرت ہے شیخ ایاز جیسے شاعر نے بھی کہا ’ موت اک اداس کالا حبشی ہے‘۔ کچھ دنوں پہلے تک پاکستانی اخبارات میں ’ضرورت رشتہ‘ کے اشتہارات میں دلہن یا دولہے کی رنگت گوری بتائی یا مانگی جاتی تھی۔ بہت دن ہوئے کہ پیر پگارو نے سندھ کے وزیرِاعلیٰ ارباب رحیم کو تھر کا کالا کّوا کہا تھا- میرا خیال ہے کہ بہت سے پاکستانی لوگ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو کچھ نمبر ان کے ’دیسی صاحب گوری میم‘ ہونے کی بنیاد پر بھی دیتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||