شیخ ایاز: برصغیر کا’قومی‘ شاعر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’مجھے یاد ہیں وہ زمستاں کی راتیں ستارے ٹھٹھرتےتھے بام فلک پر مئے آتشیں جام میں جم گئي تھی میرے گرم کمرے میں شمع فروزاں الجھنے لگی موت کی تیرگی سے انگیٹھی کا ایندھں دھکنے لگا تھا اچانک ہوادان سے ایک چڑیا شب تار سے بھاگتی آگئی تھی ننھی منی سی تھی سراسیمہ سی تھی گھڑی دو گھڑی گرم و روشن فضا میں پھڑکتی رھی پھر اڑی جب سے میرے لیے ایک تمثیل سی بن گئی ھے یہ وقفہ یہ عالم سراسیمگی کا گھڑی دو گھڑی گرمی و روشنی کا حیات بشر ھے، ایسی نظمیں لکھنے والا شاعر سندھ میں ایسے تھا جیسے پابلو نرودا چلی میں، ناظم حکمت ترکی، لورکا اسپین اور والٹ وٹمیں امریکہ میں۔ شیخ ایاز سندھی زبان میں شاہ لطیف کے بعد سب سے بڑا شاعر تھا۔ کرسمس کے تین دنوں بعد یعنی اٹھائیس دسمبر انیس سو ستانوے کو اس جہان رنگ و بو سے کوچ کرنے والے شاعر نے کہا تھا ’میری شاعری تو شعر مریم ہے، کوئی ہے جو اسکواپنےہونٹوں پر لانے والوں کو مصلوب کرے‘۔ اپنی مطالعہ گاہ میں بلی اور لینن کا مجسمہ اپنی میز کے کونے کھدرے میں پھینک کر اپنے گھر کے دروازے پر ’نمستے‘ لکھے ہوئے دو جڑے ہوئے ہاتھوں والی مورتی لگانے کے متعلق جب میں نے پوچھا تو اس نے کہا: ’یہ برِصغیر میں آنے والی اس صبح کے خیر مقدم کے لیے ہے جو ابھی نہیں آئی لیکن آئے گی ضرور‘۔ ’وہ وقت بھی آئے گا جب میری شاعری چاند آکاش گنگا میں نہلاۓ گی، جب زباں کا تعصب نہ ھوگا کوئی‘۔ شاید شیخ ایاز نے یہ برِ صغیر کے اتہاس میں ایک ایسے سمے کے لیے کہا تھا- اور اس نے یہ بھی کہا ’راج گھاٹ پر چاند ابھی بھی چمک رھا ھے‘۔
شیخ ایاز ہند و پاک کی اس نسل سے تعلق رکھتا تھا جس نے اپنی بھرپور جوانی میں کراچی اور بمبئی کی بندر گاھوں سے اپنے ھمجولیوں اور ساتھیوں کو ایسے وداع ہوتے دیکھا تھا جیسے پانی پر پرندے کا سایہ گزر جاتا ھے۔ برِ صغیر کی تاريخ میں سنامی کی طرح انسانوں اور انکے پاؤں تلے دھرتی کو تہہ و بالا کرتی ہوئی تقسیم ایاز کی شاعری میں اک لمبی چیخ کی طرح سنائی دیتی ہے: ’او باغی او راج دروھی بھارت میں بلوے کے بانی‘ ایاز کی یہ کئی سال پہلے بندش شدہ نظم آج بھی اس کی تمام کتابوں میں بھی نہیں ملتی۔ پاکستان میں فیض احمد فیض، حبیب جالب، بلوچی شاعر گل خان نصیر اور پشتو شاعر اجمل خٹک کی طرح ایاز بھی لمبی مدتوں پابند سلاسل رھا اور اسکی شاعری کا بہت بڑا اور اعلیٰ حصہ اسکی جیل کی شاعری ہے۔ ایاز کی نثرو شاعری کی کتابوں پر حکومتوں کی جانب سے پابندی رہی۔ ان پر ملک دشمنی اور غداری کے الزامات لگے اور کفر کے فتوے بھی لگائے گئے۔ اس نے اپنی ایک اردو نظم میں کہا: ایاز کہتے ہیں: ’کل رات بھٹائی گلیوں میں یوں خون میں لت پت دیکھا تھا، یہ وہ ایاز تھا جو سندھی قوم پرستی کی اس ڈگر سے نکل آیا تھا جب اس نے کہا تھا: ’تھا خسرو نے دیکھا نہ غالب نے دیکھا شیخ ایاز کو اکثر سندھی اپنا قومی شاعر قرار دیتے ھیں اور اسکا یہ گیت ’سندھ دیس کی دھرتی تجھ پر میں اپنے سر کو جھکاؤں/ مٹی ماتھے لگاؤں‘ کو جیئے سندہ کے قوم پرست ’سندھو دیش کا قومی ترانہ‘ کہتے ہیں۔ سندہ میں آج بھی کوئی سیاسی اور ادبی جلسہ اور محفلیں ایاز کی شاعری کے بغیر ناممکن ہیں۔ ایاز کو سنہ انیس سو باسٹھ اور اکہتر کی پاک بھارت جنگوں میں نظر بند کیا گیا۔
ایاز نے جنگ کے دوران جیل میں بلیک آؤٹ پر لکھا تھا: ’بمباری کے خوف سے ہر شب بجلی بند کرو تم/ جو بھی لگائے بیڑی سوٹا اسکو چوکیدار ہے ڈانٹے/ پر کھولی پر یہ چاند جو چمکے اس کو کون بھجائے/ اسکو کون بجھائے‘۔ ایاز کی اردو نظم کے شعر ہیں: سندھ میں ایسی شاعری کرنے والے شیخ ایاز پر ایسا بھی دور آیا کہ برِصغیر کا یہ انقلابی انقلاب سے زیادہ کسی اوتار اور امام کی آمد پر زیادہ اعتبار کرنے لگا۔ اب اس کے خلاف کفر اور الحاد کے فتوے لگانے والے اسکے ساتھ تھے اور اسکے بہت سے ساتھی اسکی دعائیہ نظموں پر اسکے نکتہ چیں بنے ہوئے تھے۔ شاہ بھٹائی کے بعد سندھ کے دوسرے بڑے شاعر شیخ ایاز کو اٹھائیس دسمبر کو شاہ کی بھٹ پر ہی دفن کر دیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||