جمہوریت کا ’میزائل‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بینظیر بھٹو اور ان کی پاکستان پیپلزپارٹی کی ’اعتدال پسندی‘ کی ایک مثال یہ ہے کہ مئی انیس سو اٹھانوے میں ہندوستان کی طرف سے نیوکلیئر دھماکہ کرنے کے چند دنوں بعد حیدرآباد سندھ میں حزبِ مخالف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بینظیر بھٹو نے ایک جلسۂ عام میں اپنی تقریر کے دوران اس وقت کے وزیرِاعظم نواز شریف کو تب تک بھارت کے جواب میں نیوکليئر تجرباتي دھماکہ نہ کرنے کا ’طعنہ‘ دیتے ہوئے انہیں (نواز شریف کو) ’چوڑیوں کا تحفہ‘ بھیجنے کی بات کی تھی۔ یہ بینظیر بھٹو کی نہ فقط اپنی سول اور فوجی آمریتوں کے خلاف بہادرانہ وار لڑائیوں کی نفی تھی بلکہ خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کو بھی شہ تھی۔ پیپلز پارٹی اور اسکی چیئر پرسن آج تک احمدیوں کو’غیر مسلم اقلیت‘ قرار دلوانے اور پاکستانی نیوکلیئر صلاحیت کا سہرا بڑے بھٹو کے سر باندھا کرتی ہیں- اس کے کچھ دنوں بعد پاکستان نے چاغی (بلوچستان) میں نیوکلیئر دھماکہ کر ہی ڈالا۔ چاغی میں نیوکلیئر دھماکے کی یہ خبر خود بلوچستان کے اس وقت کے وزیر اعلی اختر مینگل نے بھی ریڈیو پر سنی۔ کہتے ہیں پاکستان کے نیوکلیئر دھماکے کی اگر کسی کو کانوں کان خبر تھی تو وہ ایک اخبار کے مالکان کو تھی۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں نواز شریف کی حکومت تھی اور پیپلز پارٹی تب سے آج تک ایک ’احتساب‘ سے گزر رہی تھی۔ کبھی سیف الرحمان کی نیب کے ہاتھوں تو کبھی جنریلی ’احتساب‘ کے ہاتھوں۔ 'پھر دور بدلا اور یہ وقت کی بات ہے'۔ وہی فوج ہے، وہی بینظیر بھٹو اور نواز شریف ہیں اور مکا لمے اور مفاہمت کی بات ہے۔ اعتدال اور ٹھہراؤ کی باتیں ہیں۔ وہی جنرل پرویز مشرف جو کل تک بینظیراور نوازشریف کو ملک میں کسی صورت واپس نہ آنے دینے کی بات کرتے تھے اب بقول شخصے ’مبہم اور ملے جلے‘ اشارے دے رہے ہیں۔ نجانے کیسے بینظیر بھٹو اور نواز شریف سے بھی پہلے ان سیاسی دکانداروں اور آڑھتیوں کو جنہیں سندھی میں ’جھیل کے پرندے کبھی اس طرف کبھی اس طرف‘ کہا جاتا ہے پتہ چل جاتا ہے کہ ملکی بساط پر بازی بدل رہی ہے اور وہ نو مسلم لیگیے اور نو پیپلیے یا شیخ مسلم لیگیے یا شیخ پیپلیے بنے پھر رہے ہیں۔ انہی وقتوں پر ہی حبیب جالب نے کہا تھا: سدا ہے اوج پر دیکھا مقدر ان ادیبوں کا اس پیپلز پارٹی کے دن پورے ہوتے دکھائی دیتے ہیں جو جب اقتدار میں ہوتی تھی تو اسکے جیالے گورنر یا چیف منسٹر ہاؤس میں میزیں الٹاتے نظر آتے تھے اور جب حزب اختلاف میں ہوتی تو لیاری کی بلوچ عورتیں سٹی کورٹس کے لاک اپ کے پولیس والوں کو گالیاں دیتی دکھائی دیتیں۔ انہی کیلیے پیپلز پارٹی کے صفدر ہمدانی نے کہا تھا کہ’جیالے ایک فرقہ ہیں‘ مگر اب زمانہ اور ہے۔ واشنگٹن میں پی پی پی امریکہ کے ایک عہدیدار نے مجھ سے کہا ’ہمیں ایسے لوگ چاہیے ہیں جو الیکشن لڑ سکیں اور پارٹی کے الیکشن اخراجات بھی برداشت کرسکیں‘۔ ان کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ ایسا پیسہ کن ذرائع سے آیا ہوگا۔ رشوت ستانی سے یا محنت کشوں کے بیگار کیمپوں سے۔ سندھ میں ہاریوں کے بیگار کیمپ چلانے والے حکومتی چاہے پیپلز پارٹی سے ہوں یا حزبِ مخالف کی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے، ایک دوسرے سے ’ہاریوں کا تبادلہ‘ کرتے رہتے تھے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ آپ جب کبھی بازارمیں ایک دکان پر سے خریداری کا ارادہ ترک کر کے گلی کےاگلےموڑ والی دوسری دوکان پر چڑھے ہوں گے تو آپ کو لگا ہوگا کہ اصل میں تو یہ دونوں دکانیں ایک ہی کمپنی کی ہیں اور ان کا بظاہر الگ محل وقوع تو گاہک کو پھانسنے والے فلسفے پر بنا ہوا ہے۔ یعنی کہ گاہک اگر ایک دوکان سے بغیر خریداری نکل بھی جائے تو دوسری دکان پر سے جانے نہ پائے۔پاکستان کی ریاستی اور سیاسی دوکانداری میں بھی عوام کے ساتھ یہی کچھ ہوا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور پھر مسلم لیگ اسٹیبلشمنٹ کے بطن سے اور اسٹیبلشمنٹ پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل نون (پاکستان مسلم لیگ نواز شریف) کی ہی پسلیوں سے بنی ہوئی ہیں اور یہ گھن چکر پاکستان میں گذشتہ چار دہائيوں سے جاری و ساری ہے۔ ایوب خان کو ڈیڈی کہنے والے بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی بنائی جس کے کارکنوں نے ایوب خانی آمریت کے خلاف تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ پھر اسی بھٹو اور پیپلز پارٹی نے شیخ مجیب الرحمنٰ کی عوامی لیگ کے بھاری اکثریتی مینڈیٹ کو فوجی بوٹوں تلے روندے جانے میں یحییٰ خان اور اس کے فوجی ٹولے کا ساتھ دے کر باقی ماندہ پاکستان کو ’قائدِ عوام‘ کا پاکستان بنایا۔ تب راولپنڈی کے عوام کی نظر میں پیپلز پارٹی فوج کی فطری اتحادی اور شیخ مجیب الرحمنٰ کی عوامی لیگ کی نسبت ایک ’اعتدال پسند‘ پارٹی تھی۔ پھر اسی بھٹو کی بری فوج کے سربراہ کے لیے نظرِانتخاب جنرل ضیاءالحق پر ٹھہری اور آپ نے دیکھا کہ پیپلز پارٹی نے کس طرح اپنے بطن سےاپنا اور جمہوریت کا دشمن پیدا کیا۔ وہی جام صادق جیسا جیالا اور وہی ’جیالوں کیلیے جلاد‘ جام صادق علی۔ پھر اسی طرح نواز شریف کی نظر انتخاب جنرل مشرف پر پڑی۔ انہی کے ہاتھوں نواز شریف کی شاھی کا خاتمہ ہوا۔ جنرل کے احتساب کا نعرہ زیادہ تر انتقام ميں بدل گیا- نواز اور شہباز شریف اور بینظیر بھٹو اور آصف زرداری تو پاکستانی عوام کی دولت سے مردان و خاتون میڈاس ٹھہرے کہ جس نے جس چیز کو ہاتھ لگایا سونا ہوگیا۔ بینظیر بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی ہو کہ نواز شریف کی مسلم لیگ یا پھرفوج اصل میں ایک ہی کمپنی کی دکانیں ہیں۔ اور رہے مذہبی انتہا پسند اور کئی قوم پرست تو وہ بھی اسی کمپنی کے چھوٹے بڑے ’وینچرز‘ ہی ہیں۔ اعتدال اور افہام و تفہیم محض ’میوزیکل چیئر‘ کے اقتداری کھیل اور عوام اور خطے میں دلچسپی رکھنے والی مغربی طاقتوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ہے۔ نواز شریف سے جب مصر کے صدر حسنی مبارک نے پشاور میں عسکریت پسند بنیاد پرستوں کے کیمپوں کی موجودگی کی شکایت کی تھی اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا تھا تو نواز شریف نے کہا تھا کہ یہ ان کے بس میں نہيں جس پر مصری صدر نے انہیں کہا تھا کہ پھر وہ مصری فوج کو پشاور میں ان کیمپوں کیخلاف کاروائی کرنے کی اجازت دیں اور پھر چار و نا چار نواز شریف حکومت کو کاروائی کی ’خانہ پری‘ کرنی پڑی تھی۔ جنرل پرویز مشرف آنے والے دنوں میں پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر بشمول پیپلز پارٹی روشن خیال پارٹیوں کے چھا جانے کی بات کرتے ہیں جسے گزشتہ دنوں لاس اینجلس میں ایک تقریب میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر سابق پاکستانی آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت ’ملٹری گائیڈڈ ڈیموکریسی‘ کہہ رہے تھے۔ گویا کہ جمہوریت کسی قسم کا کوئی میزائل ہو جسے چلانے کیلیے ملٹری کی مہارت و رہنمائی چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||