BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 February, 2005, 10:20 GMT 15:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مات نہیں دے سکتے تو ساتھ دو

لیاقت جتوئی
صدر پرویز مشرف نے کالا با‏‏غ ڈیم کی حمایت میں سندھ میں رائے عامہ ہموار کرنے کا سہرا لیاقت جتوئی کے سر باندھا ہے
پاکستان میں سنہ انیس سو ستانوے میں نگران حکومت کے تحت ہو نیوالے عام انتخابات کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کی اسٹیبلشمینٹ، جسے کچھ لوگ ’مہربان‘ بھی کہتے ہیں، کی طرف سے سندھ میں سبکدوش ہو نیوالی حکومت کو یہ ’فریضہ‘ تفویض کیا گیا کہ جاتے جاتے وہ اس بات کو یقینی بناکر جائے کہ بدعنوانی کے مقدمات میں مطلوب لیکن سندھ میں وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے نامزد لیاقت علی جتوئی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کی جائے۔

نگران حکومت کے وزیرِ قانون نے سندہ کے نامزد وزیراعلی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کسی بھی قیمت پر منظور کرنے کیلیے متعلقہ عدالت کے جج کو ٹیلیفون کیا۔

’فاضل جج‘ نے خوشی سے یہ ’فرض‘ سر انجام دینے کی حامی بھر لی لیکن اس ’چھوٹی سی فرمائش‘ کے ساتھ کہ ان کی سالانہ کارگردگی رپورٹ میں جو منفی ریمارکس موجود ہیں وہ حذف کردیے جائیں۔

ادھر سندھ کے نامزد وزیراعلی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی منظوری کا شدید انتظار راولپنڈی - اسلام آباد کی اسٹیبلشمینٹ اور لاہور میں انہیں انتخابات میں 'بھاری مینڈیٹ' لے کر آنے والی نواز شریف کی مسلم لیگ کے ایک سینیٹر کے گھر پر ہو رہا تھا جہاں لیاقت علی جتوئی خود بھی موجود تھے تا کہ وہ اسی شام کی پرواز سےکراچی جا کر بطور سندھ کے نئے وزیراعلی کا حلف اٹھا سکیں۔

اس کے بعد وہ سندھ کے وزیراعلیٰ منتخب ہو ئے اور ان کے حکومت صوبے میں امن وامان کی ناکامی اور سندھ اسمبلی کی معطلی اور گورنر راج پر منتج ہو ئی۔ ان پر ایک بار پھر بدعنوانی کے مقدمات بنے، پرویز مشرف حکومت میں چودہری شجاعت نے اپنی طرح انہیں بھی نہ صرف جرنیلی معافی دلوائی بلکہ وہ وفاقی وزیر بھی بنادیے گئے۔ اب جنرل صدر پرویز مشرف نے کالا با‏‏غ ڈیم، جسے وہ ’بڑا ڈیم‘ کہتے ہیں، کی حمایت میں، سندھ میں رائے عامہ ہموار کرنے کا سہرا ان کے سر باندھ دیا ھے۔

مسلم لیگ قائداعظم جس کے بارے یہ طے نہیں کہ اصل میں ملک کے بانی کے نام پر بنائی گئی ھے یا کسی اور کے نام پر، اس کے بارے میں یہ ضرور طے ہے کہ اس کی چھتری تلے جو بھی آیا وہ اس طرح کہ ’ تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے‘ کی تعبیر بن گئے۔

پاکستان میں سیاسی کرپشن کی دا‏غ بیل تو سکندر مرزا ہی کے دور میں پڑ چکی تھی ایوب اور یحیٰی خان کے دور میں یہ بیل منڈھے چڑھی اور ذوالفقار علی بھٹو کے عوامی راج میں عروج پر پہنچی اور پھر ضیاءالحق، بینظیر بھٹو، نواز شریف اور اب جنرل پرویز مشرف کی اس فوجی سیاسی نشاۃ ثانیہ میں ایک مضبوط سیاسی کلچر کا روپ دھار چکی ھے۔

’کیسی کرپشن !‘ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے صحافی رز خان کو ایک انٹرویو میں ان کی حکومت پر کرپشن کے الزامات کے جواب میں کہا تھا کہ اب تو وزیروں کے ذاتی گھروں کے غسلخانوں کے ڈیزائن جاپانی انجینئر تیار کرتے ہیں۔
پاکستان میں ضیاءالحق سے لے کر آج تک بہت سے سینیئر حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں کے نجی گھروں کی تعمیر میں اتقاق فاؤنڈریز کا مفت کا لوہا اور سیسہ استعمال کیا ہو ا ہے۔

کہتے ہیں سنہ انیس سو پچاس کے عشرے میں وزراء تک دارالحکومت کراچی میں رکشوں پر اپنے دفاتر آیا کرتے تھے لیکن سن انیس سو ستانوے کی نگران حکومت قائم ہو نے پر ایک وزیر سندھ کے گورنر ہاؤس حلف اٹھانے کے لیے تو رکشا میں آئے لیکن نگران حکومت کے خاتمے پر واپس گھر لینڈ کروزر پر سوار ہو کر گئے۔

