’ پٹھان کے قرضئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں انیس سو اٹھاسی کے انتخابات میں جب بینظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی سندھ سے اکثریت میں جیت کر آئی تو لوگوں نے اسے جتوانے کی وجہ خود پر ’بھٹو کا قرض‘ بتایا تھا۔ پھر پیپلز پارٹی نے انیس سو نوے ، ترانوے، ستانوے اور پھر دو ہزار دو میں سندھ میں جب بھی انتخابات میں حصہ لیا اسکے ووٹروں کی اکثریت نے اسے ’حسب توفیق‘ ووٹ دینے کو پھر ان کی طرف سے ’بھٹو کے قرض‘ کی ادائیگی کہا۔ اس پر صحرائے تھر کےشہر مٹھی میں رہنے والے میرے ایک دوست نے کہا ’بھٹو کا قرض نہ ہوا گویا پٹھان کا قرض ہوا جو اترتا ہی نہیں‘۔ اگرچہ میرا یہ مٹھی کا دوست بھی میری طرح ساحر کے ان لفظوں میں یقین رکھتا ھے کہ’رنگ نسل اور مذہب‘ جو بھی ہے آدمی سے کمتر ہے‘ لیکن ’پٹھان کا قرض‘ اس نے مذاق سے زیادہ اس ’اقتصادیات‘ کے حوالے سے کہا تھا جو برس ہا برس سے لنڈی کوتل سے لیکر لاڑکانہ تک اور شکارپور سے لیکر شرم الشیخ (مصر) تک بغیر کسی لکھا پڑھی اور منہ زبانی بینکنگ کے ذریعے جاری و ساری ہے۔ جس میں ہر کوئی ’خان‘ کا قرضئی ہوتا ہے- ’بچپن میں گاؤں میں دیکھا کرتے تھے کہ سردیوں میں سرحد سے پاوندا آتا، آرام سے قرض دے جاتا لیکن دوسرے برس وہ آتا اور عدم ادائیگی کرنے والے کے گھر کے باہر بیٹھ جاتا اور اپنی پشتو زدہ سندھی میں اپنے مطلوبہ مقروض کو گالی دیتے ہوئے کہتا:’ ۔۔۔۔۔۔۔۔پیسہ نہ ڈیندو‘ (۔۔۔پیسے نھیں دوگے!)۔ کیا آپ نے کبھی سندھ میں ڈا کوؤں کے ہاتھوں کسی پشتون کے اغوا برائے تاوان کا واقعہ سنا ھے! حالانکہ بہت سے پشتون تو سندھ کے ان جنگلات میں لکڑی کاٹنے کے ٹھیکیدار ہیں جہاں ڈاکوؤں کی کمین گاہیں ہیں۔ ایک مرتبہ جام صادق علی نے ایک پشتون کو بیس ایکڑ زمین سندھ میں الاٹ کرنے کے احکامات جاری کیے اور جام کی محفل میں بیٹھنے والوں کےاستفسار پر بتایا گیا کہ ’ابا کے زمانے میں یہ ہمارے گاؤں میں کوٹ بیچنے آیا کرتا تھا‘۔ سردیوں میں سرحد اور افغانستان کے پہاڑوں سے اتر کر سندھ میں منیار اور کپڑے بیچنے والے سرحدی قبائل میں سے ایک بچے کو ٹنڈو بہاول کے لاولد بھرگڑی رئیس نے اپنا بیٹا بنایا اور پھر یہی بیٹا لالہ محی الدین جون انیس سو بانوے میں اسی ٹنڈو بہاول پر بڑی فوجی کاروائی کا اصل محرک بنا۔ اس فوجی کارروائی میں مارے جانے والے تین کسانوں کو اس وقت کے وزیِراعظم نوازشریف نے ’ ڈاکو اور بھارتی ایجنٹ‘ قرار دیا تھا لیکن اب اس نواز شریف کو کیا کہیے ’بقول شخصے‘ تاریخ کی ابتدا وہیں سے ہوتی ہے جہاں انسانی یاداشت ختم ہوتی ہے‘۔ مذکورہ بالا کہانیاں ہیروئین اور کلاشنکوف کلچر، ٹمبر مافیا، افغان عرب، یا ’عرب افغان‘ اصطلاحات سے بہت پہلے کی باتیں ہیں لیکن مجھے آج یہ معلوم ہوا کہ کچھ ’ قبائلی‘ بھی کسی کے قرضئی ہو سکتے ہیں اور وہ بھی القاعدہ والوں کے۔ افواجِ پاکستان جو امریکہ کی ’دہشت گردی‘ کیخلاف جنگ لڑ رہی ہیں ، انہوں نے خود ہی اس بات کا انکشاف کیا کہ انہوں نے وانا کے باغیوں کی القاعدہ سے جان چھڑوانے کی غرض سے انہیں تین کروڑ پاکستانی روپے سے زائد رقم ادا کی تا کہ وہ یہ رقم اپنے القاعدہ کے قرض خواہوں کے مطالبے پر انہیں کو واپس ادا کر دیں۔ یہ مملکت خدادادِ پاکستان ہے۔ جو لوگ افواج پاکستان اور اسکی ایجنیسوں کی ریشہ دوانیوں کی بہت خبر رکھتے ہیں ان کے لیے یہ تعجب کی بات نہيں۔ آج کی القاعدہ ہو یا کل کے مجاہدین، یہ سب افواجِ پاک اور اس کی ایجنسیوں کے مرہونِ منت تھے۔ لوگ تو یہ کہنے لگے ہیں کہ افواجِ ارض پاک نے اقوام عالم میں القاعدہ کی دہشت گردی کی کاروائیوں میں اسکی ایک طرح سے مالی اعانت کی ہے۔ ایسے مظاھر کی وجہ سے کسی نے اسکے مخالفوں اور حمایتیوں کیلیے ’القاعدہ‘ کو’الفائدہ‘ کہا تھا۔ امریکہ میں گذشتہ نومبر میں صدارتی انتخابات کے دوران یہ لطیفہ چل نکلا تھا کہ ’امریکی انتخابات امریکہ میں نہیں، پاکستان کے شمالی قبائلی علاقے وانا میں لڑے جا رہے ہیں‘ اور پھر کہنے دیجیے کہ اس علاقے میں یہ کہاوت بھی مشہور ہو چلی ہے ’ایک عرب کیلیے دو ارب ڈالر کا سودا بُرا نہیں‘۔ اس مذاق کا سنجیدہ پہلو امریکی صحافی اور فلم ڈائریکٹر کرسجین جانسٹن کی تازہ ریلیز ھونیوالی نیم دستاویزی فلم ’سیپٹمبر ٹیپس‘ کودیکھ کر لگایا جا سکتا ہے جو فلم کے ڈائریکٹر اور اسکی ٹیم نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بنائی ہے۔
یہ فلم اصل میں اسامہ بن لادن کی کھوج کے موضوع پر بنائی گئی ہے جس کی کہانی ا کثر اصل وڈیوٹیپوں پر مشتمل ہے اور اس میں وہ فوٹیج بھی موجود ہے جو فلم ڈائریکٹر نے شمالی اتحاد کے احمد شاہ مسعود کے کیمپ سے حاصل کی۔ احمد شاہ مسعود نے روسیوں کے ساتھ لڑائی میں اپنے ساتھ جہاں بہت سے بندوقچی رکھے ہوئے تھے ، وہاں ایک فوٹوگرافر یوسف بھی رکھا ہوا تھا۔ صحافیوں کا بہروپ دھارے حملہ آوروں کےہاتھوں کیمروں کے بیچ مارے جانے والے احمد شاہ مسعود نے اپنے شمالی اتحاد کے ہیڈ کوارٹرز میں ایک سٹوڈیو بھی قائم کیا ہوا تھا۔ فلم کے ڈائریکٹر کو ایک جگہ شمالی اتحاد کا ایک جنگجو بتاتا ہے ’ تورابورا کے محاذ جنگ کے اگلے مورچوں سے اس نے خود گھڑ سوار اسامہ بن لادن کو اپنے ایک ہزار کے قریب مسلح محافظوں کے ساتھ پاکستانی سرحدوں کے اندر پہاڑوں میں فرار ہوتے ہوئے دیکھا۔ فلم میں ایک کردار افغان شخص مرکزی ایکٹر کو بتاتا ہے ’ایسے کئی مواقع آئے جب اسامہ کو گرفتار یا ہلاک کیا جا سکتا تھا لیکن امریکیوں نے خود ہی نہیں کیا۔ ایسا لگتا ھے امریکہ اسامہ کو گرفتار کرنا ہی نہیں چاہتا۔‘ اڑتے میزائلوں اور قبائلی عسکریت پسندوں کے درمیان دوبدو لڑائي کے بیچ بنائی جانے والی اس فلم کے ڈائریکٹر نے امریکی میڈیا کو اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسکی کچھ ٹیپیں امریکی فوج نے قومی سلامتی کو خطرہ گردان کر ضبط کر لی تھیں- پاکستانی فوج نے قبائلی عسکریت پسندوں کو انہی کی’ مہمان‘ القاعدہ کا ’قرض حسنہ‘ ادا کرنے کیلیے بھاری رقم ادا کی ہے بالکل ایسے جیسے گذشتہ دنوں سندھ کی حکومت نے ڈاکوؤں کو تاوان اد کر کے اغواشدہ جج آزاد کرائے- ’یہ منصف بھی تو قیدی ہیں ہمیں انصاف کیا دیں گے‘۔ فاٹا کے ممبران اسمبلی اور بینظیر بھٹو کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک سے لیکر سٹنگر میزائیلوں کی واپس خریداری تک افواجِ ارض پاک نے کیسا بازار مصر سجایا ہوا ہے۔ کاش پاک فوج اس ملک پر چڑھے ہوئے قرض کا بھی سوچتی جس میں پاکستان کے وہ بچے بھی قرضئی ہیں جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے اور یہ ملک اور عوام ان |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||