آج کے پاکستان میں انگـریزی راج کے دنوں کے لیکن شاندار انداز سے تعمیر ہونے والے ریسٹ ہاؤسوں اور سرکٹ ہاؤسز میں ’منزل انداز‘ اندرون ملک اور صوبوں کے دورں پر نکلے ہو ئے صدر، وزیر اعظم، گورنر، وزرا‌ئے اعلی یہ کبھی پوچھ نہیں سکتے کہ ان کی خاطر مدارات یا طعام و قیام کے اخراجات کہاں سے پورے کیے جاتے ھیں؟ یہ سب جانتے ھیں کہ اس تمام ’سیر وشکار‘ کے خرچوں کا ذمہ علاقے کے پٹواریوں کا ہوتا ہے جو پیارے پاکستان میں کرپشن کا پہلا پرزہ سمجھے جاتے ہیں۔ انہی پٹواریو‍ں کو چاہے الٹا یا چاہے سیدھا تحصیلدار کے گھر سے لیکر کمشنر (اور اب ڈی سی او) تک کے گھر اور 'وی وی آئی پیوں کے دورے اپنی جیب سے چلانے ہو تے ہیں اور اسے وہ ’رسائی‘ کہتے ہیں۔

یہ بھی پٹواری ہی تھے جنہو ں نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی تقسیمِ ہند کے نقشے پر پاکستان کی حلقہ بندی اور حد بندی کی تھی۔ سندھ میں ایک کور کمانڈر کی گھوٹکی ضلع میں کتنی زمین ان کے کور کمانڈر بننےسے پہلے کی تھی اور کتنی کور کمانڈر بننے کے بعد کی ہے ؟ یہ بھی وہاں کا پٹواری ہی بتا سکتا ھے۔

تب سندھ کے کور کمانڈر، چیف آف آرمی اسٹاف اور دیگر حاضر سروس جرنیلوں کی خدمت میں اس وقت کے وزیراعلی جام صادق علی نے کلفٹن اور ڈیفنس کراچی میں ڈیڑھ دو ایکڑ کے پلاٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو گلشن اقبال میں رقبے الاٹ کیے۔ سیاسی کرپشن کے تمام ابواب جام صادق علی پر کھلتے اور بند ہو تے تھے جو آج بھی سندھ کے بہت سے لوگوں کی زبانوں پر جام کی ’دریا دلی‘ کے طور پر گویا کہ ’ملفوظات جام‘ کہے جا سکتے ہیں۔

ایک ممتاز کالم نگار نے گجرات کے چودھریوں شجاعت حسین اور پرویز الہی کے دسترخوان کی وسعت اور دیومالائی ہو نے کے بارے میں لکھا ھے: ’اگر ان کی طرح مجھ پر بھی ملک کی بینکوں کے قرضے برستے اور معاف کردیے جاتے ہو تے تو میرا دسترخوان بھی چکوال سے لیکر گوادر تک وسیع ہوتا‘۔

اب جبکہ پاکستان میں سندھ کے وزیر اعلی نے اپنی ہی کابینہ کے وزیر لیکن ان کی وزارت اعلی کے لیے خطرہ امتیاز شیخ کو کرپشن کے الزامات پر برطرف کیا ہے اور جواب میں امتیاز شیخ نے بھی وزیراعلی سندھ پر بدعنوانی اور سیاسی انتقام پسندی کے الزامات لگائے ہیں۔

ان دونوں حضرات کے ‏الزامات اور جوابی الزامات کو دیکھتے ہو ئے ایک تو یہ خیال آتا ہے کہ ان میں سے بہت سے الزامات تو اہلِ سندھ کے لیے انکشافات نہیں اور نہ جانے انہو ں نے اس بار زمینیں ہتھیانے کی دوڑ میں محمد علی جناح کے مزار کو بھی بخشا ہو گا یا نہیں، اور یہ کہ کیوں ہر عبداللہ شاہ کو اپنا مقامی اور پڑوسی سیاسی مخالف قاسم بوزدار اور ارباب رحیم کو ولی محمد راہموں اور بھٹو کو جان محمد عباسی چاہیے ہوتے ہیں؟

پاکستان میں اس سیاسی کرپشن اور طوائف الملوکی کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ پاکستان کے ‏‏‏شخصی حکمران جنرل پرویز مشرف، اس انگریزی کہاوت پر عمل پیرا ھیں کہ ’اگر انہیں مات نہیں دے سکتے تو ان کے ساتھ ہو جاؤ‘۔

گوروں کا یا کالوں کا؟
امریکہ میں تارکین وطن کے ’تعصبات‘،حسن مجتبیٰ
وانا’ پٹھان کے قرضئی ‘
ایک عرب کے لیے دو ارب: حسن مجتبٰی کا کالم
پروفیسر وارڈامریکی نازی پالیسی
پروفیسر وارڈ کیا کہتے ہیں: حسن مجتبیٰ کا کالم
جوہر میرجوہر میر چلا گیا
نیویارک کا ڈیرہ ویران، حسن مجتبیٰ کا کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد